سوات،پروبیشن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدرامیر الدین خان نے کہاہے کہ خیبر پختونخوا میں پروبیشن قانون کے تحت 1800قیدی پروبیشن افیسرزکے تحت قید گذاررہے ہیں،ان قیدیوں کی پروبیشن پرلئے جانے سے حکومتی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہورہی ہے،اس وقت صوبے میں 24پروبیشن افسیرز خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ابھی تک ان افسیرزکے اپ گریڈیشن کی گئی ہے اور نہ ہی ان کو جائز مراعات دی جارہی ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ پروبیشن قانون 1960کے تحت معمولی جرائم میں ملوث تین سال تک کے قید میں مقید ملزمان کو پروبیشن پر لیا جاتا ہے اور اب تک صوبہ بھر میں 1800قیدیوں کوپروبیشن پر لیکر وہ پروبیشن افیسرز کی نگرانی میں قید گذاررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ اس قانون کے تحت ایک طرف جرائم میں کمی واقع ہورہی ہے تو دوسری جانب حکومت کے مالی اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اوران قیدیوں کو جیل کے ماحول اور عادی ملزمان کے ماحول سے بچایا جاتا ہے،انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ صوبے میں خدمات انجام دینے والے پروبیشن افیسرز کے اپ گریڈیشن کا مسئلہ حل کیا جائے اور انہیں بنیادی مراعات اور سہولیات دی جائیں تاکہ وہ احسن طریقے سے خدمات انجام دے سکیں ۔
726 total views, no views today


