یونی ورسٹی:۔ یہ اعلیٰ تعلیم کا دارالعلوم ہوتی ہے۔ اہل لوگ جاکر غیر معمولی اہل علم بن جاتے ہیں۔ یونی ورسٹی میں ہر طرح کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ مثلاً قانون کی تعلیم، طب کی تعلیم، انجینئرنگ کی تعلیم، زرعی تعلیم اور کمپیوٹر کی تعلیم وغیرہ۔ جو لوگ یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، انھیں ’’مکتبہ فکر‘‘ لوگ کہتے ہیں جو عملی زندگی میں آکر ملک کی ہر طرح سے خدمت کرتے ہیں۔ قانون کا طالب علم فارغ ہو نے کے بعد پھر عدالتوں میں ’’سچ کے سوا‘‘ کچھ اور نہیں بو لتا۔ طبیب، مریض کے درد والے دانت کو چھوڑ کر صحت مند دانت سے مریض کو ہمیشہ کے لیے محروم کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اس مہارت میں پانچ سال محنت کر چکے ہو تے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ سچ بولتے ہیں۔ زرعی تعلیم یافتہ کو ٹریکٹرز کی ڈرائیونگ سکھائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخصوص بیجوں کی اقسام کی پہچان کرائی جاتی ہے۔ کمپیوٹر کی تعلیم میں سوائے موت کے اور تمام جایز و ناجایز کام سکھائے جاتے ہیں۔ یونی ورسٹی میں طلبہ و طالبات دل کھول کر پڑھتے ہیں، لہٰذا یہی نوجوان شرعی نکاح کی زحمت سے بچ جاتے ہیں۔
یونی ورسٹی ملک میں ایسی تعلیم میں اچھا کردار ادا کرتی ہے ۔
رشوت:۔ رشوت لینا دین اسلام میں سخت منع ہے، مگر دنیا میں جایز ہے۔ کیوں کہ یہ بلا تکلف لی اور دی جاتی ہے، یعنی اس پیشہ میں سبھی مشہور ہیں۔ الرّاشی والمر تشی والی حدیث کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ چپکے سے لی اور دی جاتی ہے مگر پتا نہیں کہ نیب والوں کو اس میں ملوث افراد کا پتا کس طرح چلتا ہے۔ دنیا میں تمام کام اس کی مدد سے کیے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں رشوت کو ’’چائے پتّی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چائے میں زیادہ پتّی ڈال کر ہی اچھی چائے بنتی ہے جو کہ متعلقین کو پیش کی جاتی ہے ۔
فقیر:۔ فقیر غریب لوگ ہو تے ہیں ۔ ان کی مدد کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ لوگ منشیات کا کاروبار کرکے ہماری مدد کرتے ہیں۔ ایک فقیر کو پیسے حاصل کرنے کے لیے بھی وہی محنت کرنی پڑتی ہے جس طرح ایک مزدور کو خون پسینہ ایک کرکے کمانا پڑتا ہے۔ صنعت و حرفت کو چلانے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد کی طرح اس صنعت کے فروغ کے لیے بھی معتدد افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ پہلے پہل فقیر ایک روپیہ کے لیے صدا لگاتے تھے۔ اب وہ بھی کمپیوٹرایزڈ ہو کر دس روپیہ کے لیے آواز لگاتے ہیں۔ آپ بھی فقیر بن کر لاکھوں کمائیں اور شہرت پائیں۔ بس صرف چند دنوں کی بات ہے پھر کار، بنگلا اوروہ سب کچھ جس کی آپ تمنا کرتے ہیں، معمولی محنت کے عوض ملے گا یعنی ’’کم خرچ بالا نشین۔‘‘
جدید نسل:۔ اس سے مراد نئی شریف نسل ہے جو دن بہ دن بڑھتی ہے۔ جدید نسل کو بڑھانے کے ذمہ دار صرف دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ یعنی مرد و زن۔ جدید نسل ہر وقت بزرگوں کی تنقید کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔ گو یا بزرگ جدت نہیں لانا چاہتے، مگر یہ غلطی ان سے پہلے ہو چکی ہے۔ جدید نسل جدید تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ جدید نسل جدید آلات بھی خوب استعمال کرتی ہے۔ اس لیے تو شادیاں موسیقی کے تمام آلات سمیت شادی ہالوں میں ہو جاتی ہیں۔ جدید نسل کی ضروریات میں موسیقی کے اوزار، اُسترا، پتلون، موبایل ، کنگھی ، لپ اسٹک اور کریم وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔ آج کل کاروبار بھی جدید ہے۔
اس لیے، تو زنانہ مرد انہ جب کہ مرد حضرات، صنف نازک کا اسٹایل اپنانے پر مجبور ہیں۔ انگریزیت ’’مغربیت‘‘ کی شکل میں جدید نسل کی روح بنتی چلتی جاتی ہے ۔
854 total views, no views today


