وطن عزیز میں گزشتہ چند عشروں سے پولیس اور فوج پر مسلسل کام کی زیادتی کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پہلا ہدف پولیس اور دوسرا ہدف فوج ہوتی ہے۔ اس کی بڑی اور غیر متنازعہ وجہ حکومت کے باقی ماندہ محکموں میں اکثر کی کم اہلیت یا نا اہلیت یا عمداً فرایض منصبی سے بہ وجوہ غفلت اور چشم پوشیاں ہوتی ہے۔ ان محکموں کے بعض افراد میں بد دیانتی یا نالایقی بھی ان محکموں کی کارکردگی کومتاثر کرتی ہے۔ اس طرح خود غرض افراد کی طرف سے سفارش کا حربہ بھی کارکردگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اگر محکمۂ صحت اور محکمۂ خزانہ کی غفلت کی وجہ سے نرسوں جیسا بے ضرر طبقہ مجبور ہوکر اپنی تن خواہوں کی ادائیگی کے لیے جلوس نکالتا ہے، تو پولیس کو ’’ڈانگ‘‘ پکڑا کر اُن کے پیچھے روانہ کیا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر اپنی تن خواہوں اور مراعات کے لیے جلوس نکالتے ہیں یا اساتذہ اپنے مسایل کی وجہ سے سڑکوں پر آتے ہیں، تو ان کو بھگانے کے لیے پولیس کو حکم ملتا ہے۔ سڑکوں پر بلدیاتی کم زوریوں کی وجہ سے منھ زور تاجر تجاوزات بناتے ہیں، تو پولیس کو کہا جاتا ہے۔ خود غرض اور لالچی لوگ پولیس میں اپنوں کو تلاش کرنے کے لیے رشوت، سفارش، دوستی اور شراکت داری کے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ چند ہفتے قبل پشاور کے ایک بڑے اخبار نے اپنے اداریہ میں پولیس والوں کو ٹرانسپورٹروں کی شکل میں آشکارا کیا تھا اور اُن کو ایک لاکھ گاڑیوں کا مالک بتایا تھا۔ یہ کام ٹرانسپورٹر حضرات ہی نے کروایا کہ پولیس کو شریک کاروبار بناؤ اور ہر قسم کی من مانیاں کرو۔ چند ماہ قبل سوات سے ایک اچھے پولیس افسرکا تبادلہ ہوا۔ عوام میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ ایک نڈر اور قانون پسند افسر تھا۔ اس لیے سوات کی ’’اشرافیہ‘‘ نے اُس کا تبادلہ کروادیا۔ مجرم لوگ مقدمات کے فیصلے اپنے حق میں کروانے کے لیے پولیس پر ہر قسم کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ جرایم پیشہ لوگوں کے حملے بھی سب سے پہلے پولیس کی کارکردگی پر ہوتے ہیں اور اب تو پہلی گولی پولیس کا جوان اپنے سینے پر روکتا ہے۔ اس طرح بے شمار اطراف سے پولیس، خود غرض یا نا اہل یا بددیانت افراد کا نشانہ بنتی ہے بلکہ محکمۂ صحت و محکمۂ تعلیم جیسے بڑے محکمے اپنی نا اہلیتوں اور کاروباری بد دیانتوں کا شکار ہونے کی وجہ سے ایک مردہ قوم بن گئے ہیں۔ دین اسلام اجتماعی فلاح و بہبود چاہتا ہے، جو سچائی کے لیے قربانی، خود نیکی کرنے اور دوسروں کو نیکی کی طرف مایل کرنے، خود برائی سے بچنے اور دوسروں کو برائیوں سے بچانے اور قانون کی پاس داری کرنے کی دعوت دیتا ہے لیکن ’’دین داروں‘‘ نے اسے پوجا پاٹ تک محدود کردیا ہے۔ اسلام کی اجتماعیت کو ختم کرکے اسے ذات کے فایدہ کے لیے محدود کردیا ہے۔ چند ماہ قبل صوبائی محکمۂ پولیس نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ صوبہ میں زیادہ تر جرایم سودی کاروبار کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ عوام کو سود اور اس کی مختلف اشکال پر تعلیم نہیں دی جاتی۔ عوام کی مؤثر تعلیم و تربیت محراب و منبر سے ممکن اور مؤثر ہے لیکن وہاں بہت محدود اور صدیوں پرانی باتوں کی تکرار ہوتی ہے۔ زیادہ تر گفت گو نماز اور اس کی ضروریات سے متعلق ہوتی ہے جب کہ سود کے بارے میں جو کچھ ہم نے سنا ہے کہ سود حرام اور بیع حلال ہے۔ اب ہمارایہ بھی مشاہدہ ہے کہ بیع کے نام پر ہی سود کیا جاتا ہے۔ اگر عوام کی درست انداز میں تربیت ہوتی، تو مضاربہ اسکینڈل میں دین دار لوگوں کے نام نہ آتے۔ عوام کی درست تر بیت کے لیے صاحبان محراب و منبر، میڈیا اور مدرس کی درست تربیت ضروری ہے۔ پولیس غالباً وہ محکمہ ہے جو پچانوے فی صد دوسرے محکموں کی کم زوریوں سے متاثر ہوتا ہے۔ تقریباً ہر محکمہ کے لیے قوانین اور قواعد موجود ہیں۔ ہر محکمہ کے لیے ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ ملازمین موجود ہیں۔ ہر محکمہ کو کماحقہ بجٹ اور فنڈ مہیا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں مقابلہ کے امتحانات کے ذریعے افسر بننے والوں کی دیدہ دانستہ حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور دفاتر اور محکمے، سرداری کے خواص سے عاری افراد سے بھروائے گئے ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے رشوت اور سفارش پر تعینات ملازمین کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ عمران خان کا ’’نعرۂ شفافیت‘‘ بھی اب دم توڑ رہا ہے۔ کئی ایک محکموں میں کلاس فور اور کلاس تھری ملازمین کی متعلقہ ایم پی ایز یا ان کے لاڈلوں کی سفارش پر بھرتی ہونے کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو اپنی توجہ اس طرف مبذول کرانی چاہیے، جس طرح دوسرے محکمے سفارش، رشوت اور کمیشن مافیاز نے متاثر کیے ہیں، محکمہ پولیس بھی ان کا شکار ہے۔ محکمہ پولیس کے لیے اسلحہ خریداری کا حالیہ منکشف اسکینڈل ایک بڑی مثال ہے، جس میں بڑے بڑے سفید پوشوں کے نام آئے ہیں۔ سود کی لعنت کے نتایج کی نشان دہی محکمۂ پولیس نے کی ہے۔ اگر یہ چند سنجیدہ اور ذہین افسران کی کاوش نہ ہو، تو ممکن ہے کہ محکمۂ پولیس نے اچھی پولیسنگ کو متاثر کرنے کے عوامل معلوم کرنے کا کوئی تجزیاتی سیل قایم کیا ہوگا۔ اگر ایسا کوئی تجزیاتی سیل موجود نہ ہو، تو ریگولر پولیس آفیسرز پر مشتمل ایسا سیل صوبائی سطح پر ضرور قایم کیا جائے جو حکومت کو اپنی سفارشات برائے قانون سازی اور عمدہ حکم رانی پیش کیا کرے اور اُن خرابیوں کی نشان دہی کیا کرے جو بے چینی اور جرایم کا سبب بنتی ہوں۔ البتہ ایک المیہ پھر بھی آڑے آئے گا، اور وہ صوبائی اور مرکزی دونوں سیکرٹریٹس میں وہی نا اہل افرادی قوت کا مسئلہ!
فوج کی طرح پولیس بھی ایک مؤثر ادارہ ہے۔ اس کی سفارشات سے نہ حکومت انکار کرسکتی ہے، نہ مقننہ اور نہ عام اداروں کے سر براہان۔ حتیٰ کہ عام سرکاری اور بلدیاتی ملازمین بھی ان دونوں محکموں کی ہدایت کو نظر انداز نہیں کرتے۔ اگر پولیس کا محکمہ اپنے شعبۂ مخبری کا کچھ حصہ سرکاری محکموں میں رولز ریگولیشنز کی خلاف ورزیوں کی طرف بھی مرکوز کرکے متعلقہ سیکرٹریز کی مدد کرے، تو محکمۂ پولیس پر بوجھ کم اور اس کی استعداد بڑھ جائے گی۔ اس اقدام پر اضافی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ اس طرح اگر محکمۂ پولیس صوبائی چیف سیکرٹری کو یہ سمجھا سکا کہ ہر چھوٹے بڑے سربراہِ محکمہ یا دفتر اپنے محکمہ کا حقیقی نگران ہونا چاہیے، وہ مسلسل اپنے ما تحت افراد کی کارکردگی پر نظر رکھا کرے اور بہتری لانے کی ہمہ وقت کوشش کیا کرے۔ چیف سیکرٹری صاحب (موجودہ کا مجھے علم نہیں البتہ گزشتہ حضرت کو بھی ہم نے رولز ریگولیشنز کی پابندی ما تحت محکموں اور دفاتر سے کرواتے نہیں دیکھا۔ وہی لکیر کے فقیر والی باتیں تھیں) کی بات میں نے اس لیے کی کہ سیکرٹریٹ کے اندر اعلیٰ صلاحیتیں موجود نہیں۔ سیکشن آفیسرز میں سے بہت تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر زیادہ تر بہت اچھے کلرکس اور اسٹینوز ہیں۔ محکمۂ پولیس میں خود پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آنے والے انسپکٹرز، ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ اس طرح اس محکمہ کے اندر دفتری امور کے نظام میں کافی سست روی ہے۔ میرے ایک جاننے والے کا پولیس انسپکٹر والد صاحب دوران ملازمت فوت ہوگیا اور اُس کی ماں کو فیملی پنشن شروع ہونے میں چھ مہینے لگے۔
بہتر پولیس خدمات کے لیے ضروری ہے کہ ہر سرکاری محکمہ اپنے اپنے رولز کی حکم رانی کو یقینی بنائے۔ یونین ازم کو سختی کے ساتھ اصول اور شرافت کے اندر رکھا جائے۔ یہاں مینگورہ سوات میں کئی بار پولیس کے اچھے اور عمدہ اقدامات کو مختلف یونینز اور فیڈریشنز نے ناکام بنا دیا ہے۔ یہاں کسی پولیس آفیسر نے قانون کی حکم رانی کے لیے کوشش کی، وہاں ان حلقوں یا افراد نے احتجاج کیا، ایک آدھ جلوس نکالا یا پریس کانفرنس کی، وہاں پولیس محکمہ نے اپنے لوگوں کے پیچھے ’’ڈانگ‘‘ اُٹھایا اور اُن کو خود پسپا کروادیا۔ محکمۂ پولیس کے حکام اپنے ملازمین کو خود غرض، فریبی اور چاپلوس افراد کے مکر و فریب اور خودغرضیوں سے بچایا کریں۔ البتہ ان کی کارکردگی اور اخلاق و کردار پر بھی سخت نظر رکھا کریں۔ کسی بھی وقوعہ کی رپورٹ درج کرتے یا ایکشن لیتے وقت اُس معاملہ کے ذمہ دار یا ملوث محکمہ کے اعلیٰ افسر کو بھی مطلوب قرار دیا کریں۔ کیوں کہ زیادہ تر مسایل محکموں کی خر مستیوں، چشم پوشیوں یا کرپشن کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔
758 total views, no views today


