پشاور(سوات نیوز)صوبائ صدر پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختونخواہ انجینئر امیر مقام کا صوبائ حکومت کیطرف سے سوات میں رجسٹری اور انتقال شدہ املاک کو مسمار کرنے کے حوالے سے آپریشن پر رد عمل سامنے ایاہے۔
امیرمقام نے کہا ہے کہ سوات میں کروڑوں روپے سے صوبائ حکومت کیطرف سے قانونی طور پر رجسٹری اور انتقالی خریدی ہوئ املاک کو مسمار کرانا ظلم کی انتہا ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے والی حکومت نوکریاں تو نہ دے سکی لیکن غریب عوام کے قانونی اور کروڑوں روپوں سے خریدی ہوئ املاک کو مسمار کرکے انکا رزق چھیننا چاہتی ہے ۔ امیر مقام نے کہاہے کہ تجاوزات اور ملکیت میں فرق ہے، امیر مقام نے کہاہے کہ تجاوزات گرانا قابل تعریف لیکن ملکیت مسمار کرانا ظلم کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گر کسی کے ساتھ ثبوت نہ ہو اور سرکاری املاک پر قبضہ کیا ہو تو فورا مسمار کرلینی چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے عدلیہ کے فیصلوں کو پس پشت ڈال کر قانونی تقاضے پورے نہیں کئے۔ بغیر ثبوت مانگے، بغیر کسی پیشگی نوٹس کے کروڑوں روپوں سے خریدی ہوئ اراضیات کو صوبائی حکومت اور اس کی انتظامیہ حکومتی جبر سے املاک کو مسمار کرانا سمجھ ستمے بالا تر ہے۔گر املاک واقعی غیر قانونی تھی تو رجسٹری اور انتقالوں پر کروڑوں کے ٹیکس کیوں لیئے گئے۔ امیرمقام نےکہا کہ ہم بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیئے بغیر لوگوں کو نقصان دیا ہے، حکومت اس کی حق تلفی کے نقصانات کا معاضہ دیں۔عدلیہ سے بھرپور انصاف کی فراہمی کا توقع رکھتے ہیں۔
751 total views, no views today



