دورِ جدید میں ادب و احترام کی قدریں بدل چکی ہیں۔ اس کے اپنے تقاضے ہیں۔ رعونت، مال اور عہدہ کی وجہ سے اکثریت با ادب ہونے پہ اُن کے سامنے مجبور رہتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں، تو مدمقابل مال دار، عہدہ دار اور پھر غرور ہستی اُسے رسوا کرسکتی ہے اور اس رسوائی میں دیر بھی نہیں لگتی۔ جسے اللہ نے عزت دولت اور عہدہ دیا ہو، اس کو عزت و احترام دینا چاہیے مگر ایک حد تک۔ حد سے بڑھ کر ادب و احترام کسی اور جذبہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ وہ ادب و احترام نہیں رہتا۔ اور وہ جذبہ کچھ اتنا عزت افزا بھی نہیں ہوتا کہ جس کی وجہ سے محترم ہوا جائے۔ کسی نے جل کر کسی شدید جذبے کے تحت کہہ دیا تھا کہ ’’افسر کے آگے اور گھوڑے کے پیچھے کبھی نہیں چلنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو تو کہ ۔۔۔‘‘
خیر، کسی کے خیالات پہ پابندی تو نہیں لگائی جاسکتی لیکن اگر ہم سے پوچھا جائے، تو ہم اس قول کے حق میں نہیں ہیں، اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمیں جو ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اُسے ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں یا پھر سرے سے ذمہ داری نبھانے کا ذمہ ہی نہیں لیتے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم دو ٹوک بات کرنے کے عادی ہیں۔ خواہ نفع ہو یا ہماری بات کو براجان کر کوئی متعلقہ شخص باعث نقصان ہی کیوں نہ بن جائے۔ تیسری اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہم بے روزگار ہونے سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوئے کہ ہمیں ملازمت سے بے دخل کردیا جائے گا، تو ہم خدا نہ خواستہ مشکل میں پڑجائیں گے یا پھر روٹی کے لالے پڑجائیں گے۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ ہم نے افسر کی افسری سے خوف زدہ ہوکر کبھی پیچھے چلنے کو ترجیح نہیں دی اور نہ ہی آگے گزر جانے سے گریز کیا۔
اگر گھوڑے کی بات کی جائے، تو گھوڑے سے کبھی واسطہ نہیں پڑا کہ اُس کے پیچھے سے چلنا چاہیے یا نہیں۔
کچھ لوگوں نے یہ بات کہہ رکھی ہے کہ ’’باس اِز آلویز رایٹ۔‘‘ یہ بات درست ہو، پتھر پہ لکیر ہو یا یک سر غلط ہو، مگر اس نے مجھے ذہنی اور محسوساتی طور پہ کئی مرتبہ اذیت سے ہمک نار ضرور کیا۔ اس احساس نے مجھے کئی مرتبہ پیچھے کی طرف دھکیلا ہے کہ چند روپوں کے عوض عزت نفس کا سودا کرچکا ہوں جب کہ یہ ایک منفی احساس تھا۔ کیوں کہ بجائے کمانے کے ہاتھ پھیلانا بہت بری بات ہے۔ خیر، کچھ بھی ہو ہمیں یہ قول ناپسند ہے۔ یہ تصور باس اور ملازم کے درمیان میں فاصلہ بڑھاتا ہے جو کہ اتنی اچھی بات بھی نہیں ہے۔
بہ ہر حال بات دورِ جدید کے رایج شدہ ادب واحترام کی ہو رہی تھی، تو یہ اقوال وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھ ترتیب دیئے گئے ہیں اور ان پہ عمل کرنا ہی بہتری کی دلیل ہے یا پھر شاید ابتدائے آفرینش ہی سے مختلف شکلوں میں یہی طریقہ واردات رایج رہا ہے۔
اگر پچھلے زمانہ کے ادب و احترام کی بات کی جائے، تو یہ ضروری نہیں ہے کہ اُس وقت کے لوگ بڑے با ادب اور رحم دل تھے۔ ہر دور میں ہر قسم کے لوگ موجود رہے۔ اسی طرح اگر گزرے ہوئے وقت کی بات کی جائے، تو بڑے بڑے فرعون، نمرود، ہلاکو، چنگیز، ہٹلر اور بے شمار ظالمین سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ اگر اس دور کے ظالمین کی بات کرنا ہو، تو اب اس وقت لوگ کافی حد تک سر بھرے ہوئے، سمجھ دار، با عمل اور باصلاحیت تعلیم یافتہ ہیں۔ ظالمین بے شک موجود ہوں گے مگر کم تعداد میں ہوں گے، لہٰذا گزرے ہوئے زمانہ ہی کو اچھا سمجھنا اور موجودہ دور کو برا سمجھنا بھی نا انصافی کے برابر ہے۔ کیوں کہ دنیا میزان کے تحت قایم و دایم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ذریعہ آباد کررکھا ہے۔
الغرض ہر دور میں اچھے برے لوگ موجود رہے ہیں۔ ہر دور کے ادب و احترام کے تقاضے بھی مختلف رہے ہوں گے۔ کچھ لوگ ماتھا زمین پہ رکھ کر آداب بجا لاتے تھے، تو کچھ شاہوں کے درباروں میں رکوع کی حالت میں آداب بجا لاتے رہے۔ کچھ لوگ دونوں ہاتھ جوڑ کر آداب کرتے رہے۔ اب اگر غور کیا جائے، تو ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کسی ما تحت کے سلام کا جواب دینا تو بڑی بات ہے ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں کرتے۔
کچھ لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو صرف اور صرف دوسروں سے سلام کی توقع رکھتے ہیں۔ خود کسی کو سلام کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ہاتھ ملانا تو دور کی بات ہے کچھ لوگ صرف اُنگلی اُٹھا کر سلام کا جواب دینے پہ اکتفا کرتے ہیں۔ دراصل یہ تقاضائے جدت ہی ہے۔ قدیم و جدید میں کوئی نہ کوئی فرق تو ضرور ہونا چاہیے۔ انفرادیت بھی کوئی چیز ہے۔ اسی انفرادیت کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ لوگ جان توڑ کوشش کرتے ہیں اور کچھ فطری طور پہ منفرد ہوتے ہیں۔
947 total views, no views today


