لاہور: 2 ون ڈے ہارتے ہی قومی کوچ اور پلیئرز کے ’’راز‘‘ کھلنے لگے، تنخواہوں اور دیگر مراعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔
وقار یونس بطور کوچ بورڈ سے ڈیڑھ کروڑ روپے وصول کرنے کے باوجود تاحال ٹیم کو کوئی ون ڈے سیریز نہیں جتوا سکے، ان کی ماہانہ تنخواہ 15ہزار امریکی ڈالرز بتائی گئی ہے، چیف سلیکٹر معین خان کوئی اہم کام کیے بغیرہر ماہ ساڑھے3 لاکھ روپے حاصل کرتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اور آفیشلز میدانوں میں کامیابی حاصل کریں یا شکستوں کا سامنا ہو، ان کے خزانے بھرنے کا سلسلہ کبھی نہیں رکتا، بورڈ کی جانب سے مراعات کے ساتھ بھاری تنخواہیں بھی ملتی ہیں۔
پی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے معلومات فراہم کی گئیں، اے کیٹیگری میں شامل کپتان مصباح الحق، شاہد آفریدی، محمد حفیظ اور یونس خان کو ماہانہ ساڑھے 4لاکھ روپے دیے جاتے ہیں، بی کیٹگری میں جگہ بنانے والے عمراکمل، احمد شہزاد اور عمر گل کی تنخواہ 3 لاکھ 14 ہزار روپے ہے، سی کیٹیگری والوں کو ایک لاکھ 18ہزارجبکہ ڈی کے حامل پلیئرز کو 75ہزار روپے ملتے ہیں، بیرون ملک دورے پر ہونے کی صورت میں 114 امریکی ڈالر یومیہ الاؤنس بھی دیا جاتا ہے جبکہ ملکی میچز میں یہ 5 ہزار روپے ہے، یاد رہے کہ پلیئرز کے معاوضوں کی تفصیلات پہلے بھی شائع کی جا چکی ہیں۔
مزید بتایا گیاکہ ہیڈ کوچ وقار یونس کی تنخواہ 15 ہزار امریکی ڈالرز ہے، یوں وہ اب تک تقریبا ڈیڑھ کروڑ روپے حاصل کرنے کے باوجود ٹیم کو کسی ون ڈے سیریز میں فتح نہیں دلا سکے، بیٹنگ میں ان کے معاون گرانٹ فلاور اور فیلڈنگ کوچ گرانٹ لیوڈن کو 6ہزار666ڈالرز فی کس معاوضہ ملتا ہے، اسپن بولنگ کوچ مشتاق احمد ساڑھے 4لاکھ اور چیف سلیکٹر معین خان ہر ماہ ساڑھے 3لاکھ روپے کا چیک پاتے ہیں،ان کے علاوہ فزیو تھراپسٹ،اسسٹنٹ منیجر، اینالسٹ اور میڈیا منیجر کو بھاری تنخواہوں کے ساتھ یومیہ الاؤنس کی بھی ادائیگی ہوتی ہے۔ وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ امور ریاض حسین پیرزادہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا کہ ٹیم کی کارکردگی بہتر نہ ہونے پر پلیئرز سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔
654 total views, no views today


