یہ اُن دنوں کی بات ہے جب پورا بنوں شہر فصیل کے اندر واقع تھا۔ شہر میں داخل ہونے کے لیے فصیل میں بڑے بڑے دروازے لگے ہوئے تھے جو سرِ شام بند کیے جاتے تھے اور فجر کی اذان پر کھول دیے جاتے تھے۔ ہر دروازہ کا الگ نام تھا اور ساتھ ہی ایک چھوٹی سی پولیس چوکی بھی بنی ہوتی تھی۔ بڑے دروازہ میں ایک چھوٹا گیٹ بھی کھلتا تھا جس میں ایک آدمی شہر میں داخل یا خارج ہوسکتا تھا۔ فصیلِ شہر کے دروازوں کے مختلف نام تھے، جن میں پریٹی گیٹ، لکی گیٹ، قصبان گیٹ، پھوڑی گیٹ، منڈان گیٹ وغیرہ نام شامل تھے۔ شہر کے مختلف بازار بھی مختلف ناموں سے مشہور تھے اور اکثر ان گیٹوں کے ناموں سے زیادہ مشہور تھے، مثلاً پریٹی بازار، لکی بازار، چائے بازار، ٹانچی بازار وغیرہ۔ اُن دنوں شہر کے اندر ایک سنیما ہال تھا جو ’’سلیم تھیٹر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ ایک سنیما ہال پریٹی گیٹ کے باہر بنوں چھاؤنی کے قریب ریگل سنیما سے یاد کیا جاتا تھا۔ یہ سنیما (ر) کرنل امان اللہ خان نے بنوایا تھا۔ (ر) کرنل امان اللہ خان ایک خوب صورت آدمی تھے۔ سرِشام وہ کار میں سوار ہوکر سیر و تفریح کے لیے جایا کرتے تھے اور کبھی کبھی سنیما کا چکر بھی لگاتے تھے۔
اُن دنوں ملک دم ساز خان کی رہایش گاہ لکی گیٹ سے باہر تھی۔ چوک بازار میں آمد و رفت بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ کیوں کہ اس سے چائے بازار، لکی بازار، پریٹی بازار اور ٹانچی بازار کی طرف سڑکیں الگ ہوجاتی تھیں۔ پریٹی گیٹ سے باہر پولیس لاین واقع تھی۔ پولیس لاین کا پیش امام ایک بہت بڑا عالم تھا۔ مولانا صدر شہید اُن کا نام تھا اور 1970ء کے عام انتخابات میں ایم این اے منتخب ہوا تھا۔ بنوں شہر اور ارد گرد کے علاقوں پر مولانا مفتی محمود (مرحوم) کی پارٹی کا ہولڈ تھا اور جمعیت علمائے اسلام کا توتی بولتا تھا۔ نیشنل عوامی پارٹی مسلم لیگ خان قیوم پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی بھی سرگرم عمل تھی۔ لیکن ان پارٹیوں کا زور نہیں چلتا تھا۔
بنو شہر بہت صاف ستھرا ہوتا تھا۔ شہر کی مختلف نالیوں میں صبح و شام باران ڈیم سے پانی چھوڑ دیا جاتا تھا جس سے شہر کی پختہ نالیاں صاف ہوجاتی تھیں۔ شہر کی گلیاں چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے پختہ تھیں۔ یہ گلیاں کافی چوڑی اور سیدھی ہوتی تھیں۔ ایک سرے سے دوسرا سرا صاف نظر آتا تھا۔ یہ شہر ہندوؤں کے زمانہ سے آباد چلا آرہا ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے بنوں شہر میں ہندو اور سکھ زیادہ رہا کرتے تھے۔ صبح سویرے مسلمان ارد گرد کے مختلف گاؤں سے مزدوری کے لیے آتے تھے اور سرِ شام ایک ندا آتی تھی کہ ’’مسلمانوں شہر سے نکلو۔‘‘ اور مسلمان شہر سے نکل جاتے اور شہر کے دروازے بند کیے جاتے تھے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم واجپائی کا تعلق بھی بنوں سے تھا۔ ان کا خاندان بٹوارے میں ہند چلا گیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد بنوں شہر میں مسلمان آباد ہوگئے اور یہ شہر ہندوؤں اور سکھوں سے خالی ہوگیا۔ شہر کے مکانات چوں کہ ہندوؤں کے تھے، جن دنوں میں ملازمت کے سلسلہ میں بنوں میں مقیم تھا، تو جس گھر میں میری رہایش تھی۔ اس میں پتھروں کے مختلف بت خون صورتی کے واسطے لگے ہوئے تھے۔ یہ ایک مال دار ہندو کی ملکیت تھی، لیکن تقسیم کے بعد یہ ملک بازی جان خان کی ملکیت میں آیا تھا۔
بنوں شہر کے لوگ بڑے مہمان نواز اور شریف ہیں۔ اُن کی الگ ایک ثقافت اور زبان کا الگ ایک لہجہ ہے جو بہت پیارا ہے۔ بنوں شہر کی شام بڑا رنگین ہوتی ہے۔ جب دولہا اور اس کے دوست احباب ڈولی لانے سے پہلے ایک جلوس کی شکل میں بازار کا چکر لگاتے ہیں، تو ڈھولک کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہیں اور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں۔ وہاں کا رواج ہے کہ وہ شادی میں اپنے مہمانوں کو دو وقت کا کھانا کھلاتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے میں گوشت، شوربا اور روٹی ہوتی ہے، جو ایک بڑے تال میں روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے شوربہ اور گوشت میں ڈال دیتے ہیں اور پھر اکٹھے ہوکر اُسے کھاتے ہیں۔ اُس کھانے کو ’’پینڈہ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ بڑا لذید ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس میں سادگی، خلوص پیار اور اپنائیت کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔
رات کے کھانے میں پلاؤ ہوتا ہے۔ جو بڑے بڑے دستر خوان فرش پر بچھائے جاتے ہیں، مہمان کھانا کھاتے ہیں اور دولہا کے رشتہ دار مہمانوں کے قریب کھڑے ہوکر ہوائی فایر کرتے ہیں۔ یہ فایرنگ کھانے کے دوران میں جاری رہتی ہے۔
یہ منظر بھی بڑا پیارا ہوتا ہے۔
(جاری ہے)
1,336 total views, no views today


