سوات(سوات نیوز)سوات کا گمنام ہیروڈاکٹر لیاقت علی حکومت اور عوام کی نظروں سے اوجھل،دہشت گردی میں ملک و قوم کی خدمت کرنے والا ہیرو بغیر کسی لالچ کے پیش پیش،مقامی لوگوں کا حکومت سے ایوارڈ دینے کا مطالبہ،سوات میں ایک اور گمنام ہیرو سامنے اگیا،نیورو سرجن اور سوات میڈیکل کالج کے ہیڈ اف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر لیاقت علی بھی ان گمنام ہیروز میں شامل ہے جنہوں نے اس ملک وقوم کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنی زندگی ملک و قوم کیلئے وقف کردی ہے سوات میں دہشت گردی کے دوران جب دہشت گردی عروج پر تھی تو ڈاکٹر لیاقت علی نے اس وقت 2000 مریضوں کی ہیڈ انجری کے اپریشن کئے انکا تعلق عثمان آباد سے ہے جہاں پر طالبان کا ہیڈ کوارٹر ہوا کرتا تھا اور رات کے دو دو بجے انکو ایمبولینس میں لیٹا کر ہسپتال اور وہاں سے گھر لے جایا جاتا تھا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور عوام کی بھر پور خدمت کی حالانکہ کئی بار انکو طالبان کی جانب سے دھمکیاں بھی دی گئی لیکن جواں مردی سے عوامی خدمت میں پیش پیش رہے اور اج انہی ڈاکٹروں کی خدمات کے وجہ سے اس خطے میں امن قائم اور ہزاروں بچوں کے سروں پر انکے والدین کا سایہ قائم ہے،لیکن افسوس کی حکومت کی طرف سے انکی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے،ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی ملک و قوم کی خدمت کیلئے وقف کی ہے اور جب تک زندہ ہوں اپنی دھرتی کی خدمت کرتا رہونگا انہوں نے کہا کہ مجھے ایوارڈ یا انعام کی لالچ نہیں میں نے رضائے الہی کیلئے ملک و قوم کی خدمت کا عزم کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ آج سوات میں امن دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے ایک وہ سوات تھا کہ وہ گھروں سے نہیں نکل سکتے اور ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی اور ایک آج کا سوات ہے جہاں پر ہر طرف خوشی و ہریالی ہے اور سیاحوں کی بڑی تعداد بغیر کسی خوف و خطر کے سوات اتے ہیں جس پر مجھے فخر ہے اور میں پورے عوام سے یہی کہتا ہوں کہ اس مٹی کیلئے اس دھرتی کیلئے اپنے اپکو وقف کریں۔
۔
،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
794 total views, no views today



