سوات سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ناصر عالم کا کالم بہ عنوان ’’پشتو ثقافت کی تباہی پر علمائے کرام خاموش کیوں ؟‘‘ پڑھ کر ایک واقعہ یاد آیا کہ کسی گاؤں میں مسجد کے قریب ایک میراثی کا گھر تھا۔ مسجد میں لوگ جب نماز عشاء کے لیے کھڑے ہوتے، تو میراثی ڈھول یا بانسری بجانا شروع کر دیتا جس پر تمام نمازی بے حد پریشان تھے، مگر ہر ایک خاموش رہتا جب کہ نماز عشاء کے دوران میں میراثی کا شغل اس طرح جاری رہتا۔ ایک دن کسی نمازی نے پیش امام کو دعا کے دوران میں فرمایش کی کہ امام صاحب اس میراثی سے نجات کے لیے بھی بددعا کی جائے، مگر پیش امام نے اس بات کو نظر انداز کرکے دعا ختم کی۔ اس طرح تین چار روز مسلسل نمازی میراثی کے لیے بددعا کرانے کی فرمایش کرتے رہے اور مولوی صاحب حسب معمول اسے نظر انداز کرتا رہا۔ آخرکار تنگ آکر نمازیوں نے مولوی صاحب سے شکایت کی کہ ہم روز آپ سے میراثی کو بددعا کی درخواست کرتے ہیں اور آپ اسے سن کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ کیا وجہ ہے؟ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ قیامت کے روزاگر اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے کہ مسجد میں آپ سو لوگ موجود رہ کر ایک میراثی کو راہ راست پر لانے کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے اور مجھے اسے تباہ کرنے کے لیے کہتے رہے، تو میں کیا جواب دوں گا؟
ناصر عالم صاحب نے اپنے کالم میں فلموں، ڈراموں اورثقافت کے نام پر دیگر پروگراموں کے ذریعہ پختون ثقافت کی تباہی کی نشان دہی کرکے اپنی ثقافت سے پیار و محبت کا ثبوت پیش کیا ہے جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں، مگر ثقافت کی تباہی روکنے کے لیے علمائے کرام سے کردار ادا کرنے کے مطالبہ سے مجھے اس وجہ سے تھوڑا اختلاف ہے کہ ثقافت کے نام پر فحاشی و عریانی پھیلانے والوں کا راستہ روکنے کے لیے ان نام نہاد تنظیموں کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے جو تہذیب و ثقافت کے نام پر بڑی بڑی تنظیمیں چلا کر خود ثقافت کا گلہ دبانے میں مصروف ہیں۔ اس سلسلہ میں مختلف این جی اوز کے علاوہ تمام ادبی تنظیمیں بھی پشتون ثقافت کی ترویج و ترقی کے دعوے کرتی ہیں مگر عملی طور پر ثقافت کی تباہی کا راستہ روکنے میں ان کا کوئی کردار نظر نہیںآتا جو کہ قابل مذمت ہے۔ پختون ثقافت کے نام پر فلموں، سی ڈی ڈراموں، اسٹیج شوز اور دیگر تقریبات میں پختون ثقافت کا جس طرح جنازہ نکالا جاتا ہے، اس کا تفصیلی ذکر ناصر عالم نے اپنے کالم میں کیا ہے۔ پختون ثقافت کے دفاع اور درستگی کی ذمہ داری کسی خاص تنظیم، گروہ یا قبیلہ یا خاندان کی نہیں بلکہ ہر پختون کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی ثقافت کی حفاظت کے لیے اُٹھ کر خودکردار ادا کرے۔ یہ کردار ہم کیسے ادا کرسکتے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں اپنے اپنے فیلڈ میں دیکھنا ہوگا، سب سے پہلے تو اخبارات و رسایل میں شوبز کے انچارج اور ایڈیٹر صاحبان ان اداکاروں اور گلوکاروں کی خبریں بیانات اور تصاویر شایع کرنے سے بائیکاٹ کردیں جو پختوں ثقافت کے نام پر فحاشی و عریانی کو ترویج دے رہے ہیں۔ کلچر جرنلسٹس فورم میں شامل زیادہ تر ممبران اور عہدہ داروں کا تعلق شوبز صفحات سے ہے۔ اگر وہ خود یہ طریقۂ کار اختیار کریں، تو ان نام نہاد اداکاروں اور فن کاروں کا راستہ آسانی سے روکا جاسکتا ہے۔ میرا کلچرجرنلسٹس فورم کے صوبائی صدر احتشام الحق طورو سے بھی یہی مطالبہ ہے کہ وہ شوبز صفحات میں ان تمام اداکاروں اور اداکاراؤں کے بیانات، انٹرویوز اور تصاویر کی اشاعت سے بائیکاٹ میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس وقت جو اداکار پختون ثقافت کو غلط طور پر پیش کررہے ہیں، ان میں نمایاں جہانگیر خان، شاہ سوار، ارباز خان، ببرک شاہ سمیت بعض گلوکارائیں بھی شامل ہیں جن کے نام مجھے معلوم نہیں۔ کیوں کہ ان کی اکثریت دوسرے صوبوں کے کنجرخانوں سے ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو پختون ثقافت کی حقیقی ترجمانی پرمجبور کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہم اپنے اپنے علاقہ کے کیبل آپریٹرز کو ایک ٹیلی فون کال کرکے اس بات پر تیار کرسکتے ہیں کہ وہ پختون ثقافت کے نام پر بننے والے بے ہودہ اور فحش گانوں، ڈراموں اور اسٹیج شوز کو کیبل پر نہ چلائیں۔ ہم مارکیٹ میں میوزک سنٹر والوں کو بھی اچھی طرح کنونس کرسکتے ہیں کہ بے ہودگی پھیلانے والوں کی کیسٹ اور سی ڈیز کی فروخت سے گریز کریں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ فحاشی و عریانی پر مبنی ان سی ڈی ڈراموں، گانوں اور اسٹیج شوز کی خریداری سے گریز کریں۔ موبایل سیٹس میں گانے اور دیگر ویڈیوزلوڈ کرنے والے ڈیلروں سے بھی گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ موبایل میں پختون ثقافت کو بدنام کرنے والے فلموں اور ڈراموں کو لوڈ کرنے سے اجتناب کریں۔ تاکہ ہر طرف سے بے ہودگی پھیلانے والوں کا راستہ روک کر ہم ا پنی ثقافت کو بچانے میں کردار ادا کر سکیں۔
میری یہ بھی امید ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت سے محبت رکھنے والا ہر کوئی دن میں اگر ایک بندہ کو بھی ثقافت کے نام پر فحاشی پھیلانے کے خلاف کنونس کرنا شروع کرے، تو بہت جلد ثقافت پر اس یلغار کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ یہ میرا مطالبہ ہے کہ تمام پختون خود اس بے باکی اور بے حیائی کے خلاف مدعی بن کر کردار ادا کریں۔آخر میں ایک مرتبہ پھر ناصر عالم کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انھوں نے ہماری توجہ اس طرف مبذول کرائی۔
775 total views, no views today


