سکردو کے بازار سے آگے ایک سڑک دنیا کے بلند ترین پہاڑی میدان دیوسائی کو مڑ جاتی ہے اور اسی بل کھاتی سڑک پر سدپارہ جھیل پر نظر پڑتی ہے جہاں اب ڈیم تعمیر کیا جا چکا ہے۔ سدپارہ کی جھیل کا پانی راتوں رات چڑھ جاتا ہے۔ ایک اکلوتا ہوٹل جھیل کے کنارے کھڑا ہے، اور آدھا پانی میں ڈوب چکا ہے، صرف تین کمرے باقی بچے ہیں۔ پورے چاند کی رات میں سدپارہ جھیل سفید جادو کرتی ہے جو کالے جادو سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔

سفروں میں گزری ایک رات کے پچھلے پہر میری آنکھ کھلی ۔ دروازہ کھول کے باہر نکلا تو باہر منظر ہی عجب تھا۔ پانی کی سطح بہت اوپر تک چڑھ آئی تھی اور کمروں کے باہر بنے لان جہاں میں بیٹھا تھا وہ اب دو تین انچ پانی میں تھے۔ سامنے چودھویں کا چاند ٹکا تھا اور پانی دودھیا ہوگیا تھا۔ ایسی وحشت کی رات تھی کہ دل چاہنے لگا جھیل میں ڈبکی لگا کر اس کے پاتال میں اتر جاؤں۔ پورے چاند کی راتوں میں کسی بھی جھیل پر ایسی وحشت طاری ہو جاتی ہے۔ شاید کوئی میری طرح کا دیوانہ آج بھی چاند دیکھتا ہو، اور شاید کوئی جھیل میں غرق بھی ہو گیا ہو۔

یہ اسکردو کا ہی خاصہ ہے کہ قدرت نے اسے ہر زیور سے آراستہ کیا۔ جھیلیں، صحرا، دریا، باغات، دنیا کی بلند ترین چوٹیاں، کیا ہے جو اسکردو میں نہیں۔ بالکل بلتی دُلہن کی طرح سجی یہ وادی سر سے پاؤں تک قابلِ دید ہے۔ انسان کی یادوں کا بھی ایک دفتر ہوتا ہے جو کھلتا ہے تو کھلتا ہی چلا جاتا ہے، فائلیں اوپر نیچے لگنے لگتی ہیں۔ سفر میں گزرے روز و شب فلم کی طرح آنکھوں اور دماغ کے پردے پر چلنے لگتے ہیں۔

پہاڑوں میں سورج جلدی ڈوب جاتا ہے لیکن کافی دیر تک ہلکی روشنی رہتی ہے۔ سورج غروب ہونے اور رات آنے کے بیچ کافی وقت ایسا ہوتا ہے جیسا بھور سَمے ۔۔۔۔ نہ دن ہوتا ہے نہ رات ۔۔۔ ایسے ہی ایک وقت میں چلتے چلتے رک کر دیکھا تو ایک گھر کی کھُلی کھڑکی سے بلتی بچے نے جھانکا اور اپنے ایک ہاتھ سے بائے بائے کرنے لگا۔ سارے دن کی تھکن سبز آنکھوں والے بچے کی اس حرکت سے ختم ہو گئی تھی، پھر کھڑکی بھی بند ہو گئی۔

اس پہاڑی کچی پگڈنڈی پر دور تک کوئی نہیں تھا، آہستہ آہستہ نیچے وادی میں آباد گھروں کی بتیاں جلنا شروع ہوئیں، دیکھتے دیکھتے وادی ٹم ٹم کرنے لگی۔ رات پھیلی تو پگڈنڈی چھوڑ کر مسافر مرکزی سڑک پر آ گیا۔ سڑک کے دونوں کنارے خشک پتوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہوا چلی تو پتوں نے کناروں کو چھوڑا اور تارکول کے اوپر رقص کرنے لگے۔ ہوا کے دباؤ سے خشک پتے لڑکھڑاتے جاتے تھے۔
خیالوں میں گم چلتے چلتے گلگت بلتستان اسکاؤٹس کی ایک چیک پوسٹ پر بیٹھے جوان نے سیٹی بجائی تو دھیان ٹوٹا۔ پہلے اس نے شناختی کارڈ چیک کیا، پھر بولا “معافی چاہتا ہوں، آپ کچھ لے کر تو نہیں چل رہے؟” دل تو چاہا کہ کہہ دوں کہ ہاں لے کر چل رہا ہوں ۔۔۔۔ خیال اور خشک پتے ۔۔۔ پر جواب میں بس زبردستی کا مسکرانا پڑا۔
ہوٹل پہنچا تو منہ دھوتے ہوئے آئینہ دیکھا، بالوں میں پتہ اٹکا تھا۔ مجھے پتہ نہیں کیا سوجھی میں نے وہ میپل کا چھوٹا پتہ اپنے کیمرا بیگ کی ایک جیب میں رکھ دیا۔ ابھی بھی سامنے ہی پڑا ہے۔

1,065 total views, no views today



