سوات :سوات زمردکان کی 146 ایکڑ24 کنال کی اربوں روپے کی سرکاری اراضی محکمہ معدنیات اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے فروخت ہونے کا انکشاف، محکمہ معدنیات جواہرات چلانے کا اہل نہیں، انہیں ختم کرکے ایک اور معیاری محکمہ قائم کیا جائے، محکمہ معدنیات کی ناقص پالیسوں کے باعث زمردکان اور دیگرمعدنیات سے نہ حکومت کو فائدہ ہے اور نہ ہی حکومت کو ا س محکمہ کو ختم کرنا وقت کے ضرورت ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا قیمتی اراضی کی فروخت اور دیگر من مانیوں کا سخت نوٹس لے، ان خیالات کا اظہار آل پاکستان جیمزسٹون ایسوی ایشن کے صدر محمد رسول خان نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایسوسی ایشن کے دیگررعہد یدار حبیب خان، افتخارحسین، امجد علی، عبدالکبیر، نوید اللہ خان اور دیگر بھی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ سوات سٹیٹ میں تمام سکول، ہسپتال، گروانڈ، جنگلات اور معدنیات سوات عوام کی پراپرٹی تھی اور اسمیں سوات کے مقامی افراد ملازم تھے، جو سوات کے عوام کے فائدے اور سوات کی ترقی میں مخلص تھے، لیکن سوات کی پاکستان میں ادغام کے بعد حکومت کو تمام سہولیات مل گئے، لیکن اختیار پشاور منتقل ہو گیا جس کی وجہ سے اب سوات کے مقامی افراد بھرتی نہیں ہورہے اب بیش بہا خزانے زمرد کان کو ٹھیکہ دار کے حوالے کیا گیا ہے، محکمہ اپنی مرضی سے من پسند ٹھیکہ دار دیتا ہے، محکمہ معدنیات کا ڈائریکٹر اپنی ریٹائرمنٹ تک تبدیل نہیں ہوتا اور اسی دروان اپنے ہی لوگوں کو نوازتا ہے جبکہ مقامی لیز ہولڈر اور سوات عوام کو کوئی فائدہ نہیں دیتا، انہوں نے کہا کہ ہماری درخواست پر سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے نوٹس لے کر جمیز سٹون کا ر پوریشن قائم کیا جسمیں معیاری کام ہوئے، 80 لاکھ روپے کی لاگت سے زمردکان کی 184 ایکڑ کنال پر جال لگا کر محفوظ کر لیا گیا جبکہ علاقے کے خواتین سے 23 کنال اراضی طے کر راستہ تعمیر کیا گیا، فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے 73 اراضی کو محفوظ نہیں کیا جاسکا، اب محکمہ کے حکام اور مقامی انتطامیہ نے ملی بھگت سے 146 ایکڑ اور 23 کنال راستہ فروخت کردیا ہے جس میں مقامی اثر ورسوخ رکھنے والے افراد شامل ہیں جو اراضی خریدنے اور یا کان میں لیز لینے میں ملوث ہیں،انہوں نے کہا ٹھیکہ دار مقامی لوگوں پر جواہرات فروخت کرنے کا پابند ہے لیکن وہ باہر ممالک میں قیمتی جواہرات کم قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کے معاہدے کینسل ہو جاتے ہیں لہذا اس ناقص محکمہ معدنیات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اور ایک نیا محکمہ قائم کیا جائے جسمیں حکومت کو بھی فائدہ ہو اور مقامی افراد کی بھی داد رسی ہونگے۔
428 total views, no views today



