سوات :سابق ایم این اے اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مسرت احمد زیب نے کہا کہ والئ سوات نے تاحیات سوات میں ٹیکس نہ لگانے کا کہا تھا ، معاہدہ میں کوئی مدت کا تعین نہیں کیا گیا ، ان خیالات کااظہار انہوں نے ٹیکس کے نفاذ کیخلاف اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مسرت احمد زیب نے کہا کہ والئی سوات نے معاہدہ میں لکھا تھا کہ سوات کی اپنی پائیداوار اتنی زیادہ ہے کہ وہ اپنے اخراجات پوری کرسکتا ہے، اس لئے یہاں پر کبھی بھی ٹیکس نافذ نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ سوات کے علاوہ دیر ، چترال کے عوام کیساتھ بھی رابطہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معرض وجود میں انے کے بعد دو سال بعد سوات پاکستان میں شامل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب سوات کو پاکستان کے حوالے کیا جارہا تھا تو والئی سوات نے سخت شرائط رکھی تھی ۔ کیونکہ انہوں نے یہ سارے نظام دیکھیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں دیر کے عوام کو ضرور شامل کئے جائیں کیونکہ سوات نے تو معاہدہ کیا ہے لیکن دیر نے معاہدہ نہیں کیا ہے ان کو بزور شامل کیا گیا ہے ۔ مسرت احمد زیب نے کہا کہ سارے پارٹیوں کو ملکر کوششیں کرنے چاہیں ، اور کسی بھی صورت کو ٹیکس نافذ نہیں ہونا چاہیئے ۔
649 total views, no views today



