ابراہیم (ایم اے بی ایڈ،سوات )
سات فروری 2015ء کو اتفاقاً روزنامہ آزادی کے ادارتی صفحہ پر کالم ’’این ٹی ایس اور ہمارے اساتذہ‘‘ کے عنوان سے پڑھنے کو ملا۔ مجھے لکھاری کی کم علمی اور کوتاہ نظری پر بے حد افسوس ہوا۔
محترم لکھاری صاحب آخر ’’اساتذہ‘‘ ہی سے این ٹی ایس کیوں؟
کیا ہمارے ملک کے باقی ماندہ ادارے اپنی کارکردگی میں کامل ہیں؟ کیا اسپتالوں میں تمام مریضوں کا جذبۂ خدمت کے تحت علاج ہورہا ہے؟ کیا حکومت کی طرف سے کروڑوں مالیت کی مشینری مریضوں کے امراض کی تشخیص اور علاج معالجہ کے لیے فعال ہے؟ تو جناب، پھر اسپتالوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے این ٹی ایس کیوں نہیں؟
کیا انصاف کی فراہمی میں ہمارے معاشرہ کے سبھی لوگ اپنا کردار ادا کررہے ہیں؟ تو پھر معاشرہ کے افراد کی ایمان داری کا امتحان لینے کے لیے این ٹی ایس کیوں نہیں؟
کیا ہمارے کالجوں اور یونی ورسٹیوں سے فارغ التحصیل سبھی لوگ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پیروکار اور عالم فاضل ہیں؟ اُن سے این ٹی ایس کیوں نہیں؟
سی این ڈبلیو والوں سے این ٹی ایس کیوں نہیں؟ کیا کروڑوں روپیہ سے بننے والی سڑکیں اور عمارتیں اُن کی نا اہلی اور خیانت کا منھ بولتا ثبوت نہیں؟ حال ہی میں جی پی ایس طاہر آباد میں مئی 2014ء میں ایک کمرہ تعمیر ہوا ہے۔ کوئی صاحب بصیرت محکمۂ تعمیرات والوں کی ایمان داری کا عملی مظاہرہ یہاں آکر دیکھے۔ لہٰذا اُن کے لیے این ٹی ایس کیوں نہیں؟ کہ ان میں بھی ایمان دار لوگوں کا انتخاب ہوجائے۔
ہمارے ملک کا سسٹم عجیب ہے۔ یہاں معاشرہ کے جو ’’کریم‘‘ اور ’’قابل‘‘ لوگ ہیں، وہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبہ میں چلے جاتے ہیں اور جو رہ جاتے ہیں، وہ پی سی ایس اور اس قبیل کے دیگر امتحانات پاس کرکے ان کے باس بن جاتے ہیں۔ اور جو لوگ ان امتحانات سے بھی رہ جاتے ہیں بلکہ اُن میں سے اکثر تو ڈگری ہولڈرز بھی نہیں ہوتے، وہ ہمارے سیاست دان بن کر ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن جاتے ہیں۔ لہٰذا وہی سب کے ’’باس‘‘ بن جاتے ہیں۔ اس لیے ہمارے وزراء، ممبران صوبائی وقومی اسمبلی سے ملکی آئین اور سیاسیات (Political Science) میں این ٹی ایس کیوں نہیں؟
اس طرح ملک عزیز کے ’’دوسرے اداروں‘‘ کے’’ اہل کاروں‘‘ سے این ٹی ایس کیوں نہیں؟ جن کا نام لے کر ہم خواب میں بھی ڈرتے ہیں۔
ہر کوئی اساتذہ کے پیچھے اس لیے پڑا ہے کہ یہ تمام سرکاری اہل کاروں میں سے انتہائی مظلوم اور قابل رحم طبقہ ہے۔ یہ محکمہ ہمارے سیاست دانوں کی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ کسی نے بھی ہمارے ساتھ انصاف کی بات نہیں کی۔مدتوں سے ہمارے ساتھ جاری ظلم اورنا انصافی کے ازالہ کی بات نہیں کی۔
قارئین، اٹھائیس نومبر 1986ء کو میری تقرری بہ حیثیت پی ایس ٹی ٹیچر ہوئی۔ 1990ء میں ایک پولیس حوالدار جناب فضل واحد خان نے مجھے موٹر سائیکل سواری پر پرچہ کیا تھا۔ وہی پولیس حوالدار صاحب محکمانہ امتحانات پاس کرکے ’’ایس پی‘‘ کے رینک تک پہنچ کر ریٹایر ہوا۔ میں نے 1994ء میں بی ایڈ کیا۔ میں ڈبل ایم اے ہوں اور تب سے اب تک ’’پی ایس ٹی‘‘ ہوں۔ اس طرح میرے اور بھی ہزاروں کی تعداد میں رفیق کار ترقی کی آس میں بیٹھے ہیں، لیکن یہ آس ایک حسین خواب بن کر رہ گئی ہے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے عوامی نیشنل پارٹی حکومت کا، جنھوں نے ہمیں ’’بی پی ایس ففٹین‘‘ سے نوازا۔ ہماری پرایمری تعلیم اگر روبہ زوال ہے، تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ پرایمری نصاب میں ہر روز تبدیلی کی جاتی ہے اور اعلیٰ تعلیم پر کوئی ترقی نہیں۔ لہٰذا پرایمری میں جو بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ہیں، وہ موجودہ اسکیل سے بہتر اسکیل کے متلاشی ہیں اور احساس کم تری کا شکار بنے بیٹھے ہیں۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پورا کرے۔ اساتذہ کو کوالیفکیشن کی بنیاد پر بی پی ایس ففٹین، سکسٹین اور بلا تفریق پی ایس ٹی اور سی ٹی دے دے۔ اسکولوں میں مطلوبہ کمروں اور اساتذہ کی فراہمی یقینی بنائے اور پبلک اسکول کے بچوں کے والدین کی طرح اپنے بچوں کی تعلیم میں دلچسپی لینے والے والدین سرکاری اسکول کے بچوں کو بھی نصیب ہوجائیں، تو کوئی امر مانع نہیں کہ سرکاری اسکول کے طلبہ ملک کے روشن مستقبل کے ضامن بن جائیں۔
تو بھائی محترم لکھاری صاحب! بات بے اعتماد کی نہیں بلکہ اساتذہ کی تذلیل و عزت نفس کی ہے کہ آخر صرف اساتذہ سے ہی این ٹی ایس ٹیسٹ کیوں؟ یہ یقیناًہماری توہین ہے۔ ہم اس تجویز کی ہر فورم پر مخالفت کریں گے۔ نیز موجودہ حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ کوالیفکیشن پر بی پی ایس سکسٹین اور سیونٹیندے کر ہمارے ساتھ نا انصافیوں کا ازالہ کرے، تاکہ اساتذہ پوری دل جمعی سے درس و تدریس پر توجہ دیں۔
آخر میں میری حکومت سے استدعا ہے کہ اساتذہ کی تذلیل کا شوشہ چھوڑ کر اُن کے احساس محرومی کا ازالہ کرے۔ تمام اساتذہ کو بی اے، بی ایڈ پر اسکیل بی پی ایس سکسٹیناور ایم اے بی ایڈ پر اسکیل بی پی ایس سیونٹین دے کر اساتذہ کی بے چینی کو ختم کرے۔
674 total views, no views today


