کورونا کی تیسیری لہر نے سوات کے ہوٹلز انڈسٹری کو ناقابل تلافی نقصان ہہنچایا ہے ۔ پچھلے سال مارچ سے اگست تک لاک ڈاؤن کی وجہ سے ساڑھے نو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔
حالیہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اس کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے سروے کیا جائے گا۔

آل سوات ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر الحاج زاہد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے لاک ڈاؤن ختم کردیا لیکن سیاحت میں پھر بھی لاک ڈاؤن برقرار رکھا جو اس فیلڈ سے وابستہ لاکھوں افراد کے ساتھ انتہائی ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیمار افراد سیاحت کے لئے نہیں جاتے۔ جو سیاح کسی سیاحتی مقامات پر جاتے ہیں، تو اپنی گاڑی میں جاتے ہیں اور ہوٹل میں بھی اکیلے رہتے ہیں۔

سیاحتی مقامات پر ان کے جاننے والے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا میل ملاپ بھی کسی سے نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے سے بالواسطہ یا بلاواسطہ لوگوں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے حد نقصان ہوا ہے۔ ہزاروں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کا ازالہ کریں۔

سوات میں سیاحتی علاقوں کی روزمرہ امدن ان ہی سیاحوں کی امد پر ہیں اگر سیاح کالام ۔مالم جبہ کا رخ کرینگے تو ان سیاحوں سے مقامی لوگوں کی امد وابستہ ہے ۔اگر سیاحوں پر پابندی ہوگی تو ان معاش کو بری طرح نقصان پہنچے گا ۔
عید الفطر پر سوات میں سیاحوں کی چار ہزار سے زائد گاڑیوں کو داخلی راستوں سے واپس بھیج دیا۔گیا ہے۔ پولیس کے مطابق عید کے ایک ہفتہ۔تک جاری لاک ڈاون کی وجہ سے چیک پوسٹوں پر سختی کی گئی لیکن جیسے ہی لاک ڈاون ختم ہوا۔ تو ایک لاکھ کے قریب چھوٹی بڑی گاڑیاں سوات میں داخل ہوئی ہے۔

وادی سوات میں چند مہینوں کی سیاحتی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد اب دوبارہ گزشتہ ایک مہینے سے بند یے ۔ خدشہ ہے کہ اگر سیاحت پر سے پابندی نہ اٹھائہ گئی تو پچھلے سال کی نسبت اس سال نقصان زیادہ ہوگا ۔
2,612 total views, no views today



