وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا عالمی انسانی حقوق کے دن کے موقع پر کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے قوانین اسمبلی سے منظور کرائے ہیں۔ بچوں پر تشدد کی روک تھام اور ڈومیسٹک وائلینس پر بھی خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون سازی کی گئی ہے جو کہ انسانی حقوق کی پاسداری کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی وجہ سے عالمی سطح پر معاشی مشکلات پیدا ہوئیں تاہم نہ صرف وفاقی بلکہ صوبائی حکومت نے بھی عوام کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے کئی معاشی تحفظ و فلاحی منصوبے شروع کئے۔ شہریوں کے معاشی تحفظ کے لیے احساس پروگرام کے تحت کئی فلاحی منصوبے جاری ہیں جن میں احساس راشن رعایت بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا خیبرپختونخوا کے شہریوں کو صحت کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام جاری ہے جس کے تحت صوبے کے ہر شہری کو 10 لاکھ سالانہ کی ہیلتھ انشورنس حاصل ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر عالمی برادری کشمیری عوام کی حالت زار پر بھی غور کرے جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ غاصب بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو غصب کیا ہے جو کہ اقوام عالم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
780 total views, no views today



