تحریر: محمد رحیم خیال سوات
اب سارے دلدر دور ہوجائیں گے، کیوں کہ پنجاب کے قدیم شہر چنیوٹ میں لوہے، تانبے، چاندی اور سونے کے بھاری اور معیاری ذخایر دریافت ہوگئے ہیں۔ شریف برادران اس دریافت پر اتنے خوش ہوئے کہ چنیوٹ پہنچتے ہی امدادی کشکول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توڑ دینے کا نعرۂ مستانہ لگا دیا۔ وہ تو از قسمِ پرویز رشید اور عطاء الحق قاسمی مدبروں نے عین وقت پر سمجھا لیا کہ میاں صاحب پہلے آئی ایم ایف سے قرضہ کی تازہ قسط تو وصول کرلیں۔ پھر بے شک اسی رقم میں سے کچھ پیسوں کا ایک بڑا اور ایک چھوٹا کشکول خرید کر توڑم تاڑی کا شوق پورا کرلیں۔ میں میاں برادران کی اس خوشی میں یہ کہہ کر کھنڈت نہیں ڈالنا چاہتا کہ صرف معدنیات سے نہیں اس کی آمدنی کی مساوی و منصفانہ تقسیم سے ہی کشکول ٹوٹتا ہے۔
بہ صورتِ دیگر معدنی دولت سمیت کوئی بھی قومی دولت نحوست بن کے ٹوٹتی ہے۔ بی فاختہ دکھ سہتی ہیں اور ان کے انڈے کوے کھاتے ہیں۔
کبھی سوچا ہے کہ معدنی دولت سے سب سے زیادہ مالا مال بلوچستان سب سے غریب کیوں ہے؟سندھ جو وفاقِ پاکستان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس وقت سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرتا ہے اور کویلہ کے عظیم ذخایر پر بیٹھا ہے، اس کے اٹھائیس میں سے سترہ اضلاع خطِ غربت سے نیچے کیوں ہیں؟نگرپارکر میں گرینایٹ کا پورا کارونجھر پہاڑ کھڑا ہے۔ ذرا اس پہاڑ کی لیز الاٹمنٹ لسٹ، تو پڑھیے۔ اگر اس فہرست کے غیر معمولی ناموں میں کوئی ایک معمولی بھی نظر آ جائے، تو آج سے میرا نام کازب خان سب سے زیادہ یورنیم جنوبی پنجاب کے جن دو علاقوں (ڈیرہ غازی خان اور راجن پور) سے نکلتا ہے، وہی دو علاقے پنجاب کے سب سے پس ماندہ اضلاع کیوں ہیں؟
تو کیا زمرد کی کانوں نے سوات کی قسمت بدل دی؟سب سے زیادہ لوہا پیدا کرنے والا بہار بھارت کا سب سے پس ماندہ صوبہ آخر کیوں ہے؟
کیا جنوبی افریقہ کے سب کالوں کو معلوم ہے کہ وہ دنیا کے آدھے ہیروں اور ایک چوتھائی سونے کے مالک ہیں؟کیا موریطانیہ اور مغربی صحارا میں باکسائیٹ کے سب سے بڑے عالمی ذخایر سے یہاں کے صحرائیوں کو بھی زندگی کی بنیادی سہولتیں مل گئیں؟ نایجر یورنیم کا تیسرا بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے مگر دس غریب ترین ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ جنوبی سوڈان تیل کے زخایر کے اعتبار سے لیبیا اور نایجیریا کے بعد تیسرا اہم افریقی ملک ہے مگر دوسرا غریب ترین عالمی ملک بھی ہے۔ کتنے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اپنی آمدنی رعایا میں برابر تقسیم کرنے کا نظام وضع کیا؟ قذافی کے لیبیا اور ہیوگو شاویز کے ونیزویلا کے علاوہ تیسرا نام چاہیے۔
جتنی خوشی اس وقت نواز و شہباز کے چہروں پر ہے لگ بھگ اتنی ہی خوشی اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے چہرہ پر بھی تھی جب انھوں نے ایک سیاہ آمیزے سے بھری بوتل قومی اسمبلی میں لہراتے ہوئے اعلان کیا، ڈھوڈک میں تیل نکل آیا ہے، قسمت بدلنے والی ہے ۔اور پھر انھوں نے مولانا مفتی محمود کو بھی یہ بوتل سنگھائی۔ حیرت ہے معدنی و تاریخی شعور رکھنے والے بھٹو نے بھی یہ ڈرامہ کیا؟
ایک تو ہمارے حکم رانوں کو کشکول توڑنے کا بہت شوق ہے۔ بھٹو کے بعد شوکت عزیز نے ایک دن کشکول توڑنے کا اعلان کیا اور میاں صاحب تو دوسری بار کشکول زمین پر دے مارنا چاہ رہے ہیں۔
کیا مذکورہ کشکول توڑنے یا دفن کرنے سے بہتر یہ نہ ہوگا اگر یہ کشکول کسی ایسے مستحق کو دے دیا جائے جس کے پاس کشکول خریدنے کی بھی سکت نہیں؟
خدا کے لیے کشکول نہ توڑئیے گا!
سوات میں شجر کاری مہم کے لیے انتہائی موزوں موسم شروع ہوچکا ہے۔ اس حوالہ سے سرکاری اور نجی اداروں سمیت حکومت کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس موسم سے بھرپور فایدہ اٹھائے اور لاتعداد پودے لگانے کے لیے عملی کام کا مظاہرہ کرے۔
شجر کاری کے حوالہ سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے پورے صوبہ میں ایک ارب پودے لگانے کا عزم کیا ہے مگر تاحال حکومتی سطح پر کہیں بھی اجتماعی کاوشیں نظر نہیں آتیں۔ سوات میں بیش تر علاقوں کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت عام پودوں کے ساتھ پھل دار پودوں کے لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے مگر یہ بات سامنے آئی ہے کہ نجی فارمز میں پودے انتہائی مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے عام لوگ مطلوبہ مقدار کے مطابق پودے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
حکومت کی جانب سے تاحال وادئ سوات میں شجر کاری مہم شروع نہ کرنے سے عمران خان کا عزم اور خواب پورا نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سابقہ حکومتوں کے دوران شجر کاری کی کئی مہمات چلائی گئی ہیں، مگر یہ صرف پودے لگانے تک محدود رہی ہیں اور بعدمیں کسی بھی ذمہ دار محکمہ نے اس طرف تو جہ نہیں دی جس کے باعث پودوں کے لگنے کا تناسب انتہائی کم رہا ہے۔ تقریباً تین چار سال قبل محکمۂ جنگلات نے سوات کے مختلف علاقوں میں شجر کاری کی اور پھر تقریباً ایک سال تک ایڈ ہاک پر ملازم بھرتی کیے۔ ان ملازمین نے مختلف مقامات پر لگائے گئے پودوں کو جانوروں اور انسانوں سے بچائے رکھا جس کے باعث مختلف علاقوں میں ان پودوں نے جنگل کی شکل اختیار کی لیکن جیسے ہی ملازمین فارغ ہوئے، ویسے ہی مقامی لوگوں نے اس کی بے در دی کے ساتھ کٹائی اور فروخت کا کام شروع کیا ، جس پر نہ محکمہ نے نوٹس لیا اور نہ مقامی بااثر افراد نے۔ اب اگر موجودہ صوبائی حکومت کا ارادہ پکا ہے، تو اسے بھی پودے لگانے کے بعد بچانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ایسا ممکن نہیں، تو پھر گاؤں میں کمیونٹی سسٹم کے تحت پودے لگائے جائیں۔ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ معلوم کیا جائے کہ کس کو کتنے پودوں کی ضرورت ہے اور کون کون پھر ان پودوں کی حفاظت کرے گا؟
مقامی طور پر لوگوں کے بڑے بڑے پہاڑی علاقے بنجر پڑے ہوئے ہیں جس میں پودے لگانے سے کئی فواید حکومت کو میسر آسکتے ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی ان سے فایدہ مل سکتا ہے۔
عام پودوں کے علاوہ اگر بڑے پیمانے پر پھل دار پودے لگائے جائیں، تو ان کی کامیابی کی صورت میں مقامی طور پر سوختنی لکڑی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور لوگ معاشی طور پر بھی کسی حد تک مستحکم ہوسکتے ہیں۔
صوبائی حکومت اور عوام اس موسم سے بھرپور فایدہ اٹھانے کے لیے کمر کس لیں۔ شجر کاری کے بڑے فواید ہیں۔ یہاں چند سطور میں اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں لیکن پھر بھی اگر حکومت اور عوام زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، تو اس سے سوات کی جنت نظیر وادی کی حیثیت بھی بہ حال ہوسکتی ہے۔ پھر موسمی تغیرات میں بھی کمی واقع ہوجائے گی اور زیر زمین پانی میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔
سوات کے عوام جانتے ہیں کہ سابقہ حکومت کے دوران میں جنگلات انتہائی بے دردی سے کاٹے گئے ہیں جس کے باعث سوات میں موسم کے علاوہ سیاحت کے شعبہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ جدید سائنس نے درختوں کو زمین کے پھیپھڑے قرار دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جہاں درخت نہیں ہوتے، وہاں پر ماحول انتہائی پریشان کن اور اکثر اوقات انتہائی مضر صحت ہوتا ہے جس سے حیوان اور انسان دونوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن جہاں درخت وافر مقدار میں موجود ہوں، وہاں پر حیوانوں اور انسانوں کی زندگی کافی پر سکون گزرتی ہے۔
آئیں، اس کار خیر میں بھرپور حصہ لیں۔ جہاں ہم اپنے لیے اور اپنی نئی نسل کے لیے دیگر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، وہاں ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو ایک خوش گوار ماحول فراہم کریں۔ اس کا مطلب سب کو معلوم ہے کہ شجر کاری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس پر حکومت اور دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی انتہائی سنجید گی سے سوچنا چاہیے۔
1,716 total views, no views today


