مدینہ منورہ میں ہمیں آٹھ دن گزارنا تھے۔ یہاں میں نے ہر چیز کا بہ غور جایزہ لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب تیل سے مالا مال سرزمین ہے، مگر شاید ہی کسی کا اس طرف دھیان گیا ہو کہ مذکورہ ملک کی معیشت کی مضبوطی میں ہم جیسے عام زایرین کا کردار تیل سے بھی اہم ہے۔ یہاں ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال سر اٹھا رہا ہو کہ وہ کیسے؟ تو جواب کے طور پر اپنے چند مشاہدات قارئین کرام کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گا۔ یہ مشاہدات ہوسکتا ہے کہ دیگر زایرین کی بھی ہوں، مگر شیئر کرنے کے لیے انھیں کوئی مؤثر پلیٹ فارم ہاتھ نہ آیا ہو۔
سب سے پہلی بات بیت اللہ اور مسجد نبوی کے باہر مختلف دکانوں میں انواع و اقسام کی اشیائے خور و نوش جنھیں دیکھ کر ایک اچھے خاصے کھاتے پیتے انسان کے منھ میں بھی پانی بھر آئے۔ بریانی اور برگر سے لے کر ایسا کون سا کھانا ہوگا جو وہاں پر دست یاب نہیں ہوگا۔ بیت اللہ شریف کے ہزار میٹر کے احاطہ میں دو پاکستانی ہوٹل میں نے نوٹ کیے، جنھیں پنجاب سے تعلق رکھنے والے چلا رہے تھے۔ یہی حال مسجد نبوی کا بھی تھا۔ ہزار میٹر ہی کے احاطہ میں وہاں دو پاکستانی کھانوں کے ہوٹل تھے اور وہ بھی اہل پنجاب ہی چلا رہے تھے۔ یہ خیال ہوسکتا ہے کہ دیگر پختون بھائیوں کو بھی آیا ہو کہ دونوں جگہوں پر ڈھونڈے سے بھی کوئی افغانی ہوٹل نہیں ملتا۔ ہمیں بامر مجبوری ’’پنجابی کھانے‘‘ کھانا پڑے جن میں مرچ مصالحوں کا استعمال نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔بڑے تو پھر بھی گزارہ کرلیتے ہیں مگر جب تین چار سالہ بچے ساتھ ہوں، تو پھر ’’افغانی ہوٹل‘‘ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ یہ میں بہک کر کہاں نکل گیا۔ اشیائے خور و نوش کے علاوہ آرایش و زیبایش کا سامان اس سلیقہ سے سجایا گیا ہوتا ہے کہ آدمی کا کھانے کو جی نہیں چاہتا، مگر وہاں پر سجے مذکورہ سامان کو خریدنے کی خواہش کچھ اس طرح سے انگڑائیاں لیتی ہے کہ اچھے خاصے آدمی کے خرید و فروخت کے وقت عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں۔ بعد میں جب وہ ہوٹل پہنچ کر ریالوں کو پاکستانی روپیہ سے ضرب دیتا ہے، تو اس کا منھ دیکھنے لایق ہوتا ہے۔ ساڑھے سات ہزار ریال مجھے میرے بھائی نے تھمائے تھے اور جب میں اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترا، تو میری جیب میں ایک سو اکسٹھ ریال باقی تھے۔
ہم جس ہوٹل میں قیام پذیر تھے، وہ یہی کوئی سو کمروں پر مشتمل ہوگا۔ ہوٹل کے قانون کے مطابق چار بستروں پر مشتمل کمرہ تقریباً ایک سو اسی ریال (چوبیس گھنٹہ) کے لیے دیا جاتا ہے۔ اب آپ سو کو ایک سو اسّی سے ضرب دیں گے، تو حاصل اٹھارہ ہزار (ریال) ہوگا۔ یہ حرم شریف کے ہزار میٹر کے احاطہ میں ایک ہوٹل کی ایک رات کی آمدنی ہے۔ ہم جس شاہ راہ پر مقیم تھے، غالباً یہ اس کا سب سے چھوٹا ہوٹل تھا۔ فرض کرلیں کہ مذکورہ احاطہ میں پانچ سو ہوٹل ہیں۔ اوسطاً ہر ہوٹل کے سو کمرے لے لیں۔ سو کو پانچ سو سے ضرب دیں گے، تو حاصل پچاس ہزار ہوگا۔ اب پچاس ہزار کو ایک سو اسی سے ضرب دیں گے، تو حاصلِ ضرب ہوگا نوے لاکھ ریال اور وہ بھی صرف چوبیس گھنٹہ میں۔ واضح رہے کہ یہ بات حرم شریف کے ایک ہزار مربع میٹر کے احاطہ کے بارے میں ہو رہی ہے۔ زیاہ تر زایرین حرم شریف کے تین چار مربع کلومیٹر کے احاطہ میں قیام پذیر ہوتے ہیں۔ اس احاطہ میں کتنے ہوٹل ہیں، ان میں کتنے کمرے ہیں، اس کا اندازہ لگانا اتنی بڑی بات نہیں ہے۔یہ بھی رقم کرتا چلوں کہ جس ہوٹل میں ہم قیام پذیر تھے، وہاں ریسٹورنٹ کی سہولت موجود نہیں تھی۔ کھانا الگ سے کسی پاکستانی ہوٹل سے خریدنا پڑتا تھا۔ ہم ایک وقت کا کھانا یہی کوئی پچیس ریال میں خرید کر لے آتے تھے۔ ناشتہ ملا کر پینسٹھ ریال (یومیہ) کا خرچہ الگ سے اٹھانا پڑتا تھا۔ اب ایک بار پھر اعداد و شمار کی طرف آتے ہیں۔ پانچ سو ہوٹل، پچاس ہزار کمرے، فی کمرہ پینسٹھ ریال (یومیہ)۔ پچاس ہزار کو پینسٹھ سے ضرب دیں گے، تو حاصلِ ضرب بتیس لاکھ پچاس ہزار ریال (یومیہ) ہوگا۔
قارئین کرام! اس تمام تر بحث کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ ’’اہلِ عرب‘‘ صرف تیل کی دولت سے مالا مال نہیں ہیں، سعودیہ کی معیشت میں ہم ’’اہل عجم‘‘کا کردار تیل سے بھی بڑھ کر ہے۔ اوپر کے اعداد و شمار میں ذرایع آمد و رفت کے اخرجات، ائیرپورٹ پر دو سو گنا مہنگی بیچی جانے والی اشیاء اور یہاں تک کہ واپس آتے ہوئے جدہ ائیر پورٹ پر ’’آب زم زم‘‘ جیسی متبرک شے کو قیمتاً بیچے جانے کا تخمینہ نہیں لگایا گیا ہے۔
قارئین کرام! میں اپنی زندگی کے قیمتی پچیس چھبیس سال اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرہ میں گزار چکا ہوں۔ والد چوں کہ اپنی دنیا میں مگن تھے، اس لیے میری ’’ضعیف الاعتقادی‘‘ میں میری والدہ کا اور ان کی سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات کا بڑا عمل دخل ہے۔ برسبیل تذکرہ، مکہ معظمہ کی حدود میں مقدس مقامات کی زیارت کے موقعہ پر ہماری ماں جذبات کی رو میں بہتے ہوئے فرما گئی کہ ’’یہ نبی آخر الزماں کی دعا ہے، اس لیے ’’اہلِ عرب‘‘ سیاہ و سفید کے مالک ہیں اور اس لیے دنیا جہاں کی نعمتیں یہاں وافر مقدار میں موجود ہیں۔‘‘ میرے بھائی نے بلا تحمل والدہ صاحبہ کو بتا دیا کہ آپؐ نے تو اپنی تمام امت کے لیے دعا مانگی ہے۔ میں نے بھی ٹکڑا لگاتے ہوئے کہا کہ’’مور!نبی علیہ السلام خو رحمت اللعالمین وو، ’’رحمت العرب‘‘ خو نہ وو۔‘‘ یعنی آپ ؐ رحمت اللعالمین تھے، ’’رحمت العرب‘‘ تھوڑی تھے۔
مکہ معظمہ میں آخری شب گیارہ بجے امجد علی دولت خیل کی کال آئی ۔ واضح رہے کہ ہم نے مینگورہ میں اپنے دوست امتیاز خان (کراؤن ٹریول اینڈ ٹوورز، وزیر مال پلازہ نیو روڈ مینگورہ سوات) سے عمرہ کا پیکیج خریدا تھا۔ ان کے پھر اپنے لنک ہوتے ہیں، جن میں سے ایک امجد علی خان دولت خیل (سن لارڈز انٹرنیشنل ٹریولز اینڈ ٹوورز پرائیویٹ لمیٹڈ) ہیں۔ ان سے رات گئے خوب بحثا بحثی ہوئی جس میں مجھے پتہ چلا کہ عمرہ کے حوالہ سے پورے پاکستان کے لوگوں سے اپنے ہی پاکستانی ظلم کیا کرتے ہیں۔ ان کے بہ قول: ’’عمرہ کے لیے زیادہ تر عمر رسیدہ زایرین آتے ہیں جو پیدل چل پھر نہیں سکتے۔ عمرہ کا کاروبار کرنے والے زیادہ تر ایجنٹ حرم شریف سے ہزار آٹھ سو میٹر کے فاصلہ کا کہہ کر لوگوں سے پیسے وصول کرتے ہیں اور پھر انھیں دو دو، تین تین کلومیٹر دور ہوٹل میں قیام دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے پھر بیش تر عمر رسیدہ زایرین صبح سویرے منھ اندھیرے حرم شریف تشریف لاتے ہیں اور عشاء پڑھ کر واپس جاتے ہیں۔‘‘
یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ حرم شریف کی حدود میں ٹیکسی ڈرائیور دو تین کلومیٹر کے عوض دس درہم چارج کرتے ہیں۔ زایرین میں سے زیادہ تر قرض دار کرکے یا پھر زمین کا ٹکڑا وغیرہ بیچ کر اللہ کے گھر کے دیدار کے لیے آتے ہیں۔ بیش تر کے پاس کھانا کھانے تک کے پیسے نہیں ہوتے۔ ایسے میں وہ روزانہ بیس درہم ٹیکسی کا خرچہ کیسے ادا کریں گے؟ میں نے حرم شریف میں اپنی ان گنہگار آنکھوں سے کتنے ہی ایسے زایرین کو دیکھا جنھیں وہیل چیئرز پر لایا گیا تھا۔ وہ بے چارے پورا دن ایک ہی جگہ پر بتاتے اور اپنی عبادت وغیرہ میں مشغول رہتے۔ سعودیہ میں قیام کے دوران میں، مَیں نے امتیاز اور امجد علی دونوں کے لیے کافی دعائیں مانگیں کہ جن کی بہ دولت ہماری عبادت میں کوئی خلل نہیں آیا اور ہمیں حرم شریف کے قریب رہایش دی گئی تھی۔
860 total views, no views today


