علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں چین کا کردار روز بہ روز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ’’چین‘‘، پاکستان کا سب سے با اعتماد و دفاعی دوست ہے۔ اس لیے پوری دنیا کی نظریں بالعموم اور علاقائی عسکری قیادت کی بالخصوص’ ’پاک چین دفاعی تعلقات‘‘ پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیاں خواہ وہ لبرل ہوں، نیشنلسٹ ہوں یا پھر مذہبی، تمام چین کو پاکستان کا نا قابل تسخیر دوست تصور کرتی ہیں۔ تمام سیاسی اور عسکری قیادتیں بھی اگر کسی مسئلہ پر سو فی صد متفق ہیں، تو وہ ہے ’’پاک چین دوستی۔‘‘ ایک چھوٹے سے بچے سے لے کر جوان اور بوڑھے تک اس دوستی پر فخر کرتے ہیں۔ چین کی قیادت بھی پاکستانی عوام اور قیادت کے اس جذبہ کو دوستی اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین حد سے زیادہ تعاون کر رہا ہے۔
پاک افغان تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے بھی چین کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ اشرف غنی کے دورۂ جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی اور جنرل راحیل اورجنرل رضوان کے تسلسل سے دورۂ کابل میں بھی چین کا کردار واضح ہے۔ چین کی سیکورٹی قیادت، افغانستان کی تذویراتی اہمیت سے بہ خوبی واقف ہے۔ اس لیے چین، پاک افغان سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ واقف حال بتا رہے ہیں کہ افغان قیادت یعنی قومی حکومت جس کے امریکہ سے قریبی تعلقات ہیں، وہ بھی چین کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جس کا واضح ثبوت افغان صدر اشرف غنی کا پہلا دورۂ چین ہے۔ چین کا علاقائی سیکورٹی میں جان دار کردار، خاص کر پاک افغان اعتماد سازی اور مشترکہ جدوجہد یہ سب اقدام وقت اور حالات کا تقاضا ہیں لیکن دوسری طرف پاکستان میں پاک چین راہ داری کا مسئلہ اب سیاسی ایوانوں سے نکل کر گلی، محلہ اور عوام تک پہنچ چکا ہے۔ قبایلی علاقوں، پختون خوا اور بلوچستان کے عوام کو پاک چین راہ داری کے روٹ پر شدید تحفظات ہیں۔ پختون؍ بلوچ عوام نے ’’پاک چین دوستی‘‘ کو ’’پنجاب چین دوستی‘‘ قرا دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار حکومت پاکستان اور چین کی قیادت کے سامنے کر دیا ہے، جس کا بین ثبوت سترہ فروری کو اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد اور یہ واضح پیغام ہے کہ ہمیں ’’پاک چین دوستی‘‘ تو قبول ہے لیکن ’’پنجاب چین دوستی‘‘ نہیں۔ چین کو اپنی پوزیشن اب واضح کرنا چاہیے۔ آیا وہ ریاست پاکستان سے دوستی چاہتا ہے یا مخصوص اور بااثر پنجابی حکم رانوں سے۔
قارئین کرام! میں موقعہ سے فایدہ اٹھا کر بہ حیثیت سیاسی طالب علم، چینی قیادت کے سامنے کچھ تلخ لیکن سچے حقایق سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جنھیں پختون اور بلوچ عوام کی آواز سمجھا جائے۔
1:۔ چینی قیادت کے جتنے بڑے منصوبے ہیں، سب پنجاب میں ہیں اور بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں چینی حکومت کی طرف سے کوئی بڑا منصوبہ نہیں ہے۔ پختون اور بلوچ عوام یہ سوچنے میں حق بہ جانب ہیں کہ ’’پنجاب چین دوستی‘‘ کے نام پر بلوچ اور پختونوں کو نظر انداز کرنا نہ چین کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان ہی کے مفاد میں۔ کیوں کہ علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی نظر یں لاہور کی بجائے ’’پشاور‘‘ اور ’’گوادر‘‘ پر ہیں۔
2:۔ چینی قیادت اپنے دوروں کو لاہور اور اسلام آباد تک محدود نہ کرے بلکہ کویٹہ، پشاور اور کراچی کو بھی پاکستان کا حصہ تصور کرکے یہاں کی علاقائی قیادت سے علاقائی مسئلوں کے حل کے لیے اقدامات کو اپنے ایجنڈا میں شامل کرے۔
3:۔ چینی وزارت خارجہ کے صرف اور صرف پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو ’’بیجنگ یاترا‘‘کرانے اور باقی تینوں صوبوں اور گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کے اقدام سے ان علاقوں کے عوام میں احساس کم تری جنم لے گا اور نتیجتاً فاصلے بڑھیں گے۔
4:۔ جس طرح امریکہ ان علاقوں کی علاقائی سیاسی قیادت کو امریکہ کے دورے کرا رہا ہے، چین کو چاہیے کہ وہ بھی مطالعاتی اور سیاسی دوروں کا اہتمام کرے۔ تاکہ چین اور پختون؍ بلوچ عوام ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت، طرزِ حکومت اور سیاست سے آگاہی حاصل کرسکیں۔
اگر چینی قیادت نے پاک چین دوستی کے نام پر ’’پنجاب چین دوستی‘‘ کو پروان چڑھانے کی روش تبدیل نہ کی، تو پاکستان کے انتہائی اہم صوبوں (بلوچستان اور پختون خوا) کے عوام کے اعتماد کو ناقابل برداشت دھچکا لگے گا، جس کا اثرآگے جا کر ’’چین افغان تعلقات‘‘ پر بھی پڑے گا۔
لہٰذا اب وقت ہے کہ نوازشریف اور چینی قیادت دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاک چین دوستی کو ’’پنجاب چین دوستی‘‘ میں تبدیل کرنے سے بازآجائیں۔ نیز چینی صدر اپنے دورۂ پاکستان میں اپنے سفیر کے ذریعے پختون اور بلوچ قیادت کو خصوصی طور پر بلائیں اوران کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ ورنہ گوادر اور پشاور میں چین کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں تیار بیٹھی ہیں۔ خدا نہ خواستہ کل محروم پختون اور بلوچ کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس تمام تر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتوں کی نظریں چینی صدر کے دورۂ پاکستان پر مرکوزہیں۔ اس کی کامیابی کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو فوٹو سیشن سے آگے جانا ہوگا۔ نیز افغانستان کے ساتھ زمینی حقایق کو حقیقی نظر سے دیکھنا ہوگا اور ’’پاک چین دوستی‘‘ کے لیے پختون؍ بلوچ تحفظات کو دور کرنا ہوگا۔
ورنہ عالمی طاقتیں اس تمام تر صورت حال سے فایدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔
694 total views, no views today


