تحریر: جان عالم
پچھلے دنوں امجد علی سحابؔ کا کالم بہ عنوان ’’ہزارہ اور علیگرامہ کو ڈبونے کا منصوبہ‘‘ پڑھا جس میں موصوف نے تحصیل بابوزئ کی کچھ بستیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے جو دریائے سوات کے کنارے آباد ہیں۔ اور دریا کے اس پار یعنی جنوباً رہنے والی مذکورہ بستیوں کے مکینوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ وہ دریا کے عین وسط میں پشتے اور بند حکومت وقت کی سرپرستی میں تعمیر کروارہے ہیں جو کہ دریا کے اُس پار یعنی تحصیل کبل کے علاقوں ہزارہ اور علیگرامہ کی زرعی زمینوں کی تباہی کا باعث بنیں گے۔
سب سے پہلے تو میں اپنے دوست سحابؔ صاحب (جو کہ ایک حق گو اور نفیس شخصیت کے مالک ہیں) سے معذرت کے ساتھ اس معاملہ میں تھوڑا سا اختلاف کرکے قارئین کرام اور احباب اختیار کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا، امید ہے کہ سحابؔ اور ہمارے محقق و معلم ڈاکٹر سلطان روم صاحب دونوں اسے دل پر نہیں لیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزنامہ ’’آزادی‘‘ کی انتظامیہ کو مبارک باد پیش کرنا چاہوں گا جس نے اپنے ادارتی صفحہ کے لیے سحابؔ جیسے اہل انچارج کا انتخاب کیا ہے۔ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ان کا نام ’’صحاب‘‘ نہیں بلکہ سحابؔ ہے، اس کی تصحیح فرمائی جائے۔
قارئین کرام! آپ کے علم میں ہوگا کہ والئی سوات سے پہلے اور بعد میں بھی اہل جنوب یعنی اینگروڈھیرئ کے عوام اور اہل شمال یعنی علیگرامہ اور ہزارہ کے عوام کے مابین ایک یاد داشت اور معاہدہ برسوں سے چلا آ رہا ہے کہ دریا کی لہر اُن کی حد ہوگی۔ مطلب اگر دریا میں طغیانی کی وجہ سے دریا کا پانی اُس پار کی زرعی زمینیں دریا برد کرتا ہے، تو اس پار کے مکینوں کو اجازت ہوگی کہ وہ زمین جس سے دریا کا پانی رخ موڑ چکا ہو، اسے زیر قبضہ اور قابل کاشت بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح اُس پار کے مکین بھی ایسا ہی کرسکتے ہیں۔ اس اُصول اور یاد داشت پر اہل شمال و جنوب سختی سے عمل پیرا ہیں۔ دریا رخ بدلنے کے بعد کبھی وہ حفاظتی پشتے اور بند تعمیر کرتے ہیں، تو کبھی یہ پشتے تعمیر کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایسا برس ہا برس سے چلتا آ رہا ہے۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایوب پل کی تباہی کے بعد دریا کے اُس پار کے مکینوں کے پر زور مطالبہ پر لوہے کا ایک عارضی پل بنایا گیا تھا، جو ایوب پل سے نیچے غرباً تقریباً سات سو فٹ کی دوری پر تھا۔ اُس پل کے لیے شمال کی طرف دریا کے وسط اور احاطہ میں کچی سڑک جو اونچائی اور بھرائی میں ایک ٹھیک ٹھاک بند دکھائی دے رہی تھی، بنا کر ایوب پل کے شمالی سرے تک گھمائی گئی تھی، جو کافی عرصہ تک استعمال ہوتی رہی۔ جب ایوب پل کی جگہ پر عارضی لوہے کا پل بہ حال کیا گیا اور لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا، تو اینگروڈھیرئ کی حدود سے منسلک بنائے گئے عارضی پل کو ہٹایا گیا اور مذکورہ کچی سڑک جو شمالاً دریا کی حدود میں بنائی گئی تھی کو جان بوجھ کر مضبوط بند اور پشتہ کے طور پر رہنے دیا گیا اور اس پر مستزاد یہ کہ پل کے شمالی سرے پر کام ہونے کی وجہ سے دریا کا پورا پانی جنوبی سرے پر چھوڑ دیا گیا۔ پھر جب پچھلے سال دریا کی طغیانی اور بپھرنے کا عمل شروع ہوا، تو ظاہری بات ہے کہ وہی کچی سڑک جو مضبوط بند اور پشتہ کی شکل اختیار کر گئی تھی، کی وجہ سے دریا کا رُخ جنوب کی طرف مڑگیا جس سے اہل علاقہ اور خاص کر اینگروڈھیرئ کی آبائی زرعی زمینوں کا کافی نقصان ہوا۔
دوسری طرف اہل شمال نے پہلے سے اپنی زرعی زمینوں کو محفوظ بنانے کے لیے پشتے تعمیر کروائے ہیں۔ حکومت دیگر متعلقہ اداروں کی مدد سے خوب پشتہ بندی کرواچکی ہے۔
سحابؔ ! شاید یہ صورت حال آپ نے دیکھی ہوگی، مگر آپ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ آپ نے دور سے یہ دیکھا اور کہہ دیا کہ دریا کے عین وسط میں پشتہ تعمیر ہو رہا ہے، تو میرے بھائی، اگر دریا کے وسط میں کوئی پشتہ تعمیر کروارہا ہے، تو اس کا فایدہ کیا ہوگا؟ اس سے تو پانی شمالاً جنوباً دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا، جس سے دونوں طرف کسی کو بھی فایدہ نہیں ہو گا۔ دراصل آپ نے بجری کے ڈھیر کو دیکھا ہوگا، جو وہاں پر پڑا ہوتا ہے۔ دور سے نظارہ کرنے کی بجائے اگر آپ نیچے اُترنے کی زحمت گوارا کرتے اور نزدیک سے جایزہ لیتے، تو آپ کو مزید معلوم ہوتا کہ یہاں تو دریا کے احاطہ میں کیا بلکہ دور دور تک بھی کوئی آبادی نظر نہیں آرہی۔ شاید یہ آپ نے غلط فہمی میں لکھا ہے کہ ’’اینگروڈھیرئ کی وہ آبادی جو دریا کی زمین پر آباد تھی (اور تا حال آباد ہے)‘‘ اس قسم کا جملہ آپ بالکل نہ لکھتے۔ اگر اہلِ شمال نے پہلے سے پشتے تعمیر کروائے ہیں، تو اہلِ جنوب کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنی زرعی زمینوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ اس سلسلہ میں اہلِ علاقہ، حکومت کے تعاون سے دریا کے وسط میں نہیں بلکہ دریا کے کنارے ایک چھوٹا سا پشتہ تعمیر کر وارہا ہے، جس سے نہ تو علی گرامہ کو ڈبویا جاسکتا ہے اور نہ ہزارہ کو۔ اگر شمالاً پشتہ سے اینگروڈھیرئ کو ڈبویا نہیں جاسکتا، تو جنوباً پشتہ سے علیگرامہ اور ہزارہ کو کیسے ڈبویا جاسکتا ہے؟ مذاقاً کہیں ’’ادبی اسکورنگ‘‘ تو نہیں ہورہی؟
آپ نے جس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ لینڈ مافیا دریا کی ملکیت چھین کر آبادی اور مکانات تعمیر کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے، تو محترم! خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ یہ صرف ان کا خواب ہی ہوگا (ان شاء اللہ)۔ کیوں کہ اہلِ جنوب نے اپنی زمینوں کو کچھ اس ترتیب سے تقسیم کیا ہے کہ لینڈ مافیا یہاں سے گزر بھی نہیں سکتا۔ کم از کم اینگروڈھیرئ کی حدود میں زمین چھیننا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
آپ تسلی رکھیں، کوئی مائی کا لال بھی ایسا نہیں کرسکتا۔ اگر پٹوار کو بہ غور دیکھا جائے، تو غالباً دریاکے شمالاً اور جنوباً دونوں اطراف کے مکینوں نے کسی حد تک دریا کی ملکیت پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ کسی ایک فریق کو قصور وار ٹھہرانا انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔
قصہ مختصر ’’ریاست‘‘ نہ اہل جنوب کی ’’سگی ماں‘‘ ہے اور نہ اہل شمال کی ’’سوتیلی‘‘ بلکہ پورے اہلِ سوات کی سرے سے کوئی ماں ہے ہی نہیں۔ اگر ہوتی، تو وہ اپنے بچوں اور املاک کا دفاع ضرور کرتی اور خوب صورتی کے ضامن دریائے سوات کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل اور کوزے میں بند کرنے سے ضرور بچاتی۔دریا کی چوڑائی کے لیے عمایدین علاقہ کو اعتماد میں لے کر کم از کم ایک ہزار فٹ حد مقرر کرتی۔ چکدرہ سے لے کر مدین تک حتی المقدور دریا کے دونوں اطراف سو فٹ چوڑے روڈ کا سروے کرکے ایک جامع منصوبہ بناتی۔ سوات کو دہشت گردوں سے پاک، اسے اہلِ سوات اور سیاحوں کے لیے محفوظ اور پرکشش علاقہ بناتی، جس کی ماں نہیں ہوتی، اسے یتیم کہتے ہیں، اور اہل سوات یتیم ہیں۔
جہاں تک موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا سوال ہے، تو وہ حتی الوسع اپنی رعایا کے لیے آسانی اور سہولیات مہیا کرنے میں مصروف عمل ہے لیکن تاحال اس کے راستہ میں بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ بقایا تین سالوں میں اگر وہ ان رکاؤٹوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو شاید ہمیں حقیقی تبدیلی دیکھنا نصیب ہوجائے۔
756 total views, no views today


