سوات کی ترقی میں سیاحت انڈسٹری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سوا ت جس کی خوب صورتی کو زمانۂ قدیم کے جنگ جوؤں سے لے کر دور جدید کے ’’لٹیروں‘‘ تک نے خوب لوٹا۔ یہی کوئی دو عشرے پہلے جب سوات میں سیاحوں کے جھنڈ جگہ جگہ نظر آتے تھے، تو پاکستان کے دیگر حصوں کے لوگ اس علاقہ کے مکینوں سے جلتے تھے اور یہی بات ہے کہ پنجاب اور دیگر سیاحتی علاقوں کے سرمایہ کار سوات کی سیاحت کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ یہ بات اب ایک کھلا راز ہے کہ 1990ء سے مولاناصوفی محمد شریعت کے نام پر جب لوگوں کو اکسایا کرتا تھا اور علاقہ میں احتجاج اور دہرنوں کا راج رہتا تھا، تو وہ موسم صر ف اور صر ف گرمیوں کا ہوتا تھا، تاکہ سوات میں آنے والے سیاحوں کو ڈرا دھمکا کر دوبارہ یہاں کا رُخ نہ کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس طرح ملافضل اللہ نے بھی جب اپنی تحریک شروع کی، تو دھماکے کیے، اسکولوں اور پلوں کو اڑایا اور جنگلات کو بے دردی سے کاٹا۔ ایک انٹرویو میں، مَیں نے اس سے پوچھا کہ محترم، آپ کی تحریک سے سوات میں قایم ہزاروں ہوٹلوں میں کام کرنے والے بہ راہ راست اور اس طرح دیگر بے شمار کسی نہ کسی شکل میں متاثرہو رہے ہیں۔ سب سیاح مری اور دیگرعلاقوں کا رخ کررہے ہیں، اس سے سوات کی معیشت پر کیا برے اثرات نہیں پڑ رہے؟ تو اس نے فرمایا کہ ہمیں معاشیات اور لوگوں کے روزگارسے کوئی واسطہ نہیں۔ ہمیں تو اسلامی نظام نافذ کرنا ہے۔ بعد میں اس کی ’’تحریک‘‘ کا یہ نتیجہ نکلا کہ سیاحت تو تباہ ہوئی ہی ہوئی، لیکن جب مساجد اور جنازوں تک میں دھماکے ہوئے، تولوگ مذہب تک سے متنفرہوئے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سوات کی سیاحت کو کسی نہ کسی ذریعے سے تباہ کیا جارہاہے اور اس میں ان عناصر کا ہاتھ ہے جو پختون قوم اور خصوصاً سوات کے ملکوتی حسن کے دشمن ہیں۔
قارئین! خیبر پختون خوا میں مختلف حکومتیں آئیں جن کے الگ الگ دعوے تھے۔ ان کے بہ قول انھوں نے سوات کی ’’ترقی‘‘ میں اپناکردار ادا کیا ہے۔ وہ دوسروں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ سوات میں شورش کے دوران میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی۔ انھوں نے سوات میں امن وامان اور دوبارہ بہ حالی کے لیے حقیقی طورپر صرف تین سال کام کیا یعنی دوہزارنو سے بارہ تک، مگر اس پارٹی سے جوتوقعات تھیں، پارٹی اس پر پورا نہیں اتری اور درمیان میں کئی منصوبے چھوڑ دیے گئے یا دوبارہ بہ حالی کا عمل اتنا سست تھا کہ پارٹی کو ملنے والی زیا دہ ترامداد پی ٹی آئی کے حصہ میں آئی۔ اب پچھلے دو سال سے اس صوبہ میں پی ٹی آئی برسراقتدار ہے، مگر ان کے طرزحکم رانی میں کئی خامیاں ہیں۔ پچھلی حکومت کی بہ نسبت سوات کی سیاحت کو موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ تباہی کا سامناہے۔ کسی علاقہ کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے سب سے پہلے سڑکوں کی تعمیر ضروری ہوتی ہے۔
سوات میں پچھلے دو سال سے مین شاہ راہیں خستہ حالی کی شکارہیں۔ چند مہینے پہلے اس پر این ایچ اے نے کام شروع کیا، تو آج اس کی حالت پہلے سے بھی زیادہ بدتر ہے اور اس پر پیدل چلنا تک دشوار ہے۔ ڈھیر ساری جگہوں پر بنی بنائی سڑکوں کو کھودا گیا ہے اور اس کو مزید خراب کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ روڈکی تعمیر میں غیر معمولی سست روی اختیارکی جارہی ہے، تاکہ عام لوگوں اور سیاحوں کو مشکلات کا سامناہو۔
سیاحوں کے لیے سوات میں ہزاروں ہوٹل قایم ہیں جو ان کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ سوات میں سیلاب اور شورش سے ان ہوٹلوں کو کافی نقصان ہواہے۔ ان کے لیے امریکی حکومت نے ’’یو ایس ایڈ‘‘ کی مدد سے بہ حالی میں کافی مدد کی ہے۔ ان ہوٹلوں کے مالکان کو یہ امید تھی کہ امن قایم ہونے کے بعد ان کے کاروبارکو سہارا مل جائے گا مگر صوبائی حکومت نے ان کے لیے ایک غیر فطری پالیسی بنائی جس کے مطابق آنے والے تمام مہمانوں کی ایک لمبی چھوڑی تفصیل لکھنا ضروری ہے۔ مہمانوں کے آنے کی اطلاع مقامی تھانہ میں دینا ہوتی ہے۔ اس طرح اگر پھر بھی کوئی مشکوک یا جرایم پیشہ ہوٹل سے پکڑا گیا، تو ہوٹل منیجر کو حوالات کی سیرکرائی جائے گی۔ اس قانون کی وجہ سے ہوٹل مالکان میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور اسے سیاحت کی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔
تیسری اہم بات سوات میں جگہ جگہ سیکورٹی چیک پوسٹوں کا موجود ہونا ہے۔ سیکورٹی قایم کرنا بہت ہی ضروری ہے مگرا س کی آڑمیں آنے والے سیاحوں سے ذاتی پوچھ پاچھ، ان کے باپ، دادا تک کے نام نوٹ کرنا اور اس قبیل کے دیگر فضول قسم کے سوالات سیاحوں کویہاں سے بھگانے کے مترادف ہیں۔ کیوں کہ لوگ جب بھی کہیں سیرکے لیے جاتے ہیں، تو وہ آزاد فضاؤں میں سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ بعض اوقات ہم ملم جبہ سے واپس آتے ہیں، تو جاتے وقت شناختی کارڈ چیک کرنا،تو سمجھ میں آنی والی بات ہے مگر واپسی پر پھر چیکنگ اور انھی رٹے رٹائے سوالات کا پوچھنا بے تکی نہیں تو اور کیا ہے؟اس لیے کہ ملم جبہ آنے جانے کا ایک ہی راستہ ہے۔
اس طرح سوات میں جنگلات کو بے دردی سے کاٹاگیا اور تاحال نئے پودے نہیں لگائے گئے ہیں۔ کسی بھی علاقہ میں سیاحت کے فروغ کے لیے سیاحتی مراکزہوتے ہیں۔ سوات میں قدرتی طورپر سیاحت کے لیے بہت ساری جگہیں موجود ہیں مگر ان میں قیام کے حوالہ سے سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص کرفیملی کے ساتھ آنے والی خواتین کے لیے مخصوص جگہ موجود ہی نہیں۔
سوات میں سیاحت کے فروغ کے لیے میلے منعقد کیے جاتے ہیں مگران موقعوں پر سیکورٹی انتہائی سخت کی جاتی ہے اور عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی جس سے فایدہ کی بجائے الٹا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں کو الگ سے پریشان کیا جاتا ہے اور جب سڑکیں ہی خراب ہوں، تو سیاحتی میلے محض مخصوص لوگوں کے الو سیدھا کرنے کا ذریعہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔
998 total views, no views today


