’’سوات ادبی سانگہ مینگورہ‘‘ وادئ سوات کی ایک فعال ادبی تنظیم ہے جو وقتاً فوقتاً سوات میں علمی، تاریخی اور ادبی محافل منعقد کرتی چلی آئی ہے۔ اس طرح یہ سوات میں پختو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے سلسلہ میں اپنا ایک منفرد کردار بہ حسن و خوبی ادا کرتی چلی آ رہی ہے جس کے ذریعے سوات میں نو آموز شعراء و ادبا کی صلاحیتوں کو نہ صرف جلا ملی ہے بلکہ ’’سوات ادبی سانگہ‘‘ ہی کی بہ دولت پشتو زبان میں کئی نام ور ادیب اور شاعر بھی منظرعام پر آچکے ہیں جن کا اب پشتو ادب میں ایک ممتاز مقام ہے۔ یہ سوات ادبی سانگہ ہی کی مساعی تھی جس کی بہ دولت سوات کی معروف سماجی شخصیت حیدر علی شاہ باچا (چیئرمین لالا رحیم شاہ فاؤنڈیشن) کی طرف سے ان کی بزرگ اور سوات کی نامی گرامی شخصیت ’’لالا رحیم شاہ‘‘ کے نام سے ایک ’’پختو ادبی ایوارڈ‘‘ کا اجراء کیا۔ اس سلسلہ میں پچھلے دنوں ’’لالا رحیم شاہ فاؤنڈیشن‘‘ اور ’’سوات ادبی سانگہ‘‘ کے زیر اہتمام فضل خالق کی انگریزی کتاب ’’دی اودھیانہ کنگ ڈم‘‘ کی تقریب رونمائی اور محفل مشاعرہ منعقد کی گئی جس کی صدارت سوات کی مشہور سیاسی شخصیت اور سابق صوبائی وزیر جنگلات خیبر پختون خوا واجد علی خان نے کی۔ محفل کے مہمان خصوصی ڈاکٹر شیر محمد خان سابق ڈایریکٹر ارنم اسپتال و سابق چیئرمین ہلال احمر صوبہ خیبر پختون خوا تھے۔ اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرایض ظفر علی ناز نے انجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک اور حمد شریف کی سعادت شہنشاہ باچا نے حاصل کی جب کہ کتاب پر کھلی بحث راقم کے علاوہ واجد علی خان اور ڈاکٹر شیر محمد خان نے کی۔ کتاب پر مقالے پروفیسر زڑہ ور خان اور زبیر توروالی نے پیش کیے۔
اس محفل میں پختو ادبی ایوارڈ کا باقاعدہ اعلان راقم نے خود کیا جس کی رو سے آیندہ سال پشتو زبان میں نثر کی کتاب اور کسی دوسری زبان سے پشتو میں ترجمہ شدہ کتاب یا پشتو زبان کی کتاب کو کسی دوسری زبان میں ترجمہ شدہ کتاب کو غیر جانب دار جج حضرات کے ایک پینل کی منصفی کی روشنی میں ایوارڈ دیا جائے گا جب کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
اس موقع پر راقم نے ڈاکٹر شیر محمد خان کی جانب سے ایک ’’جرنلسٹ ایوارڈ‘‘ کا اعلان بھی کیا جس کی رو سے 2014ء کا جرنلسٹ ایوارڈ اس سال 2015ء میں اُن صحافیوں کو دیا جائے گا جو جج حضرات کے فیصلہ کے مطابق اس ایوارڈ کے حق دار ٹھہریں گے۔ محفل مشاعرہ میں احترام الحق صابرؔ ، ریاض حیرانؔ ، فیض علی خان فیضؔ (ایڈووکیٹ)، برہان الدین حسرتؔ ، احمد حسن ندیمؔ ، ظفر علی نازؔ ، روح الامین نایابؔ ، فضل واحد منگلوریؔ ، غلام حق ساحرؔ ، ندیم چراغؔ ، یوسف خان بیگانہؔ ، جوان بخت اسیرؔ ، سمندر سواتیؔ ، عبدالغفور غفورؔ ، حمید اقبال گل رنگ زئؔ ، فردوس خان فردوسؔ ، عادل تنہاؔ ، اتل افغانؔ ، پروفیسر عطاء الرحمان عطاءؔ ، بختیار احمد بختیارؔ اور مراد علی مرادؔ نے اپنے کلام پیش کیے۔ کتاب کے خالق ’’فضل خالق فضل‘‘ نے اپنی کتاب کی منصہ شہود پر آنے کی روداد سنائی۔ اس موقع پر سوات عجایب گھر کے کیوریٹر فیض الرحمان اور چکدرہ عجایب گھر کے نیاز علی شاہ باچا بہ نفس نفیس موجود تھے۔ محفل میں معززینِ شہر نے کافی تعداد میں شرکت کی۔ جب کہ میڈیا کے نمایندوں میں نیاز احمد خان (مشال ریڈیو و روزنامہ نئی بات)، روزنامہ آج اور اے آر وائی ٹی وی کے شہزاد عالم، روزنامہ مشرق و آج ٹی وی کے فیاض ظفر، حسین علی (کیمرہ مین اے آر وائی نیوز) جیو ٹی وی کے محبوب علی اور سماء ٹی وی کے شہاب نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
پروگرام کے اختتام پر شرکائے محفل کے لیے ایک پر تکلف ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ یوں چار گھنٹے پر محیط یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
918 total views, no views today


