تحریر ؛۔ خورشید علی
وادی سوات سے تعلق رکھنے والا چالیس سالہ منیر خان جو اپنے علاقہ میں زمینداری کا کام کرتے ہیں ،یہ پیشہ ان کو اپنے اباو اجداد سے ورثہ میں ملا ہے ۔ منیر خان اپنے علاقہ میں سانپ بچھو اور دیگر کیڑے مکوڑے کھانے کیلئے مشہور ہیں ، منیر خان ضلع سوات کے تحصیل بریکوٹ کے علاقہ شموزئی گاوں کا رہنے والا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ کیڑے مکوڑوں میں سب سے زیادہ وہ بچھو کھانے کو پسند کرتے ہیں ، ان سے ملاقات میں منیر خان نے بچھو سے زہر نکال کر کھالیا ۔
سوات نیوز کیساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے منیر خان نے کہا کہ میں اپنے گاوں میں زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہوں ، کھیتوں میں فصل اگانا اور ان کے دیکھ بھال سے ہی میرے گھر کا چولہا جلتا ہے، انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں ہمارے کھیتوں میں سانپ اور بچھو بڑے تعداد میں پائی جاتی ہے، میں ان کو پکڑ کر اور زہر نکال کھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک میں 60 سانپوں کوکھا چکا ہوں۔

منیر خان کہتے ہیں کہ کیڑے مکوڑوں کو میں بچپن ہی سے کھاتا ارہاہوں، اس کا اب عادی بن چکا ہوں ، اگر نہ کھاوں تو گزارا مشکل ہو جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مقامی اور دیگر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم یہ کیوں کھاتے ہوں، مین ان کو جواب دیتاہوں کہ اس کو کھانے سے جسم میں تھکاوٹ دور اور دلی سکون ملتا ہے ۔
منیر خان کا کہنا ہے کہ پہلے وہ صرف سانپ پکا کر کھایا کرتے تھے۔ ’جب یہ بات مقامی لوگوں کو پتہ چلی تو مجھ پر شدید تشدد کیا گیا، جس کے بعد میں نے سانپ کھانا چھوڑ کر بچھو کھانا شروع کردیا۔ بچھو کھانے کے بعد یہ میری پسندیدہ خوراک بن گئی اور اب میں صرف بچھو ہی کھاتا ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ لوگ جب بچھو پکڑ لیتے ہیں تو میرے پاس لے آتے ہیں۔اور میں شوق سے ان سے لے لیتاہوں ۔منیر خان کا کہنا تھا: ’میں ایک وقت میں ایک سے لے کر 20 تک زندہ بچھو کھاتا ہوں جنہیں کھانے سے مجھے طاقت ملتی ہے اور میرے جسم پر پسینہ آنا شروع ہوجاتا ہے۔ جب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم میں طاقت آگئی ہے تو پھر میں ہر کام انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ سرانجام دیتا ہوں۔‘

کیڑے مکوڑوں اور خطرناک سانپوں بچھوں کو کھانے کے ساتھ ساتھ منیر خان گھر میں دیگر لوگوں کے ساتھ سالن اور سبزیاں وغیرہ بھی عام روٹین میں کھاتے ہیں منیرخان کہتے ہیں ’کہ گھرکے کھانے میں ذائقہ نہیں ہوتا۔ جب میں بچھو کھاتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم کی غذائی کمی پوری ہو گئی ہے۔ اب بہت سے لوگ میرے بارے میں جان گئے ہیں اور ملک کے طول وعرض سے لوگ میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے ملتے ہیں۔‘

منیرخان کہتےہیں کہ گرمیوں میں تو مسئلہ نہیں ہوتا لیکن جب سردیاں شروع ہوجاتی ہیں تو سردیوں کے موسم میں بچھو اور دیگر کیڑے مکوڑے غائب ہوجاتے ہیں اور انہیں حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے میں اپنے لیے سردیوں کے موسم میں سٹاک جمع کرتا ہوں، ادھر ادھر سے بچھو وغیرہ جمع کرکے ان کے لیے ایک جگہ بنا لیتا ہوں اور ان کے لیے زیادہ والیٹج والا بلب اور خوراک کا انتظام کر لیتا ہوں، پھر وقتاً فوقتاً انہیں کھاتا رہتا ہوں۔‘
منیر خان غیر تعلیم یافتہ ہیں اور بچپن سے کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میں ان چیزوں کو بہت پہلے سے کھا رہا ہوں، جس کی وجہ سے اب میرا جسم ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہے۔‘
طبی ماہرین کہتے ہیں کہ بچپن سے کھانے کیوجہ سے منیر خان کا قوت مدافعت نے ان چیزوں کو قبول کرلیا ہے ، اس لئے اس کو کھانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا ، لیکن طبی ماہرین نے دیگر لوگوں کو زہریلے کیڑے مکوڑے اور سانپ بچھو کھانے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے تجربات سے دیگر لوگ پرہیز کریں یہ ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں۔

1,033 total views, no views today



