ہمیں سولہ دسمبر 1971ء اور اُس سے قبل کے دن یاد ہیں۔ ہمیں وہ تصاویر بھی یاد ہیں جب دشمن ملک کے دو دو سپاہیوں نے سیکڑوں غیر بنگالی خواتین (پنجابی، پٹھان، بہاری وغیرہ) کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچا اور اُن کو زندہ چھیر دیا تھا۔ ہمیں وہ وقت یاد ہے جب ان غیر بنگالی خواتین کی قتل کرنے سے قبل بڑے پیمانے پر بے حرمتیاں کی گئی تھیں۔ جب بچوں کو بے دردی سے زمین پر پٹخ کر قتل کیا گیا۔ جب ہزار ہا غیر بنگالیوں کو زندہ جلایا گیا۔ ہمیں وہ حالات اور وقت یاد ہے جب ہماری مسلح افواج کے سپاہی ایک ہزار میل کے فاصلہ پر ایسے حالات میں لڑ رہے تھے جب اُن کی کوئی سپلائی لاین نہیں تھی جو بھوک اور پیاس کا شکار تھے جن کے پاس بندوقیں تھیں لیکن اُن کی میگزینیں خالی تھیں اور وہ عملاً غیر مسلح ہوچکے تھے۔ اُن کو فضائی امداد ختم ہوچکی تھی۔ جب کہ دشمن کے سپاہی مکمل طور پر مسلح اور مستحکم و مسلسل سپلائی (ہر قسم کی) اور فضائی امداد سے مستفید تھے۔ پاکستان مخالف بنگالی قدم قدم پر ہر قسم کی جنگ لڑ رہے تھے جب کہ پاکستان دوست بنگالی اور بہاری پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ نہ صرف اپنی جانوں کی بازیاں لگا رہے تھے بلکہ اپنے بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بھی ملک و ملت پر قربان کر رہے تھے۔ آج جب اُن کی عمریں ستر سال سے زیادہ ہیں اور دنیا کے ہر قانون میں قابل احترام ہیں، چالیس سال سے زیادہ قید میں رہ کر بھی پھانسیوں کا سامنا کررہے ہیں۔
سولہ دسمبر 1971ء کو غیر مسلح اور ہر طرف سے گھرے ہوئے پاکستان کے بیس بائیس ہزار منتشر سپاہیوں اور افسران نے نہایت ہی ناگفتہ بہہ حالات میں اپنی خالی بندوقیں زمین پر رکھ دیں، تاکہ مشرقی پاکستان میں بسنے والے ستر، پچہتر ہزار سویلین کی جانیں بچائی جائیں۔ کیوں کہ کئی لاکھ کو پہلے ہی سے دشمنوں نے قتل کیا ہوا تھا۔ جنگ بندی کے بعد مغربی پاکستان میں اپنی افواج کے خلاف ساینسی انداز سے پراپیگنڈہ مہم چلایا گیا۔ جو کسی نہ کسی مقدار میں آج بھی جاری ہے۔ جنگ بندی کے بعد مغربی پاکستان سے پاکستان بنا اور اس پر ایک غیر قانونی حکومت قابض ہوگئی جس میں اتنی اخلاقی جرأت نہ تھی کہ اپنے وجود کے جواز کے لیے دوبارہ انتخابات منعقد کرواتی۔ کیوں کہ اُس کو یقین تھا کہ لوگ اُسے ووٹ نہیں دیں گے۔ سردار داؤد نے کابل حکومت پر مارشل لاء اور سازش کے ذریعے قبضہ 1973ء میں کیا تھا۔ اس لیے وہاں کے معزول بادشاہ ظاہر شاہ کے وفاداروں اور دوسرے داؤد مخالفین نے ہتھیار اٹھا لیے تھے جن میں کمیونسٹ نظریات کے لوگ مضبوط تھے۔ غالباً عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سردار داؤد نے پختونستان کے نام سے آدھے پاکستان پر اپنی ملکیت کے دعوے کو پھر دہرایا تھا۔ اس لیے پاکستان پر قابض ناجایز حکومت نے سردار داؤد کے دور میں افغانستان میں 1974ء میں طالبان کو تربیت دے کر مسلح کیا۔ (افغانستان از عبداللہ ملک صفحہ 382تا 386)۔ اُس کے بعد افغانستان اور پاکستان دونوں میں بدامنیوں اور بے چینیوں کا ایک نیا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بعد کے سالوں میں افغانستان میں کمیونسٹ خیالات کے افراد اور طالبان نام سے موسوم قوتوں میں جنگ شروع ہوئی اور تخت کابل طالبان کے ہاتھ چلا گیا جن کو اقتدار سے محروم کرنے کے لیے امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ اور موزوں وقت پر اپنے وفادار حامد کرزئ کو صدر بنایا جس کے اقتدار کے دوران میں کابل میں بھارتی سفارت خانہ پر دہشت گرد حملہ ہوا۔ حملہ کے تھوڑی دیر بعد صدر کرزئ نے اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان نتایج کو بھگتے گا “Now Pakistan will face the consequences” وہ دن اور آج کا دن کہ پاکستان کی گلی گلی انسانی خون سے رنگ رہی ہے۔ اسلام کا نام لینے والے کچھ افراد مسلح جنگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، پر طالبان کے نام سے موسوم ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں اگر یہ واقعی طالبان ہیں، تو یہ کیا چاہتے ہیں؟ پاکستان کے اندر سیکڑوں دہشت گردی حملے نہایت ہی منظم اور سوچے سمجھے طریقے سے ہوچکے ہیں۔ جو دینی طلبہ کے نہیں لگتے۔ دوسری طرف سیاسی اور غیر سیاسی مقتدرہ کے افراد نے ملکی وسایل کو اس انداز سے لوٹا کہ وطن عزیز کو اربوں ڈالروں کانقصان پہنچایا گیا۔ دہشت گردی کے مقاصد کو عظیم تر حد تک لے جانے کے لیے واپڈا کو استعمال کیا گیا جس نے ملک و ملت کی ترقی کے پہیے کو جام کر دیا۔ عوام کو ذہنی طور پر ہراساں اور پس ماندہ رکھنے کے لیے وسیع ترین مقدار میں دہشت گردانہ حملے کروائے گئے، جو تاحال جاری ہیں۔ پورے ملک کو مارکیٹ کے لوٹ کھسوٹ کے حوالہ کیا گیا، تاکہ عوام میں بد دلی، نا امیدی اور مایوسی پیدا ہو۔ سیاست کاروں نے بھی اقتدار کے لیے بے ایمانی کا سہارا لیا۔
سولہ دسمبر 2014ء کی صبح پشاور کے ایک اسکول پر ایک نہایت ہی منظم حملہ ہوا جس میں ایک سو بتیس بچوں اور تین درجن تک بڑوں کو ہلاک کرکے دنیا کو ’’مسلمانوں‘‘ کے کردار پر انگشت بہ دندان کیا۔ ہمیں اس امکان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ دہشت گردی غیر طالبان عناصر یا ادارے نہ کرتے ہوں گے۔ انسانی تاریخ میں یہ افسوس ناک ترین واقعات میں سے ایک ہے لیکن انسان نے سیاسی مقاصد کے لیے ہمیشہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ہے۔ ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بموں کے گرانے سے امریکہ نے اپنا کالا منھ بھی دکھایا اور دنیا بھر میں جہاں ضرورت پڑی ممالک اور انسانوں کی مالی مدد بھی کی۔ اس کا یہ کھیل آج تک جاری ہے۔ دہشت گردی اور تخریب کاری اب نہایت ہی سائنسی انداز سے کروائی جاتی ہے۔ یہ بے مقصد نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے سیاسی سے زیادہ معاشی احداف ہوسکتے ہیں۔ اس میں کروڑوں ڈالروں کی سرمایہ کاری کی جاتی ہوگی۔ وطن پرستی، قوم پرستی، مذہب میں شدید رویے اس سرمایہ کاری کے لیے ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں طالبان کا نام لیا جاتا ہے، تو بھارت میں نکسلی اور ماؤنواز دہشت گرد بیان کیے جاتے ہیں۔ برطانیہ میں آئیرش آرمی کو اس نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ اس میں ایسے عناصر اور ادارے اور مارکیٹ بھی استعمال ہوتی ہے جو نہ خود اپنے کردار پر شبہ کرتی ہے اور نہ کوئی اور اُن کو ملوث کہہ سکتا ہے۔
پشاور اسکول پر حملہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ اس پر انسانی جذبات میں شدید اُبال ایک قدرتی امر ہے۔ وزیر اعظم اور دوسرے عمایدین نے اس پر جو رد عمل کیا، وہ قابل قدر ہے لیکن جتنا سنجیدہ یہ معاملہ ہے، اُتنی سنجیدگی ان عمایدین کے فیصلوں میں نظر نہیں آتی بلکہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس قسم کے معاملات میں جذباتی فیصلے کہیں خدا نہ خواستہ وطن عزیز اور افواج کو زیادہ شدید حالات سے دوچار نہ کروائے۔ وزیراعظم نے جن اقدامات کا اعلان کیا، ان میں ایک یہ ہے کہ پھانسی کے احکامات پر زرداری (غالباً) سرکار کی لگائی گئی پابندی ختم کرکے دہشت گردی کے الزام میں سزا یافتہ مجرموں کو پھانسی دی جائے۔ یہ فیصلہ مکمل ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے قتل کیے ہیں، جن کی شرعی دیت نہ ہوئی ہو، اُن سب کو سزائے موت دی جائے۔ یہ قرآن کا حکم اور عدل کا تقاضا ہے۔ اچھے طالبان اور برے طالبان میں تمیز کو ختم کرنے کا اعلان جذباتی معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے خیال میں دینی مدارس میں پڑھنے والے تمام طلبہ تو طالبان ہی میں آتے ہیں۔ ہم پشتو زبان میں ’’طالب‘‘ دینی تعلیم حاصل کرنے والے کو کہتے ہیں۔ یہ سب نہ صرف پاکستان کے برابر کے شہری ہیں بلکہ طالب علم ہیں۔ اگر یہ برین واش قسم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں (جو شاید والی بات ہے) تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہے کہ وہ علماء کو ساتھ بٹھا کر اس میں درستگی نہیں کرواتی۔ پھر ہماری اسکول؍ کالج والی تعلیم کون سی اچھی ہے جو معاشرہ کو اچھے افراد مہیا کرتی ہے۔ مارکیٹ کی لوٹ مار، میڈیا کا غلط اور کم زور اور دہشت گردی کو فروغ دینے والا کردار، سیاسی افراد کی لوٹ کھسوٹ اور حکم رانی کے لیے ناموزونیت، حکومت کا عوام کی مثبت تربیت کرنے سے مجرمانہ غفلت، پورے معاشرہ میں الراشی و لمرتشی کلچر، چند نہایت ہی آسان اور سادہ اعمال جن میں کسی قسم کے مفادات کی قربانی نہ ہو، پر جنتوں کے حصول کی تعلیمات، قرآن کو مسلمانوں کے ہاتھوں اور مجلسوں سے دور کرکے ان کی حکایات و روایات پر تربیت اور دوسرے بے شمار اطراف ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ سیاسی جماعتیں کو اپنے میں ان انقلابی کاموں کی استعداد پیدا کرنی چاہیے۔ موجودہ سر سری باتوں اور اقدامات سے دہشت گردی ختم نہ ہوگی۔ کم زور حکم رانی، قواعد اور قوانین سے روگردانی کا ازالہ ہی امن وامان لاسکتے ہیں۔ا س مقصد کے لیے ملا اور مسٹر کا متحدہ محنت اور اخلاص ضروری ہے۔
686 total views, no views today


