قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ
مندرجہ بالا شعرمولاناروم رحمہ اللہ کا ہے جس کا معنی ہے کہ‘‘عقل وہ ہے جو راستہ کھول دے اور راستہ وہ ہے جس پر چل کے آگے بادشاہی ملے۔’’حکماء اور شعراءکا کلام ہوتا تو مختصر ہے لیکن بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔بعض اوقات تو ایک جملے یا شعر پر پی ایچ ڈی اور تخصص کا ایک بھرپور مقالہ لکھا جاسکتا ہے لیکن ہر وقت تو اتنی طویل بات نہیں ہوسکتی لیکن بہ تقاضائے
مالایدرک کلہ لا یترک کلہ کہ جس چیز کو کلاً پایا نہیں جاسکتا تو کلیۃً ترک بھی نہیں کیا جاسکتا۔اب عقل ایک جوہر ہے خود روشن اور روشنی دیا کرتا ہے ۔اب یہ کہ اس کی روشنی پر کوئی کیا کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے یہ تو بندے پر موقوف ہے کہ ہر بندے کی ایک تو فطرت ہوتی ہے اور ایک ا س کا ماحول ہوتا ہے ۔یا ایک اس کی طبعی قوت ہوتی ہے اور ایک اس کی تربیت واکتساب ہوتی ہے۔فطرت میں زیادہ دخل ماں باپ کی طرف سے آئے ہوئے خلیات ،جینز اور ڈی این اے کاہوتا ہے جن میں اجداد اعلیٰ اور جدات عالیہ بھی داخل ہیں ۔جبکہ تربیت کچھ تو معاشرے سے ہوتی ہے اور معاشرے کا تربیت میں کافی دخل ہوتا ہے اور ظاہر بات ہے کہ معاشرت کا اولین درجہ تو والدین اور گھر ہی ہیں۔تبھی توکہتے ہیں کہ کسی پیشے کےحوالے سے ایک پیشہ کرنے والے کا بچہ جتنا آسانی سے وہ پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرسکتا ہے اتنی آسانی سے اسے کوئی دوسرا نہیں حاصل کرسکتا اور نہ یہ بندہ دوسرے فن کو اتنی آسانی سے حاصل کرسکتا ہے۔
بہرتقدیر عقل ایک عجیب عطیہ خداوندی ہے اور چونکہ انسان مادیات اور خواہشات سے جلد اور زیادہ متاثر ہوتا ہے اور اس کےحصول کے لئے کوشاں رہتا ہے اور زیادہ سےزیادہ آسائشیں اور رفاہتیں چاہتا ہے تو جب کوئی اس کے حصول کے لئے ایجادات کرکے دکھائیں تو ان بندوں سے اور ان ایجادات سے وہ سحر کی حد تک متاثر ہوجاتا ہے اور اس حد تک کہ باقی سب کچھ بھول جاتا ہے ۔
سو اب چونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا غلبہ ہے اور معیشت کا زیادہ تر دارومدار بھی اس پر موقوف ہے اور معیشت کا تعلق معدے سے ہے جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا تعلق عقل سے ہے سو اس کی خواہشات معیشت سے متاثر اور عقل وسائنس سے مرعوب ہوتا ہے اور یوں معاشرہ ومعاشرت زوال پذیر اور روحانیت اضمحلال کا شکار ہے۔یعنی زندگی مادی سطحی اور سفلی اشیاء کی مرہون منت ہوچکی ہے ۔ایسے میں انسانیت اور معراج انسانیت کا کیا تصور ہوسکتا ہے۔
ایسے میں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ عقیدہ وایمان مستحکم بنائیں ،خدا خوفی اپنائیں جس کے أساس پر اطاعت حق اور خدمت خلق وجود میں آئے ،دین کے روح کا فہم نصیب ہو تاکہ جو بھی کرے اس پر بصیرت پیدا ہو ۔یوں اس کو رائے کی اصابت بھی نصیب ہوگی ،ابلاغ کی قوت بھی نصیب ہوگی ،تدبر ،قوت فیصلہ اور ثبات واستقامت بھی نصیب ہونگے ۔ایسا بندہ مرعوبیت کے میدان سے نکل آتا ہے اور انفعالیت محض کے بجائے اس میں انفعالیت کے ساتھ فعلیت بھی پیدا ہوجاتی ہے ۔یعنی وہ صرف دوسروں سے متاثر نہیں ہوتا وہ خودمتاثر بھی کرتا ہے۔ایسے بندے کی سماجی زندگی معیاری ہوجاتی ہے اور یہی اس امت مرحومہ کے اصلی افراد ہوتے ہیں جو اپنا وظیفہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پورا کرسکتے ہیں ۔ایسے لوگ دعوت دے سکتے ہیں ،ایسے لوگ جو دعوتی جماعت یا نظم تشکیل دیں گے اس میں ایک تو تربیت ہوگی ،دوسری تنظیم ہوگی ،اس کے امراء ومامورین اپنے اپنے وظائف اور اس کے میدان اور حدود وقیود کو صحیح جانتے ہونگے ۔یہ جدوجہد بھی کریں گے تو صحیح طریقے اورپورے خلوص کے ساتھ کریں گے کیونکہ ان کی فکری تشکیل ہوئی ہوتی ہے۔ان کا انتظامی ڈھانچہ ہوتا ہے ۔وہ حکمت عملی جانتے ہیں اور یوں ان کاکام تحقیقی بھی ہوتا ہے اور تخلیقی بھی۔یہ سماج کا کام کرتے ہیں یا دین کاکام کرتے ہیں تو نیوٹرل ہوکے کرتے رہتے ہیں ۔یعنی ان کے کام میں نہ کسی کی جانب داری کا تاثر پایا جاتا ہے اور نہ کسی تعّصب کا۔اور یہ دونوں کام ان دو چیزوں کے نہ ہونے کا تقاضا کرتے ہیں ورنہ پھر تو یہ حق وباطل کا خلط ہے۔
ولا تلبسواالحق بالباطل وتکتمواالحق وانتم تعلمون
یہ لوگ محبت پیدا کرتے ہیں او رمذکورہ بالا افراد پر مشتمل نظام وتنظیم اس قابل ہوتی ہے کہ وہ تبدیلی لائیں کیونکہ ان کے ساتھ تائید ایزدی ہوتی ہے کہ ایسے لوگ عقل انسانی کے مطابق اسلام کا جامع تصور پیش کرتے ہیں ۔اب مسلمانوں کے دل میں عقیدہ ہو اور ساتھ ان کاعقل ودماغ بھی اس پر مطمئن ہو تو یہی تو تبدیلی ہے۔
؎ یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اوریہی اصل عقیدہ توحید اور زندہ توحید ہے۔
1,116 total views, no views today



