ملک میں جاری صورتحال کا کچھ جائزہ لینے کے بعد میرے زہن میں کافی باتیں آٸ سوچا کچھ اس کے بارے لکھاجاۓ۔ اگر دیکھا جاۓ تو اس وقت اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں ہو شر با اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مزدور سے لیکر ساری عوام پریشانی کے عالم میں ہے۔
ایک طرف حکومت کی طرف سے عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف دیکھنے کو نہیں مل رہا البتہ ضروریات زندگی کی قیمتوں میں دوسو فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ ۴۵ ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ جس کا خمیازہ عام عوام بھگت رہی ہے۔ اسی طرح موجودہ حکومت بھی پچھلے ادوار کی طرح قرضے لیکر ملک چلا رہے ہے جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
میرے والد صاحب مرحوم کہاں کرتے تھے اگر بازار سے کچھ لینے کے غرض سے جاؤ تو دو تین دکانوں سے ریٹ کا پتہ کرکے بعد میں چیز خریدو، لیکن اس وقت ہمارے زہن میں یہ باتیں کہاں سے آتی، سوچ و فکر انسان کو اس جگہ پر خود لاکر کھڑا کر دیتی ہے۔ چنانچہ پچھلے ہفتے گھر کے ضروری اشیاء خریدنے بازار جانا پڑا، سوچا والد صاحب کی بات پر عمل کروں ، تین چار دکانوں سے پتہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ دکاندار حضرات نے بھی چریاں تیز کر رکھی ہے ، اور ریٹیل پرائس سے زیادہ چیزیں فروخت کررہے ہے۔ ایک آئٹم کی قیمت میں قریباً ۱۰۰ روپے کا فرق تھا! اس وقت سمجھ آیا کہ یہ مہنگاٸ کے ساتھ ساتھ خودساختہ مہنگائ بھی ہے، جس کا فلحال کوٸ پرسان حال نہیں ، البتہ اس کی زمہ داری پرائس ریگورلٹری اتھارٹی پر عائد ہےلیکن دیکھا جاۓ تو گوشت،دال،آٹا،دودھ،تیل،گھی سب کے سب نرالے ،غریب عوام کا کوٸ پرسان حال نہیں ، حکومت وقت کے نمائندوں کو اس مسلے کے حل کیلۓ اقدامات اُٹھانے کے ساتھ ساتھ ناجائزمنافع خوروں اور اشیاء خوردنوش کی چیزوں کو سٹاک کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارواٸ ہونی چاہیے!
از قلم خود
وقاص سلیم
604 total views, no views today



