سوات،سوات یونی ورسٹی کیمپس ریڈیو فریکونسی نہ ملنے کی وجہ سے تاحال شروع نہ ہوسکا، طلبہ نے سیکورٹی فوسز سے فریکونسی دینے کا مطالبہ کردیاہے، تفصیلا ت کے مطابق یونیو رسٹی آف سوات کے جرنلزم ڈیپارمنٹ نے دو سال قبل کیمپس ریڈیو کے نشریات جاری کرنے کے لئے پیمرا کو درخواست دے رکھی ہے جس کے تمام تر قانونی تقاضوں کو پورا کیاجاچکاہے اور پیمرا نے یونی ورسٹی آف سوات کو ریڈیو چلانے کا لائسینس بھی جاری کیا ہوا ہے مگر صرف ریڈیو کی نشریات کو چلانے کے لئے فریکونسی نہیں دی گئی ہے ،
جس پر سوات میں سیکورٹی فوسز نے سیکورٹی کو وجہ بتاکر روک دی ہے ، یونی ورسٹی کے بڑی تعدادمیں طلباء وطالبات نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایاکہ خوازہ خیلہ میں مقامی ایم ایف ایم جس نے پیمرا سے کوئی اجازت بھی نہیں لی ہے اور ان کو چلانے والا بھی ایک سرکاری سکول کا استاد ہے جس کے پاس جرنلزم اور کمیونیکشن کی کوئی ڈگری بھی نہیں اور وہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود روزانہ حکومت کے خلاف براہ راست پروگرام کرتے ہیں ، ان کو دو مختلف فریکونسیاں دی گئی ہے خوازہ خیلہ کے لئے الگ اور مینگورہ کے لئے الگ اور بوقت ضروت فریکونسی کو تبدیل بھی کیا جاتاہے ، مگر یونی ورسٹی آف سوات جن میں اعلی تعلیم یافتہ اور انتہائی ذمہ دارلوگ کیمپس ریڈیوکو چلانے والے ہے ان کو فریکونسی نہ دینا کونسا انصاف ہے، طلباء نے جی او سی میجر جنرل جاوید بخاری سے اپیل کی ہے کہ سوات یونی ورسٹی کو جلد از جلد ریڈیو فریکونسی جاری کریں جس سے جرنلزم کے درجنوں اور یونی ورسٹی کے ہزاروں طلباء مستفید ہونگے اس طرح یونی ورسٹی ریڈیو پر تعلیمی نشریات ہوتے ہے جس سے علاقے کے ہزاروں لوگوں کوتعلیمی معلومات ذمہ دارانہ نشریات میسرہونگے، طلباء نے میجر جنرل جاویدبخاری سے خصوی درخواست کی ہے کہ یونی ورسٹی آف سوات کی تعلیمی ضروریات کو مد نظررکھتے ہوئے اور علاقے میں ایک ذمہ دارنہ ریڈیو کو فریکونسی دے کرعلاقے کے عوام پر ایک اور احسان کریں۔
384 total views, no views today


