*قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ*
اسلام دین ہے جو ابدی اور دائمی ہے ۔انسانیت کے ارتقاء کے ساتھ اس کی تعلیمات ارتقاء کرتی رہیں ۔یہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور رسول پاکﷺکے ساتھ اس کی تکمیل ہوگئی۔
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا
اور یہ ارتقاء کسی انسانی ذہن اور اپروچ سے نہیں بلکہ القائی اور الہامی طور پر ہوئی ہے۔خالق کائنات کو ہر دور کے انسانوں کے فکری اور ذہنی لیول بھی معلوم تھا،اس کو ان کے خصائل اور کمالات کا بھی پتہ تھا اور ان کے نقائص کا بھی ان کو معلوم تھا اور اس کو ان کے ضروریات کا بھی پتہ تھا ۔یہ دین فرد کی بھی تربیت کرتا ہے ،معاشرہ کی بھی اور ریاست اور حکومت کی بھی۔فلاسفہ اور حکماء تہذیب الاخلاق ،تدبیر منزل اور سیاست مدنیہ تین اہم شعبوں اور ضرورتوں کا ذکرکرکے آئے ہیں۔تہذیب الاخلاق شخصی تربیت،تدبیر منزل خاندانی تربیت وتشکیل اور سیاست مدنیہ ریاست وحکومت کی ترتیب وتشکیل ہے۔
اب اسلام نے بحیثیت دین انسانی زندگی کے سارے شعبوں کے لئے اصول دیے اور ساتھ ساتھ کچھ اصول قوانین بھی دیے۔اور چونکہ زندگی ارتقاء پذیر ہے آگے بڑھتی رہتی ہے لہذا نت نئے مسائل پیش ہونگی جن کے لئے حل ڈھونڈنا پڑتا ہے۔اس حل کے لئے مجتہدین سلف نے واضح اصول مرتب کرکے امت کو دیے ہیں تاکہ دین مسخرہ اور بازیچۂ اطفال نہ بنے۔اب جیسے جیسے نت نئے مسائل پیدا ہونگی انہی اصول کے أساس پراس کا احوال وظروف کے مطابق حل نکالنا ہے۔حتی کہ وہ مسائل ومعاملات جو سلف کے فقہاء مجتہدین نے اجتہاد کے ذریعے نکالے ہیں اور ان کے مسائل میں سے مسلّمہ فقہاء ومجتہدین میں سے کسی کا قول بھی موجودہ احوال وظروف پر منطبق نہیں ہوسکتا تو پھر ثقہ اور معتمد علماء جو عصر حاضر میں اہل علم کی نظر میں مجتہد فی المذہب کے سطح کے قریب ہوتے ہیں وہ ان مسلّمہ اصول اجتہاد کے أساس پر استنباط کرکے حل نکالیں گے۔مذہب کے اس مستنبط حصہ کو فقہ کہتے ہیں۔جبکہ جو احکام نصوص قرآن وسنت میں ثابت ہیں اور قطعی الدلالۃ ہیں ان میں تغیر وتبدیل کا حق نہ کسی فرد کو ہے نہ گروہ کو ہے نہ کسی حکومت یا ریاست کواور نہ ہی پوری امت کو کہ وہ تو لفظ خدا اور لفظ رسول ہے ۔اب کون سی ایسی قوت ہوسکتی ہے جو لفظ خدا اور لفظ رسولﷺ کو یاچیلنج کرسکے یا تبدیل کرسکے۔
ایسے احکام کے متعلق یہ کہنا کہ اب دنیا بہت ترقی کرچکی ہے لہذا اس قسم کے احکام کو بھی تبدیل کیا جائے۔ تو اس سے اولاً تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کہنے والا بزعم خویش جتنا بھی بڑا سکالر ہو امت مسلمہ کے مسلّمہ علماء کے ہاں وہ جاہل محض ہی ہے۔یا پرش اس قسم کی بات کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاذاللہ نہ تو رسول پاکﷺ خاتم النبیین ہیں اور یا یہ کہ صرف اسلام دین نہیں نہ خاتم الادیان ہے بہ تقاضائے
ان الدین عنداللہ الاسلام
اور
لیظہرہ علی الدین کلہ
اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ یہ دین اور یہ منصوص احکام خدائے فرستادہ ہیں اور بہ تقاضائے ختم نبوت یہ احکام تاقیامت یعنی ابدی ہیں۔تو پھر یا تو معاذاللہ خدا کو بھی معلوم نہیں تھا کہ حالات تبدیل ہونگے اور یہ احکام وہاں کارگر نہیں ہونگے یا پھر معاذاللہ اس نے جھوٹ بولا ہے کہ یہ احکام ابدی اور ناقابل تبدیل ہیں ۔
اب افغانستان میں تبدیلی کیا آئی کہ ایک جانب تو وہ قوتیں ہیں جو وہاں سے نکل گئیں ۔ہمارے ہاں کے بے دانش ور ،تاریک خیال ،حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے موم بتی مافیا اور ان قوالوں کے ہمنواان کے وکیل بن کر کہہ رہے ہیں کہ
‘‘ امریکہ نے جو مقاصد حاصل کرنے تھے حاصل کرلیے ان کو کوئی شکست نہیں ہوئی ۔’’
جبکہ امریکہ کے سینٹ کمیٹی میں ان کے جنرل مارک ملر نے خود کہا کہ ہم جن مقاصد کے لئے گئے وہ حاصل نہ کرسکے۔اور صدر جوبائیڈن نے کہا یہ اب مزید خالص خسارے کا سودا تھا اور میں تیسری جنریشن کو اس جنگ کا ایندھن نہیں بنانا چاہتا۔
اب ان بیانات خصوصاً صدر کے بیان سے معلوم ہوا کہ وہ خوش ہیں کہ نکل گئے لیکن یہ ہائرشدہ افراد مررہے ہیں اس لئے کہ پراجیکٹ کو لپیٹ لیا گیا تو ان کی تنخواہیں بند ہونے کو ہیں۔ان میں کچھ بزعم خویش سیاست دان ،صحافی اور کچھ دوسرے لوگ شامل ہیں۔ہماری بھی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں اس حد تک کہ تمہارے ساتھ بہت برا ہوا تو ہمیں آپ کے اس حالت زار پر افسوس ہے۔
اب یہی لوگ ٹی وی چینلز پر، اخبارات میں اور سوشل میڈیا پر اپنا دھواں نکالتے رہتے ہیں ۔اب ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ یہ دھواں کہاں سے نکل رہا ہے البتہ آواز منہ سے آتی ہے اور پھرانہی میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے تو شرم وحیا کی حدیں پار کی ہیں کہ لگے ہیں تبصرہ کرنے کہ وہ یہ صحیح نہیں کررہے ،یہ صحیح نہیں کررہے، ان کو ایسا کرنا چاہئے، ایسا کرنا چاہئے وغیرہ وغیر ہ۔ارے بھائی!کیا انہوں نے رائے دینے لینے کے لئے کوئی اعلام عام یا طلب عام کیا ہے کہ ہمیں بتاؤ ہم نے کیا کرنا ہے یا ہمیں بتاؤ کہ ہم کیاصحیح اور کیا غلط کررہے ہیں یہ ہے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔یعنی فرزانہ ہونے کا دعوی کرنے کے باوجود ہم یہ دیوانے کیوں بنے ہیں۔البتہ یہ ہے کہ اس طرح ان کو کچھ ویورز مل جاتے ہیں، کچھ ریٹنگ ہوجاتی ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت تو ویسے بھی
ولکن اکثر الناس لا یعلمون
کی ہے۔
اب کیا ڈھائی سو سال جمہوریت میں رہ کے امریکہ کی جمہوریت مثالی بن چکی ہے؟
کیا یورپین کنٹریز میں کسی ملک کی جمہوریت مثالی ہے؟
کیا بڑی جمہوریت کہلانےوالی بھارت مثالی بن چکا ہے ؟وہاں اقلیتوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے دن دھاڑے کسی مسلمان کو گائے کا گوشت لانے کی تہمت پر ڈنڈوں سے انہیں قتل کیا جاتا ہے ۔کیا کیرالہ میں عیسائیوں ،پنجاب میں سکھوں ،کشمیر میں مسلمانوں اور پورے ہندوستان میں دلتوں اور نچلی نسل کے ہندؤوں کے کوئی انسانی حقوق ہیں؟لیکن یہ مافیا وہاں گنگ ہوجاتی ہے ۔اور کیا ہم پاکستان میں پچھتر(75) سال ہونے کو ہیں ہم سب کچھ ٹھیک کر گئے کہ ان سے دو مہینوں میں تقاضا کرتے ہیں کہ دودھ اور شہد کی نہریں نہیں روانہ ہوئیں ۔عورتوں کے حقوق نہیں ملے۔ چالیس سال تک جنگ زدہ ملک میں اور پھر یک دم ایک نئی انتظامیہ سے یہ سارے تقاضے کرنا کیا یہ انصاف ہے؟ لن ی بولنے اور لکھنے والوں کا کیا ہے انہوں نے تو بس ہوا نکالنا ہے ۔
درحقیقت یہ سارے لگے ہیں کہ دین کا راستہ کیسے روکا جائے یا جن لوگوں پر دین کا رنگ ہے ان کو کیسے گنوار،ناسمجھ ثابت کیا جائے یا ان کو کیسے دفاعی پوزیشن پر ڈالا جائے تاکہ وہ کسی بھی کام میں ہاتھ نہ ڈالیں اور ناکام اور نامراد ہوجائیں ۔اسی میں کچھ مسلمان ممالک کا بھی درپردہ ہاتھ ہے یعنی مسئلہ صرف غیر مسلم حکومتوں کا نہیں کئی ایک مسلمان ممالک جہاں بادشاہتیں ہیں اور ان کو احساس ہے کہ ہمارے عوام یا تو اس لحاظ سے ہمیں نہیں پسند کرتے کہ ہم کما حقہ اسلامی نظام نافذ نہیں کرتے کچھ نیچے دروں نیچے بروں والا معاملہ کررہے ہیں یا پھر ہمارے عوام کی معاشی حالت کوئی اتنی اچھی نہیں جبکہ وہ ہمیں دیکھتے ہیں کہ تعیّشات سے بہرہ ور ہورہے ہیں یا یہ کہ ہم آج کی دنیا خصوصاً آزاد دنیا کی بے لگام آزادی کو اپنانے کی طرف قدم اٹھا کے بڑھ رہے ہیں جو مسلمان عوام کو پسند نہیں یا پھر وہ مسلمان ڈکٹیٹرز ہیں جن کے بھی یہی مذکورہ معاملات ہیں یا پھر دعوے کے حد تک یا چلو مان لیا ووٹ کے حد تک جمہوری حکمران ہیں اور وہ بھی یہی کچھ کررہے ہیں تووہ سمجھتے ہیں کہ اگر طالبان کافی حد تک حقیقی انداز سے اسلام کی عملیت کرگئے تو یہ تو پھر افغانستان کی حدود تک محدود نہیں رہے گا اس سے مسلمان ممالک بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں ۔یہ جو نت نئے تجربے حکومتوں کے ہوتے رہتے ہیں حتی کہ جمہوری طرز حکومت کو بھی مختلف قسم کے پیوند لگائے جاتے ہیں ان سے تو مسائل حل نہیں ہورہے ۔اور أساسی تو دومسائل ہیں
۱۔بلاتفریق ضروریات زندگی کی فراہمی
۲۔اور امن وعدل
اب باقی تو تفصیلات ہیں ۔یہی دو چیزیں انسانوں کو مطلوب ہیں اور یہی دو حکومتوں کی ذمہ داریاں ہیں باقی امور میں تو لوگ گزارا کرتے رہتے ہیں۔جبکہ اسلام تو انہی دو کو اولین ضمانت دیا کرتا ہے
الذی اطعمہم من جوع وآمنہم من خوف
فاذاقہم اللہ لباس الجوع والخوف
اور
ولنبلونکم بشئی من الخوف والجوع
تینوں آیات میں خوف اور بھوک کا ایک ساتھ ذکر اسی کا مظہر ہے کہ خالق کائنات تو سارے کائنات کے ہر ذرے ذرے اور اس کے سارے تقاضوں کو جانتا ہے اور انسان کے تقاضوں کو بھی جانتا ہے۔اب یہ چیزیں نہ ہوں تو وہاں بھوک ہوگا ،وہاں بد امنی ہوگی ،وہاں ناانصافی ہوگی ،وہاں جرائم ہونگے اور حکومات تو جرائم کے کنٹرول اور مجرمین کو سزا دینے کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات ایک اچھی حکومت میں بھی یہ کام ہوتے ہیں کہ نفوس شریرہ تو ہر معاشرہ میں موجود ہوتے ہیں ۔ اب اسلام جو دین ہے مکمل نظام ہے اس میں اگر حقوق کی ایفاء اور عدل وامن کی توفیر موجود ہے تو جرائم پر سزا کا تصور بھی ہے تو یار لوگوں نے ابھی سے اسلامی سزاؤں کے حوالے سے واویلا شروع کردیا ہے ۔تو کیا یہ سزائیں فقہ ہے یا کہ شریعت ہے یعنی یہ مستنبط ہیں یاکہ منصوص ہیں اور اگر منصوص ہیں تو ہم نے تو پہلے ذکر کیا ہے کہ منصوص میں تو پوری دنیا بھی تبدیلی نہیں کرسکتی وہ تو ویسے ہی ہوگا جیسا کہ نص میں ہے۔اور سب سے بڑھ کر تو مسئلہ یہ ہے کہ ممالک درکنار افراد بھی ان کو ڈکٹیشن دے رہے ہیں جیسا کہ وہ کوئی آزاد ملک نہیں دیگر ممالک بلکہ ان بے دانش لوگوں کی کالونی ہے اور وہ لوگ ان کے غلام ہیں جبکہ ان کی تو فطرت میں غلامی ہے نہیں۔رہی ان کی مفلوک الحالی اور غربت تو یہ صحیح ہے کہ وہ دیگر کئی ممالک کی طرح پسماندہ ممالک میں سے ہے لیکن ان کی یہ حالت تو ساری دنیا نے کردی ہے اور اب کے ان سے کہتے ہیں کہ اگر ہماری طرف سے کسی اعانت کے منتظر ہیں تو پہلے یہ یہ کام کریں ،فلاں فلاں کو ساتھ لگائیں، فلاں فلاں کو حصہ دیں فلاں معاملے کو اس طرح کریں وغیرہ وغیرہ۔تو کیا انسانی امداد کے أساس پرآپ لوگوں نے ان کو غلام بنانا ہے ۔ارے بھائی!پہلے انہیں انسان مانو ،ان کو انسانی برادری میں شامل کرو بعد میں ان سے برابری کی بنیاد پر کچھ کہا کرو اور ان کو مطمئن کردو۔ وہ بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں ۔اس Planetکے باسی ہیں وہ بات سمجھتے بھی ہیں اور بات مانتے بھی ہیں اگر ان کے اصول کے خلاف نہ ہو ۔اور یہ تو معلوم ہے کہ ان کا اصولی مؤقف تو اسلام ہے ۔رہی یہ بات کہ اسلام میں کون سا مسئلہ فقہی ہے جو احوال وظروف کے تناظر میں اجتہاد واستنباط کے مسلّمہ اصولوں کے تحت مسلّمہ مجتہدین وقت تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ہاں یہ ہے کہ وہ کس کو مجتہد مانتے ہیں اس بارے میں آپ ان پرکسی کو امپوز تو نہیں کرسکتے کہ ہماری نظر میں یہ مجتہد ہے تو اس کی بات کو مانو۔ان میں اپنےعلماء ہیں اوربڑے ثقہ علماء ہیں انہوں نے تو جہاد بھی کیا اور اسی کے ساتھ ساتھ حصول علم کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر دو کاموں سے کتنے کمیٹڈCommittedتھے ۔اور ظاہر ہے کہ جس طرح انہوں نے جہاد اخلاص سے کیا اس طرح انہوں نے حصول علم بھی اخلاص سے کیا اور جس طرح ان کو جہاد کا ثمرہ مل گیا ان کا علم بھی ثمر آور ہے ۔اور دنیا نے ان کو دیکھا کہ ان دو تین سالوں میں انہوں نے سیاسی اور سفارتی میدان میں کیا سفارت کاری کی، کس انداز سے وقت کے بڑی بڑی طاقتوں کو اپنی بات پر مطمئن کیا یہ تو دنیا نے اعتراف بھی کیا کہ یہ لوگ اصول کے پابند ہیں بات کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں دلیل وبرہان کے ساتھ اور ساتھ ساتھ اپنی زبان کے بھی پکے ہیں جو کہہ جاتے ہیں وہ کر بھی جاتے ہیں۔ اور وجہ وہی ہے کہ الٹ پلٹ یا تو خوف کیوجہ سے ہوتا ہے یا پھر مفادات کے لئے اور ان دونوں چیزوں کو انہوں نے سالہا سال پہلے بائی بائی کہہ دیا ہے تو ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔
تو دنیا اگر واقعی مخلص ہے امن کے حصول میں ،افغانستان کی تعمیر میں تو وہ ان کو قریب کردیں تاکہ عمل کےحوالے سے ان کو پرکھیں ۔باقی یہ بات تو دنیا نے مشاہدہ اور تجربہ کیا کہ نہ تو بزور وجبر کسی سے بات منوائی جاسکتی ہے اور نہ ان پر اپنی فکر مسلط کی جاسکتی ہے ۔ہم یا تو مفت کے زور آور بننے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر دانشور بننے کی سعی نامسعود کرتے ہیں۔بھائی ان کا ملک ہے وہ ہم سب سے زیادہ اس کی بہتری کا سوچ بھی سکتے ہیں اور سوچتے بھی ہونگے کہ یہی فطرت ہے۔یہ تو صرف بدطینت اور بدباطن لوگوں کا کام ہوتا ہے کہ جس تھالی سے کھاتے ہیں اس پر تھوکتے بھی ہیں یعنی اپنے کو آباد کرنا اور ملک کو برباد کرنا جو بدقسمتی سے ہم پاکستان اور اس جیسے دوسرے ممالک میں دیکھ کے آئے ہیں کہ جو حکومت کرتے ہیں وہی اس کو لوٹتے رہتے ہیں یعنی وہی اس کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
رہی بات اسلام کی تو جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے یہ دین ہے، یہ نظام ہے باتھ روم کے آداب سے لے کر بین الاقوامی تعلقات وقوانین تک سارے کا سارا اس میں موجود ہے یعنی اس کے اصول دیے گئے ہیں جس میں سے جو فقہی امور ہیں ان کو دیکھا جاتا ہے کہ آج کے احوال پر منطبق ہیں یا کہ نہیں تو پھر اجتہاد سے اس میں تبدیلی کی جاتی ہے اور جو شریعت اور منصوص احکام ہیں وہ تو ناقابل تبدیل ہیں ۔البتہ یہ فکر کسی کو نہیں ہونی چاہئے کہ اس میں کسی کا حق مارا جائے گا وہ تو اس میں ثبت ہے ایک بندہ مارنا چاہے تو دس علماء اس کوروک دیں گے کہ یہ کیا ہے یہ تو شریعت کے خلاف ہے ۔تو اچھا ہے کہ اب وہاں خواتین اور اقلیتیں بھی تائید میں نکل آئے ہیں کہ ہم یہ نظام عدل وامن چاہتے ہیں ۔مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اصول سے انحراف کیا جاتا ہے تو ان کے لئے بھی اصول ہیں او دنیا کے لئے بھی اصول ہیں جن میں سرفہرست ہر ملک وقوم کی آزادی اور خود مختاری، ان کی اپنی مرضی کی حکومت، ان کا اپنا نظام اور قانون اور یہ کہ کسی کو حق نہیں کہ کسی اور کو ڈکٹیٹ کرے یا تعاون کے نام پر ان کو ذہنی فکری یا نظامی غلام بنانے کی کوشش کرے ۔یہ تو مسلمہ قانون عدل کے بھی خلاف ہے۔
600 total views, no views today



