اسلام آباد(این این ائی) حکومت اور اپوزیشن میں بڑھتی خلیج کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تین پارلیمانی سال مکمل کرلیے ۔ ملکی مفادات کے ضمن میں بھی حکومت اور اپوزیشن میں جاری مخاصمت تھم نہ سکی ۔ فیٹف اور نیب سمیت انتخابی اصلاحات اور اوپن بیلٹنگ جیسے اہم معاملات پر بھی متفقہ قانون سازی ایک خواب ہی رہی، اسی طرح حکومت سے نالاں اپوزیشن کے عدام تعاون کے باعث پارلیمنٹ کی سلامتی کمیٹی بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ تحریک انصاف حکومت کے تین پارلیمانی سال مکمل لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمنٹ میں اختلافات بدستور برقرار ہے ۔ تیسرے پارلیمانی سال میں بڑھتی خلیج کے دوران پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون سازی ایک خواب ہی رہی ۔ حکومت کو مختلف قوانین کے نفاذ کیلئے اکتیس آرڈیننس کا سہارا لینا پڑا۔حکومت اپوزیشن مخاصمت کا عملی مظاہرہ گزشتہ بجٹ اجلاس کے موقعے پر دیکھا گیا جب حکومتی ارکان اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کو تین روز تک پارلیمنٹ میں تقریر نہ کرنے دی۔ اس ہنگامہ آرائی سے زچ ہو کر اپوزیشن نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلا ف عدم اعتماد تحریکیں لانے کا اعلان جس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔ تین پارلیمانی سال کے دوران حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمنٹ کے امور سے منسلک کارکردگی مایوس کن رہی۔ افغانستان اور نئی امریکہ انتظامیہ سے تعلقات جیسے امور سمیت کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت اور داخلی سلامتی جیسے بیشتر اہم امورپرقومی سلامتی کمیٹی کا کردار بھی غیر فعال ہی رہا۔ تیسرے پارلیمانی سال کے دوران کمیٹی صرف ایک بار ہی اپنا اجلاس منعقد کرسکی۔حکومت گزشتہ تین برسوں میں اب تک مجموعی طور پر چھپن آرڈیننس نافذ کرچکی ہے۔ فروری میں حکومت نے سینیٹ انتخابات میں ‘اوپن اور قابل شناخت بیلٹ کے استعمال کیلئے الیکشن ایکٹ 2017میں ترمیم کا آرڈیننس سپریم کورٹ کے فیصلہ سے مشروط ہونے کے باعث نافذ نہ ہو سکا۔
740 total views, no views today



