بریکوٹ،این ایچ اے کے طرف سے مین شاہراہ کی تعمیرعوام کے لئے درد سر بن گیا ۔کلوٹ اور نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے نکاس اب کے مسلئے نے گمبھیر صورت حال اخیتار کرلی ۔علاقے گورتئی میں سڑک کنارے پانی نے جھیل کا منظر پیش کرتے ہوئے قریبی قبرستان کے متعدد قبریں زمین بوس جبکہ آبادی کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔کوئی پرسان حال نہیں علاقے کے عوام نے پاک آرمی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے کو راہ راست پر لا کرہمیں سڑک کے تعمیرکے نام پر مذید مشکلات سے نجات دلائیں ۔کیونکہ ممبران اسمبلی اور دیگر متعلقہ احکام کو بار بار اپیلوں کے باوجود ٹھس سے مس نہیں ہورہے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق این ایچ اے کے طرف سے 28کلومیٹر روڈ کی تعمیر جو کہ چکدرہ چوک سے مانیار سوات تک ہے کئی ماہ میں ایک کلومیٹر روڈ بھی تعمیر نہ ہوسکا۔خشکی کے دوران سڑک کنارے آبادی کے لوگ مختلف امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں اور نوبت یہاں تک آئی ہے کہ اگر یہ صورت حال رہی تو علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے جبکہ بارشوں کے دوران مشکلات میں مذید اضافہ ہو جا تا ہے ۔اس روڈ کی تعمیر میں کلوٹ اور نالیوں کی تعمیر کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے اور یہ دنیا کا پہلا روڈ ہوگا جوکہ بغیر کسی نالی اور کلوٹ ہوگا۔اگر اس میں کلوٹ اور نالیاں نہ بنائی گئیں تو یہ روڈ اپنی پہلی سالگرہ بھی نہ منا سکے گی اور سرکاری خزانہ کے کروڑوں روپے پانی میں بہہ جائیں گی ۔کلوٹ اور نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا سارا پانی سڑکوں پر بہہ رہی ہیں اورمختلف علاقوں میں سڑک کنارے آبادی اور قبرستانوں کو بارش کے پانی سے شدید نقصان کاخدشہ ہے ۔علاقے کے عوام نے پاک آرمی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اب آخری امید پاک آرمی ہے کہ ہمیں اس عذاب سے نجات دلائیں ۔
774 total views, no views today


