مینگورہ،سوات بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے پروانت خان ایڈووکیٹ اوران کے والد پر قاتلانہ حملہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری ،اعلیٰ سطح پر تحقیقات اور وکلاء کو تحفظ فراہم کرنے کامطالبہ کردیا،اس حوالے سے سوات بارایسوسی ایشن کے صدر رضاء اللہ ایڈووکیٹ نے بار کے دیگرعہدیداروں کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تیرہ فروری کو ان کے ساتھی پروانت خان ایڈووکیٹ اوران کے والد پر قاتلانہ حملہ ہو اجس کے نتیجے میں وہ دونوں شدید زخمی ہوئے
جنہیں فوری طبی امدادکی غرض سے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر ڈاکٹرموجود نہیں تھے جس پر وکلاء اورسول سوسائٹی کے لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ کو بلاک کیا بعدازاں پروانت خان ایڈووکیٹ کو پشاورہسپتال منتقل کیاگیا جہاں پر وہ آج بھی زیرعلاج ہے،انہوں نے کہاکہ اتنا بڑاواقعہ رونما ہوا مگرصوبائی حکومت کے کسی بھی ممبر نے اس پر اظہار افسوس تک نہیں کیا اسی طرح ٹریڈرزفیڈریشن اورسیاسی پارٹیوں نے بھی اس سلسلے میں خاموشی اختیار کررکھی ہے جو ایک قابل افسوس امرہے،انہوں نے کہاکہ پروانت خان ایڈووکیٹ کے ساتھ رونما ہونے والے واقعہ کے خلاف وکلاء برادری نے احتجاج اورعدالتوں سے بائیکاٹ بھی کیا،انہوں نے کہاکہ اتنے دن گزرجانے کے باوجود بھی تفتیشی ٹیم نے کوئی کارکردگی نہیں دکھائی حالانکہ اس سلسلے میں ہم پولیس حکام کے ساتھ رابطہ میں ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہمارے وکیل بھائی پر حملہ کے بعدوکلاء میں سخت تشویش اوربے چینی پھیلی ہوئی ہے مگر صوبائی حکومت نے ہمارے ساتھ اظہار ہمدردی تک نہیں کیاہے اس حوالے سے حکومت کی خاموشی مضحکہ خیزہے،انہوں نے کہاکہ پروانت خان ایڈووکیٹ کیس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کئے جائیں جبکہ حکومت سرکاری سطح پر ان کے علاج معالجہ کا بندوبست کرنے سمیت ان کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان اور وکلاء کو تحفظ فراہم کرے ،انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے مطالبات پرجلدازجلد غورنہیں کیاگیاتو آئندہ کیلئے لائحہ عمل طے کریں گے،انہوں نے ضلع بونیرمیں وکیل کی گاڑی پر حملہ کی بھی مذمت کی،اس موقع پر کرم خان ایڈووکیٹ،نفیس احمدایڈووکیٹ،احمدحسین ایڈووکیٹ،صدام حسین ایڈووکیٹ،فضل غفورایڈووکیٹ اوربارکے دیگر عہدیداراورممبران بھی موجود تھے۔
436 total views, no views today


