تحریر: ربیکا کیسبی
دوسال پہلے بی بی سی نے ایک خبر میں بتایا تھا کہ طالبان کے ہاتھوں تباہی کے بعد ایک شخص کیسے پاکستان میں اسکیئنگ کے واحد پرائیویٹ اسکول کو بہ حال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
خبر کے شایع ہونے کے بعد ہمارے درجنوں قارئین اور ناظرین نے کہا کہ وہ اس شخص کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بہت اچھی خبر یہ ہے کہ اس اسکول کو ایک ٹن سے زیادہ وزن کا ساز وسامان مل چکا ہے۔
جب سنہ 2009ء میں پاکستانی فوج نے طالبان کو وادئ سوات سے نکال باہر کیا، تو مطیع اللہ نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اسکول کو ضرور دوبارہ تعمیر کریں گے اور بچوں کو موقع دیں گے کہ وہ اسکیئنگ سے لطف اندوز ہوں۔
’’میری خواہش تھی کہ میں بھی یہاں امن کی بہ حالی اور ہم آہنگی میں اپنا حصہ ڈالوں، یہی سوچ کر ہم نے یہاں اسکیئنگ کا ایک چھوٹا سا مقابلہ منعقد کیا۔‘‘
’’بہت کم لوگ اس مقابلہ میں شرکت کے لیے آئے، لیکن میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ بچے کتنے خوش تھے، ان کے چہرے پر خوشی کے جذبات صاف دیکھ جا سکتے تھے۔‘‘
اس وقت اسکول کے پاس صرف دو تین اسکیز تھیں اور پولز کے صرف دو تین جوڑے تھے۔ زیادہ تر بچے درخت سے کاٹی ہوئی لکڑی کے ڈنڈوں کی مدد سے اسکیئنگ سیکھ رہے تھے اور پاؤں کو ایک جگہ قایم رکھنے کے لیے انھوں نے بورڈز پر کیلیں لگائی ہوئی تھیں۔
برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیوں اور شفاف جھرنوں اور ندیوں کے لیے مشہور وادئ سوات دو سال تک طالبان کے تسلط میں رہی۔
سابق پایلٹ اور باریش مطیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’’عسکریت پسندوں کے دور میں یہاں پر سیکورٹی کی صورت حال اس قدر خراب تھی کہ ہر کوئی خوف میں رہ رہا تھا۔ ہم لوگ باقی دنیا سے بالکل کٹ چکے تھے۔ ہم نے بہت سے اسکولوں کو تباہ ہوتے دیکھا، یہاں بچوں کی کوئی زندگی نہیں تھی، حتیٰ کہ یہ لوگ گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے اور معمول کی زندگی بھی نہیں گزار پا رہے تھے۔‘‘
مسٹر خان کا خیال تھا کہ جو بچے اتنے برے حالات سے گزر چکے تھے، ان کے ذہنوں کا بہترین علاج یہ ہو سکتا ہے کہ انھیں اسکیئنگ کی طرف بلایا جائے۔
’’کچھ کھیل ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو بہادر بناتے ہیں۔ تیز رفتاری سے برف پر پھسلتے ہوئے پہاڑوں سے اترنے میں آپ کو بہت مزا آتا ہے، لیکن اس سے آپ کو حوصلہ بھی ملتا ہے۔ اس سے آپ کو توانائی ملتی ہے کہ آپ آگے بڑھیں اور زندگی میں مزید بڑے کام کریں۔‘‘
سنہ 2013ء میں مسٹر خان کی کہانی پڑھنے کے بعد فرانس، کینیڈا، امریکہ، ناروے، برطانیہ اور آسٹریا سے لوگوں نے رابطے کر نا شروع کر دیے ۔ انھوں نے ہمیں کہا کہ ہم ان کا رابطہ مسٹر خان سے کرائیں تاکہ وہ انھیں اسکیئنگ کا سامان بھجوا سکیں۔ لیکن مسٹر خان کے بہ قول ’’یہ کام بہت مشکل تھا۔ کیوں کہ اس میں سامان کو سوات پہنچانے کے لیے پیسے کا سوال تھا اور اس سامان پر کسٹمز ڈیوٹی کا خرچ بھی جس کے لیے ہمارے پاس کوئی پیسے نہیں تھے۔‘‘
ان مشکلات کے باوجود سوئٹزر لینڈ سے ایک شخص کا اصرار تھا کہ وہ مدد کرنا چاہتا ہے اور پھر آخر کار مارک فرُوڈویلر سرکاری دفاتر کی پیچیدگیوں اور سامان کی ترسیل کے جھمیلوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئے اور مسٹر خان کے اسکول کو وہ کچھ بھجوا دیا جس کی اسکول کو ضرورت تھی۔
فرُوڈویلر کو مسٹر خان کے ساتھ لگاؤ ہوگیا۔ کیوں کہ فرُوڈویلر کی اہلیہ تانیہ کا تعلق کراچی سے ہے اور اس لحاظ سے ان کے تین بچے آدھے پاکستانی ہیں۔
مسٹر فرُوڈویلر نے اپنی مقامی اسکیئنگ کلب سے مدد کی درخواست کی، جس کے بعد ان کے پاس عطیات کا ڈھیر لگ گیا۔ مسٹر فرُوڈویلر کا کہنا تھا کہ ’’جب ان لوگوں نے خبر پڑھی تو مسٹر خان کی بات ان کے دل کو لگی۔‘‘
دو ٹن کا ساز وسامان اکھٹا کر لینے کے بعد اگلا سوال یہ تھا کہ اس تمام سامان کو کیسے بہ حفاظت سوات پہنچایا جائے؟ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، کیوں کہ اتنے وزنی سامان کو بھجوانے کے لیے درکار رقم اور اس پر کسٹمز کے سرخ فیتے کے چکروں سے نمٹنا آسان نہیں تھا اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیکورٹی کے برے حالات کا تو ذکر ہی نہ کریں۔
آخر کار پاکستانی حکام کی تجویز یہ تھی سارے سامان کو ملم جبہ پہنچانے کا ایک ہی یقینی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی فضائیہ سے مدد لی جائے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں اسکیئنگ کی تنظیم ’’اسکی فیڈریشن آف پاکستان‘‘ کی سرپرست بھی ایئر فورس ہے اور اسکیئنگ اس کے ہوابازوں کی تربیت میں شامل ہوتی ہے۔
فرُوڈویلر اور خان اس بات پر متفق ہو گئے کہ پاکستان ائیر فورس سے مدد لی جائے گی اور اس کے عوض سامان میں سے کچھ حصہ ائیر فورس کو بھی دیا جائے گا۔ مسٹر خان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ کیوں کہ اگر پاکستانی فضائیہ بھی یہ سامان ملک میں اسکیئنگ کے فروغ کے لیے استعمال کرے گی، تو ہمارا اور ان کا مقصد ایک ہوگا۔‘‘
فرُوڈویلر کے دماغ پر ایک ہی دُھن سوار تھی کہ وہ مسٹر خان کی مدد کر کے رہیں گے۔ چناں چہ دو سال کی جد وجہد کے بعد ان کا جذبہ کام آیا اور آج سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے یہ ساز و سامان پاکستان پہنچ گیا۔’’جب ہم نے سارا سامان کھولا، تو ہم اس قدر خوش ہوئے۔ میرے شاگرد بہت خوش ہوئے۔ مختلف سائز کی اسکیز، برف پر پھسلنے والے تختے (اسنو بورڈز)، دھات کے بنے ہوئے ڈنڈے (پولز)، اسکیئنگ کے مخصوص بوٹ، گرم کپڑے اور ہیلمٹ، غرض کہ ہر چیز بڑے سلیقے کے ساتھ پیک کی ہوئی تھی اور تمام سامان اچھی حالت میں تھا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے آپ کا دیرینہ خواب پورا ہو گیا ہو۔‘‘
فرُوڈویلر بھی مسٹر خان سے اتفاق کرتے ہیں کہ اسکیئنگ بچوں کے لیے بہت اچھا کھیل ہے۔ ’’اس سے انھیں نظم و نسق اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کا سبق ملتا ہے۔ اسکیئنگ انھیں درست راستے پر رکھتی ہے اور انھیں ایسی مہارت دیتی ہے جو آیندہ زندگی میں ان کے کام آتی ہے۔‘‘
سوات کے بچوں کو دلیر بننا پڑے گا، کیوں کہ یہ وہ نسل ہے جسے شدت پسند سوچ سمجھ کر نشانہ بنا چکے ہیں اور اپنے ڈیسکوں پر بیٹھے ہوئے طالب علموں کو گولیاں مار چکے ہیں۔’’ہر کوئی خوف محسوس کر رہا ہے۔ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن کیا کِیا جا سکتا ہے، ہمارے ملک اور ہمارے علاقہ کے یہی حالات ہیں آج کل لیکن یہ ہمار ملک ہے، ہمیں اسی جگہ پر رہنا ہے اور امن قایم کرنے کے لیے ہمیں جو کام کرنے ہیں، وہ ہم نے کرنے ہیں۔ تاہم اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔‘‘
فرُوڈویلر کہتے ہیں کہ انھیں یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ وہ بھی سوات کے بچوں کے کام آئے۔ ’’جو کام مطیع اللہ کر رہے ہیں، وہ بہت قابل تحسین کام ہے اور یہ اسی قسم کی شمع ہے جسے روشن کرنے کی ضرورت ہر جگہ ہے۔‘‘
یہ دونوں حضرات بہت قریبی دوست بن چکے ہیں اور انھوں نے ابھی سے آیندہ کے منصوبے بنانا شروع کر دیے ہیں۔ خان کی خواہش ہے کہ جلد ہی ایک اسکی لفٹ حاصل کی جائے، تاکہ اسکیئنگ کے لیے پہاڑوں پر راستے یا ٹریک بنائے جا سکیں۔ اس کے علاوہ وہ اس بات کا جایزہ بھی لے رہے ہیں کہ ان کا سوئٹزر لینڈ والا دوست وادئ سوات میں سیاحت کی بہ حالی میں ان کی کیا مدد کر سکتا ہے۔
آخر میں، مَیں خان کے شاگردوں کو ایک ہی نصیحت کر سکتی ہوں اور وہ یہ کہ اب جب ان کے پاس اچھا سامان آ گیا ہے، تو ان کی تربیت بھی سخت ہونے جا رہی ہے۔ کیوں کہ مسٹر خان کہتے ہیں کہ ’’اب اسکیئنگ کے چمپئن وادئ سوات سے آئیں گے۔‘‘
646 total views, no views today


