فی الوقت پاکستان ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ خصوصاً خیبر پختون خو ا کی تو ابتر حالت ہے جومسلسل ایک عرصہ دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے۔
سولہ دسمبر کو صوبائی دارلحکومت پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد صوبہ بھر میں تعلیم کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ اس کے لیے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خیبر پختون خوا میں تعلیم کے دروازے بند کرنے اور نئی نسل کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے لیے ایک نئی سازش کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ مجھے یہ بات انتہائی مضحکہ خیز لگتی ہے کہ درس گاہوں میں سیکور ٹی اقدامات کرنے کے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔ آخر ہم مہذب دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
حیرانی اس بات پر بھی ہے کہ ہم با ر بار تعلیم عام کرنے کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف امن کو تعلیم کے ساتھ مشروط کر تے ہیں۔ اب یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر اسکولوں میں مسلح اساتذہ ہوں اور اسکولوں کے اوپر مورچے بنائے گئے ہوں، تو پھر ہم کس امن اور کس تعلیم کی بات کرتے ہیں؟ اگر بچوں کو اسلحہ کے سائے میں پڑھایا جانے لگا، تو یہی بچے بڑے ہوکر قلم اور کتاب ہاتھ میں لینے کو ترجیح دیں گے یا پھر اسلحہ؟
تقریباً سات سال پہلے بھی سوات میں ایسی ہی صورت حال تھی، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی تھی۔یوں بچوں کا مستقبل اس وقت بھی داؤ پر لگایا گیا تھا۔
وادئ سوات میں فوجی اپریشن کے بعد اسکولوں کو دوبارہ کھولا گیا اور بچے بچیاں بلا خوف و خطر اسکول جانے لگیں لیکن آرمی پبلک اسکول حملہ میں بے گناہ بچوں کی شہادت نے پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
آرمی پبلک اسکول میں بچوں کو مار کر ظلم کی مثال قایم کی گئی۔ مذکورہ واقعہ پر ساری دنیا رو رہی تھی۔ اس حملہ کے بعد سوگ کے طور پر باقی ماندہ پاکستان میں بالعموم جب کہ خیبر پختون خوا میں بالخصوص اسکولوں کو حفاظتی اقدامات کے پیش نظر بند کرنے کا فرمان جاری کیا گیا۔ اس فیصلہ سے ہم سب اتفاق رکھتے تھے۔ اب توآرمی پبلک اسکول کو دوبارہ کھول دیا گیاہے جب کہ سوات کے تمام اسکولوں کو مکمل سیکورٹی دینے کے بعد دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حالاں باقی ماندہ پاکستان کے مقابلہ میں سخت سیکورٹی کے انتظامات سوات میں ہیں۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ تمام پاکستان میں اگر اسکول بند ہوتے، تو ہوتے مگر سوات میں بند نہیں ہونا چاہیے تھے۔ تا کہ ہم دنیا کو پیغام دیتے کہ سوات کتنی محفوظ جگہ ہے، مگر ایسا نہیں ہوا اور ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر سوات کے تمام اسکول کو بند کیا گیا۔ گورنمنٹ اسکول اور کالج تو ویسے بھی سردیوں میں دو مہینے بند رہتے ہیں لیکن بات غیر سرکاری اداروں کی ہے جو سال میں صرف ایک مہینہ بند رہتے ہیں۔ آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد کھلبلی مچ گئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سوات کا ہر اسکول دہشت گردوں کے نشانہ پر ہے۔ سوات کے وہ تمام بچے اور بچیاں جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول جاتی ہیں، غیر محفوظ ہیں۔ ان احکامات سے طلبہ و طالبات کے ذہنوں پر کیا اثر پڑا، اس طرف کسی نے تو توجہ نہیں دی۔ البتہ نجی اسکول مالکان نے ان حالات کا بھر پور فایدہ اٹھایا اور سیکورٹی کو جواز بنا کر فیسوں میں سو فی صد اضافہ کردیا۔ اب سیکورٹی کے نام پر ہر اسکول کی چھت پر مورچہ اور گیٹ پرمسلح لوگ تعینات ہیں۔ایک ایسا ادارہ جہاں سے ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں، جہاں سے امن کی شروعات ہوتی ہیں، وہاں بندوق کو دیکھ کر کیابچوں کے دل میں خوف جگہ نہیں پائے گا؟ کیا بندوقوں کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے بچپن سے ہی ہتھیاروں کے شوقین نہیں ہوں گے؟
ابھی کل پرسوں میراچھوٹا بھائی جب اپنے اسکول سے واپس گھر آیا، تواس کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ ہمارے اسکول کے گیٹ پر دو پولیس اہل کار کھڑے تھے۔ ان کے پاس بندوقیں تھیں، جو مجھے بہت پسند آئیں۔ مجھے اس کی یہ بات سن کر سخت افسو س ہوا کہ جس لعنت سے ہم اپنے بچوں کو بچاناچاہتے تھے، وہ آج ان کو اسکول کی دہلیز پر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کیا ہمارے ادارے اور انتظامیہ اتنی کم زور ہوچکی ہے کہ اب ہمارے اسکولوں کو بھی حفاظت کی ضرورت ہے؟
میرے ذہن کی ہنڈیا میں کئی ایک سوالوں کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پچھلے کئی روز سے کھد بد کر رہا ہے کہ کیا پورے پاکستان میں واحد پختونوں کے بچے غیر محفوظ ہیں جو ان کی حفاظت کے لیے اتنے اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ پنجاب اور سندھ میں پولیس عوام کی حفاظت کے لیے کام کررہی ہے اور وہ بھی ایسی پولیس جو بیس روپے میں بِکتی ہے، مگر ان صوبوں میں ایسے واقعات پیش نہیں آتے جب کہ پختون خوا میں سیکورٹی کے لیے درجن بھر ادارے کام کر رہے ہیں، اس کے باوجود ہم غیر محفوظ ہیں۔ آخر وہ کون سی قوت ہے جس کی نظر صرف پختونوں اور ان کے بچوں پر ہے؟
ساری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ پختون انتہائی مہمان نواز اور بہادر قوم ہیں۔ جب بھی ملک پر دشمن نے نظرِ بد ڈالی ہے، تو پختون وہ واحد قوم ہیں جو ملک کی حفاظت کے لیے سب سے آگے ہوتے ہیں، مگر آج ہم خود غیر محفوظ ہیں۔ 2005ء سے مسلسل پختونوں کے خطہ میں آگ جل رہی ہے۔ اس آگ میں اب تک ہزاروں پختون اور ان کے خاندان جل کر راکھ ہوچکے ہیں۔ ہم سروں پر ایک ایسی جنگ لڑی جا رہی ہے، جو دوسروں نے ہم پر مسلط کی ہے۔ اس جنگ کے لیے یہاں ان سطور میں پشتو کی وہ مشہور کہاوت ہی رقم کی جاسکتی ہے کہ ’’ہندو ستڑے خدائے ناراضہ۔‘‘
اسکولوں کے کینٹینوں کوبند کرنے سے کیا ہوگا؟ اسکولوں کی دیواریں اونچا کرنے سے کیا ہوگا اور اسکولوں پر دو پولیس اہل کار کھڑا کرنے سے کیا دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے؟ جو لوگ آرمی کے اسکول میں اتنی ٹایٹ سیکورٹی کے باوجود داخل ہو سکتے ہیں، ان کے لیے ایک عام سے اسکول میں داخل ہونا کون سی بڑی بات ہے؟
قارئین کرام! ارباب اقتدار کہتے ہیں کہ اسکولوں کے کینٹین بند ہوں گے۔ اسکولوں میں بریک سمیت اسمبلیاں بھی نہیں ہوں گی۔ صرف اس وجہ سے کہ آرمی پبلک اسکول کے حملہ میں کینٹین کے لوگ ملوث تھے۔ مگر کیا ہم یہ بھروسہ رکھ سکتے ہیں کہ اسکولوں کی حفاظت پر مامور افراد کچھ نہیں کریں گے؟
جناب! اسکولوں کوبند کرنے یا انھیں سیکورٹی دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہ تو ہم خود اپنے ہاتھوں ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں کہ کون اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے ایسی گھناؤنی حرکات کر رہا ہے؟ کیوں خیبر پختون خواکے لوگوں اور معصوم بچوں کو تعلیم سے دور کیا جا رہا ہے؟ ہر بارپختون قوم کے ساتھ ہی کیوں زیادتی ہوتی ہے؟ دہشت گردی کا داغ تو ہمارے دامن پر لگ چکا ہے، اب ہم کو تعلیم سے دور رکھنے اور ہماری نسل کو ان پڑھ گنوار پروان چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بچوں کو اسلحہ کے نام سکھائے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ حیف، اب اساتذہ مسلح ہو کر بچوں کو امن اور محبت کی تعلیم دیں گے۔
آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے فوراً بعد پختون خوا میں بالعموم اور سوات میں بالخصوص ایک ہنگامی صورت حال نے جنم لیا تھا۔ اب اتنے دن گزرنے کے بعد ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے جیسے خطرہ ٹل چکا ہے۔ نہ اب اسکولوں کے حوالہ سے کوئی اجلاس نظر آرہا ہے اور نہ ہی میڈیا کوگرما گرم بیانات دیے جارہے ہیں جس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ خطرہ بس اس وقت تھا اور اب ٹل گیا ہے۔ عجیب مذاق کیا جا رہا ہے پختون قوم کے ساتھ اور ہمارے نام نہاد ’’بڑے‘‘ ہیں کہ چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ ہی کوئی سبیل نکالے تو نکالے، ورنہ پختون خوا پر تو ’’خیر صلا‘‘ والی بات صادق آتی ہے۔
988 total views, no views today


