انتخاب: سجاد احمد (سوات)
* عزیز و اقارب: میرا حقیقی بھائی کل ایک تھا۔ وہ تیس برس دیوانہ رہ کر مر گیا۔ میرا ایک بھائی، ماموں کا بیٹا، نواب ذوالفقار بہادر کی حقیقی خالہ کا بیٹا ہوتا تھا اور مسند نشینِ حال باندہ کا چچا تھا۔ وہ میرا ہمشیر بھی تھا۔ یعنی میں نے اپنی ممانی اور اس نے اپنی پھوپھی کا دودھ پیا تھا۔ علی بخش مرحوم (میرا برادر نسبتی) مجھ سے چار برس چھوٹا تھا۔ اس نے چھیاسٹھ برس کی عمر پائی۔ نئی تحریر و تقریر کا آدمی تھا۔ اکبر آباد میں میور صاحب سے ملے۔ اثنائے مکالمت میں کہنے لگے کہ میں چچا جان کے ساتھ لارڈ لیک کے لشکر میں موجود تھا اور ہولکر سے جو محاربات ہوئے ان میں شامل رہا ہوں۔ بے ادبی ہوتی ہے، ورنہ اگر قبا و پیرہن اتار کر دکھاؤں، تو سارا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ جا بہ جا تلوار اوربرچھی کے زخم ہیں۔ وہ ایک بیدار مغز اور دیدہ ور آدمی۔ ان کو دیکھ کر کہنے لگے کہ نواب صاحب ہم ایسا جانتے ہیں کہ تم جرنیل صاحب کے وقت میں چار پانچ برس کے ہوگے۔
یہ سن کر آپ نے کہا: ’’درست، بہ جا ارشاد ہوتا ہے!‘‘ خدایش بیا مرزادوبدین دروغہائے بے نم مگیراد
* احباب: اللہ اللہ، اب بھی ہندوستان میں ایسے لوگ ہیں کہ میں نے ان کو دیکھا نہ انھوں نے مجھ کو دیکھا، نہ میرا کوئی حق ان پر ثابت۔ نہ ان کو کوئی خدمت مجھ سے لینی منظور۔
خیر فقیر ہوں، جب تک جیوں گا، دعا دوں گا، تمام عمر ممنون اور شرمندہ رہوں گا۔ نواب مصطفی خاں بہ میعاد سات برس کے قید ہوگئے تھے، سو ان کی تقصیر معاف ہوئی اور ان کو رہائی ملی۔ جہانگیر آباد کی زمین داری اور دلّی کی املاک اور پنشن کے باب میں کچھ حکم نہیں ہوا۔ ناچار وہ رہا ہو کر میرٹھ ہی میں ہیں۔ ایک دوست کے مکان میں ٹھہرے ہیں۔ میں بمجرد استماع اس خبر کے ڈاک میں بیٹھ کر میرٹھ گیا، ان کو دیکھا۔ چار دن وہاں رہا، پھر ڈاک میں اپنے گھر آیا۔ تاریخ آنے جانے کی یاد نہیں۔ حضرت مولوی صدر الدین بہت دن حوالات میں رہے۔ کوٹ میں مقدمہ پیش ہوا، روبکاریاں ہوئیں۔ آخر صاحبانِ کورٹ نے جان بخشی کا حکم دے دیا۔ نوکری موقوف، جائیداد ضبط، ناچار خستہ و تباہ لاہور گئے۔ فنانشل کمشنر اور لیفٹیننٹ گورنر نے ازراہِ ترحم نصف جائیداد واگزاشت کی، اب نصف جائیداد پر قابض ہیں، اپنی حویلی میں رہتے ہیں۔ کرائے پر معاش کامدار ہے۔ اگرچہ یہ امداد ان کے گزارے کو کافی ہے، کس واسطے کہ ایک آپ اور ایک بی بی۔ تیس چالیس روپے مہینے کی آمد۔ لیکن چوں کہ امام بخش کی اولاد ان کی عترت ہے اور وہ دس بارہ آدمی ہیں، لہٰذا فراغ بالی سے نہیں گزرتی۔ ضعفِ پیری نے بہت گھیر لیا ہے۔ عشرۂ ثانیہ کے اواخر میں ہیں، خدا سلامت رکھے، غنیمت ہیں۔ مولانا فضل حق خیرآبادی کا مرافعہ میں حکم دوامِ حبس بہ حال رہا بلکہ تاکید ہوئی کہ جلد دریائے شور کی طرف روانہ کرو۔ ان کا بیٹا ولایت میں اپیل کیا چاہتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ جو ہونا تھا سو ہو لیا۔
ہائے میجر جان جاکوب کیا جو ان مارا گیا، سچ، اس کا شیوہ یہ تھا کہ اردو کے فکرکو مانع آتا اور فارسی میں شعر کہنے کی رغبت دلواتا۔ یہ بھی ان ہی میں ہے جن کا میں ماتمی ہوں۔ ہزارہا دوست مر گئے، کس کو یاد کروں اور کس سے فریاد کروں۔ جیوں تو کوئی غم خوار نہیں، مروں تو کوئی عزادار نہیں۔ وبا کی آنچ مدھم ہو گئی، الور میں بھی وبا ہے۔ پان سات دن بڑا شور رہا، الگزنڈر ہیدرلی مشتہر بہ الک صاحب مر گیا۔ واقعی بے تکلف وہ میرا عزیز اور ترقی خواہ اور راج میں اور مجھ میں متوسط تھا۔ اس جرم میں ماخوذ ہو کر مرا۔
خیر یہ عالم اسباب ہے اور اس کے حالات سے ہم کو کیا؟
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
(کتاب ’’غالبؔ کی آپ بیتی‘‘ مرتب: پروفیسر نثار احمد فاروقی‘‘ سے ماخوذ)
772 total views, no views today


