گیارہ مئی 2013ء کے الیکشن کی جب مہم شروع ہوئی، تو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور کا اعلان کیا، تو اُس میں سر فہرست انرجی، ای کانومی، ایجوکیشن، جسٹس، امن اور دیگر پواینٹس شامل تھے۔
پی ایم ایل (ن) نے الیکشن مہم میں عوام کو بجلی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا نعرہ لگایا۔ چھوٹے میاں صاحب ہر جلسے جلوس میں لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی نوید سناتے۔ میاں صاحب نے یہ بھی کہا کہ اقتدار میں آتے ہی پہلے چھے ماہ میں لوڈ شیڈنگ کا نام ونشان نہیں رہے گا۔ عوام کو سر سبز لہلہاتے باغ دکھائے اور بے چارے معصوم عوام جھانسہ کھا گئے اور آنکھیں بند کر کے ووٹ کاسٹ کر دیئے۔
گیارہ مئی 2013ء کا سورج جب غروب ہوا تو میاں+ میاں اقتدار میں آ گئے اور اُس کے بعد پھر آپ کو پتہ ہی ہے۔ میاں صاحب نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کو ایک سال درکار ہے۔ پھر کہا کہ بجلی کا بحران دو سال میں ختم کر دیا جائے گا اور اب کہا جاتا ہے کہ ملک کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے منصوبوں پے کام جاری ہے جو 2017ء کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔
بجلی کا بحران سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے۔ ایک گھنٹے کے بعد دو گھنٹے کی لو ڈشیڈنگ فرض کر دی گئی ہے۔ شہری علاقوں میں چودہ سے سولہ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے عوام کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور لاین میں فنی خرابی پیدا ہونے کی صورت حال میں علاحدہ بونس سے بھی عوام کو دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ابھی یہ سردیوں کا موسم ہے جب کے اے سی، پنکھے فریج کا استعمال بند ہے، تو یہ حال ہے۔ گرمیوں میں کیا عالم ہوگا؟ اس بات کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔
توانائی کو کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ دنیا کے نقشہ پر پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اٹھارہ سے بیس گھنٹے تاریکیوں میں ڈوبا رہتا ہے۔ دنیا کا ایسا کوئی شعبہ نہیں جو بجلی پر انحصار نہ کرتا ہو۔ سب اسی کی مرہون منت ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے جا رہے ہیں مگر بجلی سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے ملک خداداد میں تمام تر وسایل موجود ہیں۔ ایشیاء کا سب سے بڑا نہری نظام، تھر کا کویلہ، بلوچستان میں سوئی کے مقام پر اتنی گیس موجود ہے کہ ملک کی گاڑی چل کیا، میں کہتا ہوں دوڑ سکتی ہے۔
پر بابا، ہمیں اس سے کیا؟ ہمارے سویس بنک میں اکاؤنٹس ہیں۔ بیرون ملک جائیداد ہے۔ وہاں تو سب ٹھیک ہے اور ویسے بھی ہماری کون سی بجلی جاتی ہے؟ جاتی عمرہ سکیٹر بھی بجلی کے لیے بند نہیں ہوتا۔ رعایا کی بدقسمتی کبھی نا اہل قیادتیں، تو کبھی صوبائی اختلافات، تو کبھی ٹیکنالوجی کی عدم دست یابی کے باعث موجودہ وسایل کو بروئے کار نہیں لایا جا سکا ۔پی پی کے دور حکومت میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے دیامر بھاشا ڈیم کا افتتاح کیا تھا، جس سے پینتالیس سو میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہونا تھی اور اُس وقت بھاشا ڈیم ایک سو بارہ ارب ڈالر کا منصوبہ تھا۔ بد قسمتی پی پی کا دور بھی گزر گیا اور منصوبہ کی تکمیل بھی نہ ہوسکی اور دو سال ن لیگ کو ہونے کو ہیں ۔اگر ڈیم بن جاتا، تو پندرہ ہزار افراد کو روزگار اور تربیلا ڈیم کی عمر میں پینتیس سال کا اضافہ بھی ہونا تھا۔ تربیلا ڈیم اب مسلسل مٹی سے بھرتا جا رہا ہے۔ تربیلا اور منگلا سے اٹھائیس فی صد بجلی جب کہ باقی کی بہتّر فی صد بجلی مہنگے فرنس آیل سے پوری ہو رہی ہے۔ توانائی بحران سے ملکی معیشت تباہ وبرباد ہوچکی ہے۔ لوگوں کے کاروبار نہ ہونے کے برابر ہیں اور ٹیکسٹایل فیکٹریوں کو تالے لگ رہے ہیں جس سے ہزاروں مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے جائیں اور بند بجلی گھروں کو بھی چلایا جائے۔ اس کے علاوہ ونڈ پاؤر، شسی توانائی اور کویلہ سے بجلی کی پروڈکشن میں اضافہ کیا جائے، تاکہ ملک اندھیروں سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوسکے۔
میٹروبس منصوبے کوئی غلط بات نہیں مگر ماہر معاشیات ڈاکٹر رابنز لکھتے ہیں: ’’جب خواہشات لاتعداد ہوں اور وسایل محدود، تو وہی خواہش اور کام کرنا چاہیے جس کی اشد ضرورت ہو۔‘‘
تو حضور والا، اس وقت میرے ملک کو بجلی چاہیے نہ کہ میٹرو بس۔ ایک دوست نے ایس ایم ایس کیا جس میں لکھا تھا کہ ماشااللہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، مگر اس کے پاس بجلی نہیں، تو کہیں ایسا نہ ہو ایٹم بم اندھیرے میں چل جائے!
تو مختصر یہ کہ ’’حضور والا! ’’بجلی چاہیے بجلی!‘‘
700 total views, no views today


