قارئین کرام! آج آپ حضرات کے معلوماتِ عامہ کا پہلا پرچہ ہے۔ سارے سوالوں کے نمبر ایک جیسے ہیں، اگر آپ نے تین چوتھائی سوالات کے صحیح جوابات دیئے، تو سمجھیے کہ آپ گریڈ اے ون حاصل کرچکے۔ ہر حکایت کو غور سے پڑھیں اور درج شدہ سوالات کے جوابات دے کر اپنی علمیت کا اندازہ لگائیں۔
حکایت نمبر 1:۔ ایک مچھیرا صبح سویرے دریا پر مچھلی پکڑنے گیا۔ کیوں کہ تازہ اور زندہ مچھلی دریا ہی میں ملتی ہے۔ بازاری مچھلی باسی اور بدبودار ہوتی ہے۔ پہلی بار جب اُس نے اپنا پھینکا ہوا جال سمیٹا، تو یہ دیکھ کر اسے بہت مایوسی ہوئی کہ صرف ایک ہی مچھلی پھنس گئی ہے۔ اُس نے دریا کے کنارے ایک درخت کے قریب گڑھا کھودا اور اس میں مچھلی ڈال کر دوبارہ قسمت آزمائی کی۔ آپ حضرات جانتے ہوں گے کہ دریا کے کنارے کھودے ہوئے گڑھے میں خود بہ خود پانی نکل آتا ہے۔ بے چاری مچھلی اُسی گڑھے میں گھومنے لگی اور وہ بھی دایرے کی شکل میں۔ مچھیرا جب جال پھینک ڈالتا اور چند لمحے انتظار کے بعد اُسے لپٹ کر باہر نکالتا، تو وہ خالی ہوتا۔ وہ فوراً گڑھے کی طرف بھاگ کے آتا اور وہاں پر پڑی ہوئی مچھلی کی گردن دبا کر کہتا: ’’تمھیں تو میں چھوڑنے والا نہیں۔‘‘ اسی طرح جال خالی نکالتے اور ہر بار گڑھے والی مچھلی کی گردن دباتے دباتے شام ہوگئی مگر کوئی دوسری مچھلی ہاتھ نہ لگی۔ آخر بار جب وہ گڑھے کے پاس مچھلی کاٹینٹوا دبانے آیا، تو دیکھا کہ وہ بے چاری مرچکی ہے۔ اس نے مردہ مچھلی کو دُم سے پکڑا اور گھر کی راہ لی۔
سوال نمبر 1:۔ مذکورہ مچھلی اور سواتیوں میں کون سی قدر مشترک ہے؟
سوال نمبر 2:۔یہ مچھلی کب پکڑی گئی تھی؟ درجہ ذیل میں کسی ایک پر نشان لگائیں۔ 1969ء، 2007ء یا 2009ء۔
سوال نمبر 3:۔ اگر مچھیرے کے ہاتھ دوسری مچھلی لگتی، تو کیا وہ پہلے والی کا گلہ دبانا چھوڑ دیتا؟
کہانی نمبر 2:۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے (یہ بات نوٹ کرلیں کہ کہانی میں ہمیشہ ایک دفعہ کا ذکر ہوتا ہے، دو دفعہ کانہیں)۔ لہٰذا ایک ہی دفعہ کاذکر ہے کہ ایک دوکان دار اپنے ٹھیے پر بیٹھا گاہکوں کا انتظار کر رہا تھا (واضح رہے کہ دوکان دار صرف گاہک کا انتظار کرتا ہے، محبوب کا نہیں)۔ اتنے میں اُس کا ایک غریب پڑوسی آکر اُس کے پاس بیٹھ گیا۔ یہ شخص محنت مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچہ پورا کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس دن اُسے مزدوری نہ ملی، تو سوچا کہ چلو کچھ وقت دوکان دار کے پاس گزارے۔ وہ آپس میں باتیں کرنے لگے۔ دوکان دار مارکیٹ کی مندی کا رونا رونے لگا اور مزدور کام نہ ملنے کی شکایت کرنے لگا۔ اتنے میں دوکان دار بے چارے کی زور سے ہوا نکل گئی۔ چوں کہ اس معاشرہ میں ایسا ہونا باعث شرمندگی سمجھا جاتا ہے، تو دوکان دار بے چارہ ضلالت کے مارے گم سم بیٹھا رہ گیا۔ غریب مزدور نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے اُس کو تسلی دی اور کہا کہ انسان مجبور اور کم زور ہے۔ شکر کرو کہ آس پاس میرے سوا اور کوئی نہ تھا۔ اور میں کسی کو بتانے والا بھی نہیں۔ آپ تسلی رکھیں یہ بات مجھ تک رہے گی۔ دوکان دار نے اُس کا شکریہ ادا کیا اور کچھ گڑ، چائے وغیرہ باندھ کر اُسے رخصت کیا۔ اگلی صبح جوں ہی دوکان دار نے دُکان کھولی، وہ شخص آدھمکا۔ بیٹھتے ہی انسان کی بے بسی کا راگ الاپنے لگا۔ دوکان دار نے فوراً اسے ضروریات زندگی کی ایک پوٹلی باندھ کر رخصت کیا۔ اب اُس شخص نے مزدوری کی تلاش بھی چھوڑ دی۔ روز صبح آکر دوکان دار کو وہی پرانا گیت سناتا اور وہ بے چارہ مجبوری کے عالم میں اُس کے مطالبات پورے کرتا۔ ایک صبح جب وہ شخص حسب معمول آکر وہی باتیں دہرانے لگا، تو دوکان دار نے ایک زور دار مکا اُس کے منھ پر مارتے ہوئے کہا کہ ’’بس، بہت ہوچکا ایک ’’ٹیز‘‘ کو کمائی کا ذریعہ مت بناؤ، جاؤ محنت مزدوری کرو اور اگر چاہو، تو پورے گاؤں کو بتا دو۔ مجھے کوئی پروا نہیں۔
سوال نمبر 1:۔ کیا سواتیوں سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہوئی تھی؟
سوال نمبر 2:۔ اگر ہوئی، تو کب 1969ء کو، 2007ء کو یا 2009ء کو۔
سوال نمبر3:۔ کیا یوروپ، امریکہ اور اسرائیل کو اُس دوکان دار کی طرح باہر کا راستہ دکھا سکیں گے یا فرضی ہولوکاسٹ کا ہر جانہ دیتے رہیں گے؟
حکایت نمبر 3:۔ ایک پرندے کے سر میں شدید درد ہونے لگا۔ وہ ایک ملا کے پاس سردرد کا تعویز حاصل کرنے گیا۔ ملا نے اسے کہا کہ جس درخت میں تمھارا گھونسلا ہے، اس سے ایک ایسا پتّا لا، جس پر تمھاری بیٹ کا نشان نہ ہو۔ میں اُسی پتے پر تیرے لیے تعویز لکھ دوں گا۔ پرندہ واپس آگیا۔ اُس نے درخت کا ہرپتّا چک کیا مگر کوئی ایسا پتہ نہیں پایا جس پر اُس کی گندگی نہ لگی ہو۔ ناچار ملا کے پاس واپس آکر اُسے ماجرا سنایا۔
ملا نے کہا کم بخت، ایک پتّا ہی تو تعویز کے لیے صاف چھوڑتا۔
سوال نمبر 1:۔ اُس پرندے اور اخبار کے سب ایڈیٹر یا ایک کالم نگار میں کون سی چیز کامن ہے؟
سوال نمبر 2:۔ آپ کے خیال میں ایک کالم نگار یا سب ایڈیٹر کو کیا کرنا چاہیے کہ اُسے تعویز کے لیے ایک صاف پتّا مل جائے؟
838 total views, no views today


