تحریر:۔ ایم زادہ
منشیات نسلوں کی تباہی ہے منشیات ایک ایسی وبا ہے جو پورے کا پورا معاشرہ تباہ کردیتی ہے۔ نسل در نسل کی تباہی کا منشیات سے ایک گہرا تعلق ہیں ویسے تو پورے پاکستان میں لیکن خاص طور پر خیبرپختونخوا کے دیھی و شہری علاقوں میں منشیات آرام سے بک رہی ہے جسے ہم لوگ دیکھ کے بھی ان دیکھا کر رہے ہیں۔
ہمارے بچے جب اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہے ہوتے ہیں انکو موقع ملتا ہیں تب وہ بھی سوچتے ہیں کی یہ کیا چیز ہے جس کی طرف سب راغب ہیں تب وہ بھی چپ چپ کے نشے میں لگ جاتے ہیں اور یہ سب انکو ایک مزے کی بات لگ رہی ہوتی ہے لیکن انکے والدین کو اس بات کا جب احساس ہوتا ہے تب وہ بہت دور نکل چکے ہوتے ہیں۔
ہمارے درمیان منشیات فروش جنہیں استین کے سانپ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا وہ پیسے کے پیچھے انتے اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں پیسوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ہمارے مستقبل کے معماروں کو اس نشے کے کنویں میں دکھیل رہے ہیں اور اپنا کام چلاتے چلاتے وہ یہ بھول جاتے ہیں کے ہر عمل کا ایک رد عمل بھی ہوتا ہے جس میں انکے اپنے بچے بھی محفوظ نہیں۔
اب بھی وقت ہے خود کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے آواز اٹھائیں یہ نہ ہو کہ کل کو ایک بھی نوجوان نہ بچے اور ہم خون کے انسوں روئیں جس طرح آج ہزاروں خاندان اس وبا کے شکار ہوچکے ہیں۔ نشہ صرف ایک انسان کو برباد نہیں کرتا بلکہ اسکے پورے خاندان کو اپنے لپیٹ میں لیتا ہے۔ اور اس طرح ایک پورا کا پورا معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔
ہمیں منشیات فروشوں کو ہر طرح سے بینقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے لوگوں کو بچانے کے لئے آگے بڑھنا ہوگا اور اس کے لئے ہمیں ایک ہونا پڑے گا تب ہی ہم لڑ کر اپنی نسلوں کو اس وبا سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔
732 total views, no views today



