حد یث مبارکہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے، مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک کے صوبہ خیبر پختون خوا اور خاص کر ملاکنڈ ڈویژن میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح انتہائی کم ہے۔ اس کی اصل وجہ یہاں لڑکوں کی تعلیم پر توجہ زیادہ اور لڑکیوں کی تعلیم پر کم دینا ہے۔کوئی بھی ملک جب تر قی کی راہ پر گام زن ہو تا ہے، تو اس کا اصل راز تعلیم یافتہ قوم کا ہونا ہی ہوتا ہے۔اور آج اگر ہمارا ملک روبہ زوال ہے، تو اس کی ایک بڑی وجہ اسی تعلیم کی کمی ہی ہے ۔
قارئین، سوات کے دور دراز علاقہ تحصیل کبل توتانو با نڈ ئ میں ایک گھرا نے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ’’عثما نیہ‘‘ کو تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق ہے۔ وہ اب تک ایف ایس سی کی تعلیم حاصل کر چکی ہے۔ پچھلے تمام امتحانات میں وہ پوزیشن ہو لڈر رہی ہے۔وہ آگے تعلیم حاصل کر نا چاہتی ہے لیکن اس کے گھر والے اس کوتعلیم حاصل کر نے سے روک رہے ہیں۔ وہ بڑی ہوکر ڈاکٹر بننا چاہتی ہے لیکن اب اس کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا ۔ ’’عثمانیہ‘‘ کے بہ قول اسے گھر کی طرف سے دھمکیاں ملتی ہیں کہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے خواب نہ دیکھے جائیں۔
تو کیا قارئین، یہ زیادتی نہیں کہ ایک آزاد ملک میں ایک لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔اس حوالہ سے جب ہماری بات ایجوکیشن فی میل صدر و ہیومن ڈو یلپمنٹ سو سایٹی شکیلہ ناز سے ہوئی، تو انھوں نے کہا کہ اگر لڑ کیاں تعلیم حاصل کر نا چاہتی ہیں، تو یہ ان کا حق ہے کہ وہ اسے حاصل کریں۔ ڈویلپمنٹ سو سایٹی ’’عثمانیہ‘‘ کے ساتھ اس نیک مقصد میں شر یک ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس حوالہ سے ہم ان کے گھر والوں کے ساتھ بھی بات کریں گے اور ان کے والدین کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔بہت جلد عثمانیہ ایک بار پھراپنے اسکول جائے گی۔
قارئین، ہم سب کی یہی کوشش ہونی چاہیے کہ نہ صرف عثمانیہ واپس اپنے اسکول جائے بلکہ سوات کی ہر لڑکی خوب پڑھے لکھے اور آنے والے دور کی مشکلات کا مقابلہ کرے۔
میں اپنی اس تحریر کے ذریعے تمام والدین سے اپیل کرتی ہوں کہ خد ا را، اپنی بچیوں کو علم کی دولت سے محروم مت کریں۔کیوں کہ آج کی بچی کل کی ماں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ایک لڑکا تعلیم حاصل کر لیتا ہے تو صرف ایک فرد تعلیم یافتہ ہوجاتا ہے، مگر جب ایک بچی تعلیم حاصل کرلیتی ہے، تو پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوجاتا ہے۔
696 total views, no views today


