*فالذین آمنوا بہ وعزروہ ونصروہ واتبعواالنور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون*
*قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ*
دین أساساً تین امور ہیں ۔
عقائد،اخلاق اور اعمال۔
عقائد أساس ہے اس سے بنیاد بنی ہے اور اللہ تعالیٰ سے رشتہ جڑگیا ہے۔ یعنی بندہ اللہ کا اپنا ہوگیا ہے۔
پھر اخلاق ہیں جس سے بندے کی شخصیت بنتی ہے کہ اتنی بڑی ذات سے تعلق بنا ہے تو پھر تو بندے کے اخلاق عالی ہونے لازمی ہیں اور اخلاق کاعالی ہونا کیا ہے ؟خلق خدا سے اچھائی اور احسان والا تعلق کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا عیال قرار دیا ہے ۔رسول پاکﷺ نے فرمایا
الخلق کلہم عیال اللہ(الحدیث)
اور اعمال سے ان دو باتوں کی عملی تصدیق ہوتی ہے کہ بندہ واقعی صالح عقیدہ رکھتا ہے اور یوں اس کی اللہ سے اپنا ئیت ثابت ہوجاتی ہے کہ وہ حقوق اللہ میں کوتاہی نہیں کرتا اور اس طرح اس کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ واقعی مخلوق کو اللہ کی عیال سمجھتا ہے اور ان کے حوالے سے صرف حقوق نہیں پورا کررہا بلکہ ان کے ساتھ احسان کرتا رہتا ہے تو گویا عقائد ،اخلاق اور اعمال تینوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے اور ایک دوسرے کا تقاضا اور ثبوت ہیں۔
پھر دین میں أساسی عقائد تین ہیں۔
توحید،رسالت اور آخرت۔
یعنی ذات وصفات کا عقیدہ ،رسالت پر عقیدہ تاکہ اخلاق واعمال کا طریقہ معلوم ہو کہ رسول ہی اس کی تعلیم بھی دیتا ہے اور اس کا عملی نمونہ بھی ہے کہ نبوت کے دو کمالات ہوتے ہیں
ایک علم اور ایک اخلاق۔
اور آپﷺ نےفرمایا
انما بعثت معلما وانما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق
کہ مجھے معلم بنا کے بھجوایا گیا ہے اور مجھے مکارم اخلاق کےا تمام کے لئے بھجوایا گیا ہے۔
آیت میں ہے
وعلمک ما لم تکن تعلم
اور آپﷺ کو تعلیم دی اس کی جو کہ آپ نہیں سمجھتے تھے۔
توآپﷺ کو سکھایا گیا کہ آپ اسے سکھاؤ۔اور فرمایا
وانک لعلی خلق عظیم
اور یقیناً آپ خلق عظیم پر فائز ہیں۔
تو اسے دکھاؤ اور صحابہ کرام ؓ آپﷺسے سیکھتے بھی تھے اور آپﷺکو دیکھ کر عمل بھی کرتے تھے اور عمل میں آپﷺکے اخلاق عظیم اپنانا بھی شامل تھا۔
سو علم اخلاق پر ابھارتا ہے اور اخلاق عمل پر ۔تو اخلاق کا ایک جانب تعلق ہے علم سے اور دوسری جانب تعلق ہےعمل سے ۔یعنی اخلاق ہی نے علم اور عمل کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھا ہے ۔اور اخلاق میں عام درجہ ہے
۱۔ خلق حسن کا ۔یہ مساوی بدلہ ہے
ہل جزاء الاحسان الا الاحسان
حتی کہ اگر برائی کا مساوی بدلہ بھی ہو ۔
وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا
۲۔خلق کریم معافی دینا ہے
خذ العفو
۳۔جبکہ خلق عظیم برائی کے بدلے میں بھی احسان اور نیکی کرنے کا نام ہے
ادفع بالتی ہی احسن
تو آپﷺتو ظلم اور زیادتی کے مقابلے میں بھی دعوت الی حق اور دعا دیتے رہتے کہ رول ماڈل اعلیٰ ترین ہوتا ہے اور جو چاہیں اس تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اگر چہ آپﷺکے مقام پر پہنچ نہیں سکتے تو ان کا یہ سفر بہتری کی طرف ہمیشہ جاری رہے گا ۔سو ہر نبی علم اور اخلاق کو پھیلاتے رہے البتہ ایک خاص خطے اور خاص لوگوں میں۔جبکہ آپﷺتشریف لائے تو آپﷺنے اس کو پورے عالم میں پھیلایا کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں اور ختم نبوت قطع نبوت نہیں تکمیل نبوت ہے۔تو آپﷺمکمّل نبوت ہیں۔اور یوں آپﷺکے علم اور اخلاق کا پھیلاؤ بھی مکمّل ہے۔آپﷺکے پاس علمی کمال ہے ،علم اور عملی کمال ہے ۔اخلاق علمی کمال کا راستہ دکھاتا ہے اور عملی کمال یعنی اخلاق اس پر چلنے کی توفیق دے دیتا ہے اس لئے کہ اخلاق ہی سے عمل پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک اندرونی داعیہ ہے ۔اعمال کسی کے اخلاق کی طرح ہوتے ہیں یعنی جیسے اخلاق ہوں ویسے اعمال ہونگے اور اخلاق کے حامل عملی لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ اوروں کو صراط مستقیم دکھائیں بھی اور ان کو اس پر چلائیں بھی اور انبیاء کرام نے یہی کیا ۔صحابہ کرامؓ اس کی زندہ وتابندہ مثال ہیں ۔سو علم آپﷺکا معجزہ ہے یعنی قرآن کریم اور آپ کا اخلاق وکردار اس کی تائید ہے۔
روشنی تو چاند تارے بھی دیتے ہیں اور سورج بھی لیکن چاند تاروں سے رات ختم نہیں ہوتی البتہ روشنی ملتی رہتی ہے جبکہ سورج تو رات کو ختم کردیتا ہے اور اجالا پھیلا دیتا ہے۔اب سورج کے ہوتے ہوئے بھی چاند تارے تو ہوتے ہیں نظر نہیں آتے کہ ان کی روشنی ماندپڑگئی کہ سورج آگیا ہے ۔تبھی تو اسلام میں سارے سابقہ انبیاء ورسل پر ایمان لازمی ہے البتہ ان پر اجمالاً ایمان لازمی ہے کہ وہ سارے اللہ کے برحق پیغمبر تھے جبکہ رسول پاکﷺ پر تفصیلی ایمان لازمی ہےکہ آپﷺاللہ کے پیغمبر ہیں آخری پیغمبر ہیں خاتم النبیین ہیں اور سب سے افضل ہیں۔
اللہ تعالیٰ اسی انداز سے تکوین کائنات کی بھی خلق وتدبیر کرچکے اور تشریع کی بھی۔
سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یغشی اللیل النہار یطلبہ حثیثا والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ الا لہ الخلق والامرتبرک اللہ رب العالمین(الاعراف 54)
یقیناً تمہارا رب اللہ ہے وہ جو پیدا کرچکا ہے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں(پیریڈز /سٹیجز)میں۔پھر وہ برابر ہوا عرش پر وہ ڈالتا ہے رات کو دن پر وہ ڈھونڈتا (پاتا)ہے اس کو تیز(بلاکسی درمیانی وقفہ کے)اور سورج کو اور چاند کو (بھی پیدا کیا ہے)اور ستاروں کو اس حال میں کہ وہ سارے مسخر ہیں اس کے حکم کے خبردار!اسی کا ہے خلق اور امر برکت دینے والا ہے اللہ جورب ہے ساری عالموں کا۔
اب آیت مذکورہ بالا میں خلق اور امر کا ذکر ہے جس کے ایک سے زیادہ معانی یعنی مصداق ہیں۔
۱۔ایک تو یہ کہ خلق تکوین ہے اور امر تشریع ہے تو تکوین بھی اللہ کا ہے اور تشریع بھی اللہ کا ہے البتہ یہ ہے کہ تکوین میں کسی کا نہ کوئی دخل ہے اور نہ اختیار ہے جبکہ تشریع پر تو چونکہ انسان مکلف ہے اور اس پر جزا وسزا مرتب ہے لہذا اس میں کسی کا دخل تو نہیں ہوسکتا یعنی کسی کے دخل کی اس میں گنجائش نہیں البتہ یہ انسان کے اختیار پر ہے کہ اس کو مانے یا نہ مانے یا اس پر عمل کرے یا نہ کرے۔
اور تکوین وتشریع دونوں کا مبدأ ومنتہیٰ اللہ کی ذات ہے
والی اللہ ترجع الامور
کہ سارے امور کا مرجع ذات خداوندی ہے ۔
اور دونوں کو سمجھنا علم ہے ،حکمت ہے اور حدیث پاک میں ہے کہ
رأس الحکمۃ مخافۃ اللہ
حکمت کا سر(یا سرا) اللہ کا خوف ہے۔
اور اللہ کا خوف اس کے پہچان کا مقتضی ہے ۔اس وجہ سے فرمایا
سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفی انفسہم حتی یتبین لہم انہ الحق اولم یکف بربک انہ علی کل شہید(فصلت53)
مستقبل میں ہم دکھائیں گے ان کو اپنی آیات آفاق (کائنات)میں اور ان کے اپنے انفس(ابدان)میں تاآنکہ یہ واضح ہوجائے گا ان پر کہ یہ (وحی /قرآن وحدیث)حق ہے تو کیا کافی نہ ہوسکتا تھا ان کے لئے یہ کہ وہ(اللہ)ہر چیز پر شہید(عالم جیسا کہ ظاہر پر ہو ویسا ہی غیب پر)ہے۔
اب آفاق وانفس میں آیات دکھانے کا معنی یہ ہے کہ فطرت تو ارتقائی ہے اور انسان مادے ،مادیات اور طبیعیات سے اول دن سے زیادہ متاثر ہے کہ خواہشات رکھتا ہے اور یہی خواہشات ہی اس کو تحقیق وتخلیق وایجاد پر اکساتا رہتا ہے تو اس پر ہر دور میں ایسی چیزیں واضح ہونگی جو پہلے سے قرآن میں یا حدیث میں اشارہً یا دلالۃً یا کبھی کبھار صراحۃً بھی ذکر ہیں کہ عقل أساساً تو ایک طبعی غریزہ ہے ۔سو مطلوب یہ ہے کہ انسان اس کا مغز نکال کر استعمال کرے۔مغز کو لب کہتے ہیں اور جو یہ رکھتے ہیں ان کو اولوالالباب کہا جاتا ہے اور لب ہی ہے جو حقائق کو نیہ سمجھتا ہے یا حقائق شرعیہ جانتا ہے یعنی جس بھی میدان میں اس نے اس کو لگایا۔اس کو فکر کہتے ہیں اور یہی صبغۃ اللہ ہے۔
اب اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رب ہے جس کے أساس پر میثاق ازل لیا گیا
الست بربکم قالوا بلی
اور اس کے أساس پر بعد از مرگ اولین سوال ہوگا
من ربک
تمہارا رب کون ہے؟
اور رب ایسی ذات کہ جو کسی چیز کی تدریجاً تربیت کرکرکے اسے کمال تک پہنچائے۔
اب یہی صفت رب ہی ہے جس کا تکوین سے بھی تعلق ہے اور تشریع سے بھی تعلق ہے ۔تکوین سے اس کا تعلق ہو تو کائنات ومخلوقات مکمل ہوئے
واتاکم کل ما سئلتموہ
اور دیا ہے اس نے آپ کو وہ ساری چیزیں جن کے کہ تم لوگو ں کو حاجت پڑسکتی ہے ۔
کہ سوال حاجت کا مقتضی ہے کہ حاجت ہوتی ہے تو سوال کیا جاتا ہے۔
اور اس صفت رب کا تعلق ہوا تشریع سے تو شریعت بھی مکمل ہوئی جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی تھی اور رسول پاک ﷺ کے ساتھ مکمل ہوئی۔
الیوم اکملت لکم دینکم
اب تکوین وتشریع دونوں مکمل ہوئے تو ہر دو میں تغییر وتبدیل کا کوئی تصور نہیں فرمایا
لا تبدیل لخلق اللہ
کہ خلق میں تبدیلی نہیں آسکتی ۔
یعنی تکوین میں تغیر وتبدیل کا کوئی تصور نہیں۔فرمایا
لا تبدیل لخلق اللہ
کہ خلق میں تبدیل نہیں آسکتی یعنی تکوین میں ۔
اور
لا تبدیل لکلمات اللہ
کلمات اللہ میں تبدیلی نہیں ہوسکتی یعنی امر اور تشریع میں۔
البتہ تکوین یعنی کائنات میں ایجادات ہونگے تو نئے عجائبات پیدا ہونگے اور تشریع میں اجتہاد ہوگا تو بھی عجائبات نکل آئیں گے حدیث شریف میں کتاب اللہ کے متعلق فرمایا
ولا تنقضی عجائبہ
کہ قرآن کے عجائبات ختم نہیں ہونگے۔
یہی ختم نبوت ہے اور یہی اس کا تقاضا ہے کہ آدم علیہ السلام سے قصر نبوت کی ابتداء ہوئی اور رسول پاکﷺ نےفرمایا
سارے انبیاء اس عمارت کی موقر اینٹیں ہیں اور پھرذکر فرمایا کہ اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی تو
فانا تلک اللبنۃ
میں ہی وہی اینٹ ہوں۔
یعنی آپﷺ سے عالم امر کی تکمیل ہوگئی اور یہی رحمۃ للعالمین کا تقاضا ہے۔یعنی پہلے تو آپﷺ کی نبوت عام ابدی اور دائمی ہوا تو آپﷺ رحمۃ للعالمین ہوگئے اور آپﷺ کی تعلیمات جو دنیاوی زندگی کے حوالے سے ہیں مثلاً رسول پاکﷺ کا عدل وانصاف اور طریقہ حکومت یا اصول سیاست ومعاشرت ومعیشت تو جس نے بھی ان پر عمل کیا وہ کامیاب رہے گا۔
ایجاد واجتہاد دونوں میں زمانہ کا یعنی اس کی ضروریات کا دخل ہے ۔
۲۔خلق اور امر کے حوالے سے دوسرامعنی ہے کہ خلق عالم طبیعیات ہے اور امر ماوراء الطبیعیات ہے اور ہر دو اللہ کے ہیں تو اللہ نہ تو طبیعیات کے تابع یا اس کے سامنے مجبور ہے اور نہ ماوراءالطبیعیات کے ۔
اب اللہ تعالیٰ سارے کائنات کا خالق اور سارے کائنات کا تدبیر کرنے والا ہے اور تدبیر کا معنی یہ ہے کہ اس نے کائنات کو پیدا کیا اور اس کے لئے چلنے اور اپنے اپنے وظائف پورا کرنے کے لئے ان میں کچھ ثابت ومحکم طبیعی قوانین وضع کئے کہ ہر ایک اپنا اپنا وظیفہ ایک جاری وساری اور ہموار طریقے سے پورا کررہا ہے فرمایا
وخلق کل شئی فقدرہ تقدیرا(الفرقان)
کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی مکمل تقدیر کردی۔
اب یہ جو لفظ تقدیر ہے اس کے کئی ایک معانی ہیں
۱۔ایک ہے اندازہ کرنا یا لگانا
۲۔دوسرا ہے قوت وقدرت دینا
۳۔تیسرا یہ قضاء کے لئے استعمال ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے قضاء۔ایک حدیث شریف میں ہے کہ
فقل ما شاء وما قدر
کہ کہو کہ وہ جو اللہ نے چاہا اور اس نے فیصلہ کیا ہے ۔
اور چونکہ اللہ کےفیصلے سارے اشیاء اور معاملات کے حوالے سے ان اشیاء اور معاملات کے وجود میں آنے سے پہلے کیے گئے ہیں تو جو شریعت میں تقدیر کی اصطلاح ہے اس کا یہی حاصل ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ اللہ کا فیصلہ شدہ ہے اور چیزیں اس فیصلہ کے مطابق وجود میں آئیں گی ۔اب جو طبیعی امور صادر ہوتے ہیں تو وہ طبیعیات کے قوانین وضوابط کے مطابق وجود پذیرہوتے ہیں اور طبیعیات بھی خدا کے پیدا کردہ ہیں ان کے قوانین وضوابط بھی آپ کی تخلیق وتدابیر ہیں تو ان پر جو نتائج مرتب ہوتے ہیں وہ اللہ کی تدبیر بھی ہے اور اس کی تقدیر بھی ہےقرآن کریم نےفرمایا
الا لہ الخلق والامر
خبردار!اسی (اللہ)ہی کی ہے خلق اور امر۔
اب خلق تو خلق ہے اور یہ امر تکوینی معاملہ ہے کہ تکوین بھی اسی کی ہے اور یہی تکوین اس کی تدبیر ہی ہے جو اس نے اس انداز سے پیدا کیا ہے فرمایا
ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش یدبر الامر (یونس 3)
یقیناً تمہارا رب اللہ ہے وہ جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں (پیریڈز /سٹیجز)میں پھر وہ برابر ہوا عرش پر(یعنی حکمرانی قائم ہوئی)تدبیر کرتا ہے وہ امر(تکوین )کا ۔
اور اسی ہی سورت کے آیت نمبر ۳۱ میں پوچھ کر فرمایا
ومن یدبر الامر
اور کون تدبیر کرتا ہے امر(تکوین)
پھر فرمایا
سیقولون اللہ
کہ وہ (مشرکین بھی)کہیں گے کہ اللہ۔
اور ہم انسان طبیعی دنیا میں جو کچھ کرتے ہیں وہ ان قوانین وضوابط کے مطابق کو سمجھ کے اور ان کو فالو کرکے کرتے ہیں تو اس کو انسان کی تدبیر کہا جاتا ہے اور ہم انسان تدبیر ہی کے مکلف ہیں اور ہمارا عقیدہ تقدیر پر ہے۔تو کریں گے تو تدبیر ہی جس پر نتیجہ اللہ کے وضع کردہ ان طبیعی قوانین وضوابط کے مطابق مرتب ہوگا۔لیکن چونکہ چیز بھی خدا کی تخلیق، اس کے قوانین وضوابط بھی آپ کی وضع کردہ، ان پر مرتب نتائج بھی آپ کا فیصلہ تو یہی تقدیر کا ایک معنی ہے۔
اس طرح تقدیر کا ایک معنی ہوتا ہے لکھا ہوا۔ اور لکھا ہوا کبھی لغوی معنی اور کبھی تکنیکی معنی میں مراد ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ فیہلا ہوا ہے تو دونوں مراد ہوسکتے ہیں ۔
اب انسان جو ذی عقل ہے اور عقل ہی کی وجہ سے مکلف بالایمان اور مکلف بالاحکام ہے اور عقل ہی کے أساس پر اس کے لئے کائنات مسخر کیے گئے ہیں تو اس نے دونوں کام کرنے ہیں۔ یعنی کائنات کو اپنے خیر کے لئے استعمال کرنا اور خود کو ایمان ،اسلام اور احکام کے راستے پر ڈالنا ۔اول الذکر سے اس کی دنیا بنے گی اور ثانی الذکر سے اس کی آخرت بنے گی۔اول الذکر مبنی ہے جدت اور سائنس پر اور ثانی الذکر کی أساس ہے وحی اور قدیم۔غلطی یہاں ہوجاتی ہے کہ ہم اس فرق کو نہیں سمجھ پاتے کہ یہ دو مختلف میدان ہیں ،دو مختلف علم ہیں ۔دونوں کے اپنے اپنے ماخذ ہیں او راپنے اپنے اصول ہیں۔لیکن آج کا دور تو چونکہ سائنس کا ہے اور سائنس جیسا کہ ہم نے ذکر کیا حیرت اور جدیدیت اس کی پہچان ہے۔ یعنی نئے تصورات ،نئے تھیوریز ،ڈسکوریز اور نئی تخلیقات ۔اور سائنس سے تو ہر ایک متاثر ہوتا ہے اس لئے کہ ایک تو یہ عقل کو اپیل کرتا ہے اور یہ اس لئے کہ اصلاً تو یہ ہے فلسفہ اور فلسفہ کی تو أساس ہی عقل اور عقل کے أساس پر غور وخوض کرنا ہے اور سائنس فلسفے کی عملی تعبیر ہے کہ تھیوری کی حد تک تو یہ فلسفہ ہی رہتا ہے البتہ تخلیق وایجاد ہوجائے تو وہ تو پھر مشاہدہ اور تجربہ ہوجاتا ہے یعنی عین الیقین اور حق الیقین تو پھر اس سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا بلکہ اس سے متاثر ہی ہوتا ہے کہ عقل تجزیہ ،تجربہ ،تخلیق اور مشاہدہ سب کچھ ایک ہوگئے۔اور یہ تاثر اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ پھر جو بات اس کے عقل میں نہیں آتی اگر چہ وہ حقیقت ہو ایسے بندے کے لئے اس کے ماننے میں دقت ہوتی ہے جبکہ اسے نقل اور عقل کا فرق معلوم نہیں ہوتا نہ وہ قدیم وجدید کے علمی فرق کو جانتا ہے ۔تو حواس کا علم سائنس کے کندھے پر سوار ہے اور عقلیت کا علم فلسفہ کے کندھوں پر جن میں سائنس بھی شامل ہے ۔عقلیات یا سائنس خوبصورت اور مفید چیزیں پیدا کرسکتی ہیں البتہ یہ خوبصورت انسان تو نہیں پیدا کرسکتا۔
اب انسان کے پاس ادراک کے تین قویٰ ہیں۔
۱۔ایک ادراک جو حواس میں ہے اور یہ اعضاء میں ہے جیسا کہ دیکھنا آنکھوں میں اور سننا کانوں میں۔تو یہ جزئیات کا ادراک کرتے ہیں ۔
۲۔دوسرا دراک وہ عقل کے ذریعے ہوتا ہے اور عقل دماغ میں ہے اور یہ کلیات کا ادراک کرتا ہے ۔
۳۔اور تیسرا وجدان جو دل میں ہے ۔
قرآن کریم نے تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے
وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ
کہ آپ کو سماعت،بصارت اور عقل دی ہے۔
دوسری جگہ فرمایا
ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسؤلا
کہ سماعت ،بصارت اور عقل کے متعلق پوچھا جائے گا
اور فرمایا
ان فی ذالک لذکری لمن کان لہ قلب او القی السمع وہو شہید
یقیناً اس میں نصیحت ہے اس کے لئے جس کا دل ہو یا وہ سنے اس حال میں کہ دیکھ رہا ہو۔
اور فرمایا
ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ
مہر لگایا ہے اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے سماعت پر اور ان کے آنکھوں پر تو پردہ ہے۔
ایک اور جگہ فرمایا
ارأیت من اتخذ الہہ ہواہ واضلہ اللہ علی علم وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشاوۃ
یعنی یہی سابقہ آیت والا تصور۔
اب دل کا تذکرہ اس لئے کہ عقل اگر چہ دماغ میں ہے لیکن قوت کا منبع تو دل ہے تو نسبت مجازی بھی ہوتا ہے یا پھر وجدان کو اشارہ کیا ہے ۔گویا یہ تین معتبر علم اور ادراک کے وسیلے ہیں گمراہی بھی ا ن کے ذریعے آتی ہے۔
اور علوم دو قسم کے ہیں
۱۔ایک حسیہ جو حواس کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں لیکن ان کا ادراک قلب کرتا ہے گویا حواس قلب کے آلے ہیں ۔
۲۔اور دوسرے علوم شرعیہ ان کا تو ادراک ہی قلب ہوتا ہے اور قلب تو خواب میں بھی ادراک کرتا ہے اور کبھی خود کسی چیز کو وجود دے کر اس کا بھی ادراک کرتا ہے موت کے بعد برزخ کے احوال کا ادراک بھی قلب کرتا ہے ۔اب علماء محسوسات بھی محترم لیکن اصل احترام تو علوم منجیہ کے حاملین کے لئے ہے ۔حسی علم مادے سے اور الہامی علم اللہ سے حاصل ہوتا ہے ۔اول الذکر کا تعلق مادے سے جبکہ دوسرے کا تعلق روح سے ہے اول الذکر مجازی اور ثانی الذکر حقیقی علم ہے۔
پھر یہ ہے کہ آنکھ اور کان دونوں ادراک کرتے ہیں البتہ آنکھوں کے ادراک کے لئے شرائط زیادہ ہیں کان کے لئے اس سے کم ہیں تو پھر اکثر جگہوں پر سماعت اور عقل یا سماعت اور قلب کا ایک ساتھ ذکر ہے فرمایا
ام تحسب ان اکثرہم یسمعون او یعقلون
یا
فرمایا
او تکون لہم قلوب یعقلون بہا او اذان یسمعون بہا
یا فرمایا کہ کفار کہیں گے جہنم میں
لوکنا نسمع اونعقل ماکنا فی اصحاب السعیر
اس کی وجہ سے کہ مبصرات اور مسموعات جو بصارت اور سماعت سے حاصل ہوجاتے ہیں بعد ازاں عقل اس کا ادراک ،تنقیح اور تجزیہ کرجاتا ہے اور پھر عقل یا قلب کے ساتھ سماعت کا زیادہ تذکرہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عقل مند بندہ سنتا زیادہ ہے پھر اس کا تجزیہ کرتا ہے یا یہ کہ عقل مند کو سننا زیادہ چاہئے۔اسی طرح یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسموع یعنی نقل پر زیادہ توجہ دینی ہے عقل کو لگانا بھی ہے اس کے پیچھے اور عقل کو اس کے سمجھنے میں زیادہ صرف کرنا ہے کہ یہ عقل کوئی نقل کے مقابلے کی چیز نہیں کہ ایمان واسلام کے حوالے سے تو نقل ہی اصل چیز ہے جبکہ عقل کو اس کا خادم بننا ہے اور خادم یوں کہ اولاً مانے اور بعد ازاں اس کی عقلی توجیہ کرے اور ضروری نہیں کہ نقل کی ہر بات عقل میں آئے بھی کیونکہ عقل مخلوق ہے اور مخلوق تو محدود ہوتا ہے لیکن اصل حقیقت اور معقول بات وہ ہے جو نقل میں آئی ہے ۔ہاں دور سائنسی ہے جس کی پہچان ہی جدت ہے تو نقل اور اسمیں ذکر شدہ مسائل ومعاملات تو وہی قدیم ہی ہونگے البتہ اس کو نئے انداز واسلوب سے پیش کیا جاسکتا ہے یا ان کے لئے نئے منطقی ،معقول اور سائنسی دلائل پیش کیے جاسکتے ہیں یعنی افہام وتفہیم کا نیا انداز۔
قلب وعقل کا ادراک دو قسم کا ہے ۔
۱۔ایک تو وہ جب کسی چیز کو لے لیتا ہے یعنی انفعال ۔
۲۔اوردوسرا جب اس انفعال کے بعد و ہ اس چیز کا تعقل کرتا ہے یعنی اس کو سمجھ کے اس میں تفکر وترتیب کرتا ہے ۔یہ کام ذہن کا ہے اس میں تصرف کرتا ہے ایک سے زیادہ جزئیات سے ایک کلیہ نکال لیتا ہے پھر اس کلیے سے جدید جزئیات نکالتا ہے یعنی وہ جزئیات سے کلیہ اور پھر کلیہ سے جزئیات نکال لیتا ہے یہ وہ توسیع علم ہے جو انسان کا خاصہ ہے ایجادات واجتہادات دونوں ہوتے تو ہیں روح کی قوت سے لیکن ایجادات ہوتے ہیں بدن کے لئے اور اجتہادات ہوتے ہیں روح کے لئے کہ اس کی اتباع سے روح جو لطیف ہے اس کی لطافت بڑھ جاتی ہے۔ بدن عالم خلق کی اور روح عالم امر کی چیز ہے۔
یہ کا م مادیات کی دنیا میں موجد کرتا ہے اور دین کے میدان میں مجتہد کرتا ہے وہ مجمل کو مفصل کرتا ہے اور خفی کو ظاہر کرتا ہے۔
عقل حواس کا محتاج ہوتا ہے اور حواس اشیاء کا ادراک کرتے ہیں سو عقل اشیاء کا محتاج ہوا۔وہ ذہن میں اشیاء کی موجودگی کا بھی محتاج ہوتا ہے ۔سو عقل نہ تو مستقل ہے ادراک میں اور نہ ہی حجت ہونےمیں۔
حواس کا ادراک اصل میں قلب کا ادراک ہوتا ہے یہی تو وجہ ہے کہ بندہ سوتا ہے تو خواب میں چیزیں دیکھتا ہے اور خواب دیکھتےوقت اس کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ خواب ہے اور خواب دیکھنا حواس کا ادراک نہیں بلکہ قلب کا ادراک ہے کہ حواس تو خواب میں معطل ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قلب کبھی کبھار کسی چیز کو کو وجود دے دیتا ہے اور اس کا ادراک کرتا ہے
سو اس عقل کو کافی سمجھنا ہی بے عقلی ہے۔
؎ گزر کر عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے منزل نہیں
تو عقل کے لئے علم ضروری ہے ورنہ یہ تو دیگر طبعی امور کی طرح ایک طبعی چیز ہے تویہ تو طبعی قوتوں کا ساتھ دے گا اور طبعی قوتیں تو بہیمیت کی قوتیں ہیں گویا عقل کو اگر اس طرح چھوڑا جائے تو وہ بہیمیت کے لئے استعمال ہوگا ۔یہی وجہ ہے کہ عقل جب طبیعیات میں لگارہتا ہے تو اس کو حقائق کائنات تو معلوم ہوسکتے ہیں اور وہ ان کی تسخیر کرسکتا ہے جبکہ حقائق الہیہ تب اس پر آشکارا ہونگی جب اس عقل کو نقل کے پیچھے لگایا جائے ۔اول الذکر موجدین اور ثانی الذکر مجتہدین بن جاتے ہیں ۔اول الذکر کو خلافت ظاہری مل جاتی ہے یعنی طبیعی دنیا میں کوئی مقام جبکہ موخرالذکر کو خلافت باطنی مل جاتی ہے یعنی اللہ کے ہاں کوئی مقام۔وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے اور انسان اس کا خلیفہ ہے چاہے وہ مانے یا نہ مانے۔
موجد کے دل میں ذوق ایجاد اور دماغ میں کمال عقل ہوتا ہے اس طرح مجتہد کے دل میں ذوق اجتہاد اور دماغ میں کمال عقل ہوتا ہے ۔موجد کا عقل مادیات میں لگارہتا ہے کہ ان کی خاصیات معلوم ہوں ،ان سے کوئی کلیہ اور فارمولا نکال لاؤں اور پھر اس سے نت نئی ایجاد ات کرواؤں کہ یہ ایک گر ہے جو ہاتھ آیا ہے ۔مجتہد اپنے عقل کو نقل کے پیچھے لگادیتا ہے اور وہ اپنے علم وعقل دونوں کو اس نقل میں لگا کر اس سے ایک کلیہ نکال لاتا ہے اور پھر اس کلیہ سے جزئیات کا استخراج واستنباط کرتا ہے ۔موجد ایجاد کرے تو انسانوں کے لئے دنیوی آسانیاں پیدا ہوتی ہیں جب وہ ان ایجادات کو استعمال کرے اور مجتہد اجتہاد کرے تو مسلمانوں کے لئے اخروی آسانیاں پیداہوتی ہیں جب وہ ان مجتہدات پر عمل کیا کریں۔
یاد رہے کہ موجد مطالعات اور مشاہدات کرکرکے ڈھیر سارے جزئیات کو ذہن میں جمع کرلیتا ہے پھر وہ اس میں تفکر وتدبر کرتا رہتا ہے اور یوں اس پر اشیاء کی خصوصیات کا انکشاف ہوجاتا ہے تو وہ ان خصوصیات سے ایک فارمولا نکال لاتا ہے اور مجتہدمطالعہ کرکرکے ڈھیر سارے جزئیات ذہن میں جمع کرلیتا ہے اور پھر ان میں غوروخوض اور فکر وتدبر کرتا ہے تو وہ ان جزئیات سے ایک کلیہ نکال لاتا ہے۔پھر موجد اپنے فارمولے کے أساس پر مبنی تھیوری کو تجربہ گاہ لے جاتا ہے اور ایجاد کرجاتا ہے اور مجتہد اپنے کلیہ سے جزئیات نکال لیتا ہے۔
موجد کا تعلق ہوتا ہے مادے سے اور اس کے اس پہلو کا اول وآخر مادے ہی سے تعلق رہتا ہے لیکن چونکہ مادہ بھی خدا کی تخلیق ہے لہذا اپنی اس ریاضت سے اس کا اللہ سے یہ تعلق پیدا ہوتا ہے کہ اللہ اس کے ذہن کو کھول دیتا ہے۔جبکہ مجتہد کا تعلق ہوتا ہے نبی کی لائی ہوئی شریعت سے یعنی احکام سے علماً اور عملاً سو اس کانبی سے تعلق مستحکم ہوجاتا ہے اور نبی کے واسطے اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے ۔اور نبی آیا ہوتا ہے اس مقصد کے لئے کہ لوگوں کا اللہ سے تعلق پیدا کرے۔انبیاء کرام امور دنیویہ سے صرف اس حد تک تعلق رکھتے ہیں کہ لوگوں کو ان امور کے صحیح کرنے کی اصول بتلادے باقی وہ ان امور میں نہیں انوالو ہوتے کہ دنیوی امور حواس اور عقل سے تعلق رکھتے ہیں اور لوگ از خود عقل وحواس کا استعمال کرکے احوال وظروف کے مطابق اس کا راستہ نکالتے رہیں گے ۔اس کی دلیل ہے وہ حدیث کہ جب آپﷺ مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے کھجور کے باغات میں وہ لوگ تأبیرالنخل کیا کرتے تھے یعنی مرد درخت کے زردانے مادہ درخت میں ڈالنا ۔آپﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا ۔
آپﷺ نے فرمایا اگر آپ لوگ یہ نہ کریں ۔
چونکہ آپﷺ نبی تھے تو انہوں نے یہ نہ کیا تو فصل گذشتہ سالوں کی نسبت کم ہی ہوئی یعنی میوہ کم آیا ۔انہوں نے آپﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے فرمایا جیسا کرتے تھے وہ کرو کہ
انتم اعلم بامور دنیاکم
آپ لوگ اپنی دنیوی امور یعنی معاملات کو زیادہ سمجھنے والے ہو۔
نبی ﷺ کا أساسی تعلق اللہ سے ہوتا ہے وہ ذات سے صفات اور صفات سے افعال کی طرف جاتا ہے تبھی تو وہ معصوم ہوتا ہے نبی کے ذہن میں مقاصد اور کلیات پہلے آتے ہیں ۔نبی کو وحی یا کتاب اللہ کی طرف سے آیا آپ نے کوئی غور وخوض سے فلسفے نہیں نکالے ۔اب یہ وحی یا کتاب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں تو ان میں جلال ہوتا ہے یہ اتنے عالی ہوتے ہیں کہ عام لوگ اس کا تحمل نہیں کرسکتے اور نبی جس کو یہ وحی بھجوائی گئی تو آپﷺ جب وحی لیتے تو آپﷺ پر کپکپی طاری ہوتی آپﷺ کے بوادر یعنی شانے کے اعصاب تھرتھراتے رہتے اور آپﷺ کے جبین مبارک پسینے سے شرابور ہوجاتا ۔یعنی تحمل کی قوت رکھنے کے باوجود بھی اتنی شدت ہوتی
وان جبینہ لیتفصد عرقاویتحرک منہ بوادرہ
کے الفاظ وکیفیات احادیث مبارکہ میں وارد ہیں۔
وحی نبی کے سینے سے گزر کر آپﷺ کی زبان مبارک سے نکل آئے تو انسان اس کے لینے کے قابل ہوتے ہیں ورنہ نہیں۔
رسول پاکﷺ کی سیرت کو اپنا کر ہی کامیابی مل سکتی ہے ۔
سیرت کا حاصل ہے کہ
۱۔تعلق مع الخالق یعنی عبادت
۲۔تعلق مع الخلق یعنی خدمت خلق
۳۔اور تعلق مع النفس یعنی عفت ودیانت۔
اور اس کو بساط بھر اپنایا جائے تو تینوں چیزیں ایک ساتھ پیدا ہوجاتی ہیں ۔حدیث شریف میں ہے کہ
من اصلح فیما بینہ وبین اللہ اصلح اللہ فیما بینہ وبین الخلق
جس نے اصلاح کی (یعنی صالح کیا )ان (امور)کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہیں تو اللہ صالح کرتا ہے وہ(امور)جو اس کے اور مخلوق کے درمیان ہیں۔
اور یہ دو صالح ہوں تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ نفس میں عفت بھی ہے اور صدق ودیانت بھی ہے کیونکہ نبی فطرتاً اخلاق اور اعمال کی طرف چلتا رہتا ہے اور سیرت آپ کو رسول پاکﷺ کے پیچھے لگادے گا ۔بندے کے ذہن میں آپﷺ کی عظمت آجاتی ہے ،آپﷺ سے محبت ہوجاتی ہے اور آپﷺ کی اطاعت واتباع آجاتے ہیں۔عظمت سے اعتقاد پختہ ہوجاتا ہے ،محبت سے فنائیت کا ایک مقام مل جاتا ہے کہ پھر بندے کو آپﷺ ہی کا خلق وعمل ہر جگہ مرغوب ومحبوب ہوجاتا ہے اوراطاعت واتباع سے قدم بہ قدم آپﷺ کے پیچھے چلنا نصیب ہوجاتا ہے اور یہ بات ابوسفیان سے ہرقل نے پوچھی کہ آپﷺ پر ایمان لانے والا کبھی واپس بھی لوٹتا ہے ؟
تو اس نے کہا نہیں۔
تو ہرقل نے کہا
ذاک اذا خالط بشاشۃ القلوب
یہ تب ہوتا ہے جب تصور واعتقاد دلوں کی بشاشت سے خلط ہوا ہوتا ہے ۔
اس سفر کی ابتداء عقیدہ سے ہوتی ہے جس کا تقاضا اخلاق واعمال ہیں اور اس کا انتہاء ہوتا ہے فلاح وسعادت پر۔
فالذین آمنوا بہ وعزروہ ونصروہ واتبعواالنور الذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون
سو جولوگ آپﷺ پر ایمان لائے آپﷺکی تعظیم کی آپﷺ کی مدد کی اور وہ نور جو آپﷺ لائے ہیں اس کاا تباع کیا تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔
اللہم اجعلنا منہم آمین۔
1,344 total views, no views today



