ڈیسک رپورٹ
ریجنل بلڈ سنٹر سوات کی کامیابی کا سہرا اسکے 46 ملازمین کی مرحون منت ہے۔ ان ملازمین کو داد دینے کی بجائے انکو فارغ کرنے کا عندیہ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ اگر پچھلے ایک سال کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو ریجنل بلڈ سنٹر سوات کے ملازمین نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں کامیابیوں کے وہ جھنڈے گھاڑے جو کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کے لئے محض خواب ہی ہوگا۔
ایک سال کے عرصہ میں ریجنل بلڈ سنٹر سوات نے 20 ہزار سے زاید خون کے عطیات لئے جس سے 50 ہزار سے زاید مریضوں کا علاج ہوا۔
ان ملازمین نے گلی کوچوں، محلوں، سکول، کالجز و یونیورسٹیوں، مسجدوں کے سامنے، مارکیٹس اور سڑکوں کے کنارے تک پر کیمپ لگائے اور خون کے عطیات اکھٹے کئے جس سے 50 ہزار سے زیادہ جانیں بچ گئی۔
سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے ساتھ مفاہمتی یاداشت جس سے روزانہ کی بنیاد پر 100 سے زاید مریضوں کو خون کے اجزا فراہم ہوتے ہیں۔
وجیحہ تھلیسیمیا فاونڈیشن کے ساتھ مفاہمتی یاداشت جس کے بعد اس سنٹر کے 600 سے زیادہ تھلیسیما کے مریضوں کو بیماریوں سے پاک صاف خون میسر ہوتا ہے۔
الفجر فاونڈیشن سوات کے ساتھ مفاہمتی یاداشت جس کے بعد اس سنٹر کے ساتھ رجسٹرڈ تھلیسیمیا کے 500 سے زاید مریضوں کو بھی خون اور خون کے اجزا فراہم ہوتے ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن کے ہیموفیلیا کے تمام مریضوں کو پلازمہ اور کرایو پریسیپیٹیٹ بغیر بدلے خون اور مفت ملتا ہے۔
ڈینگی کی وبا میں جدید ٹیکنالوجی سے پلیٹلیٹس اپیریسس کے ذریعے میگا پلیٹلیٹس یونٹس یعنی سفید خون فراہم کرتے رہے۔
سنٹر کے ملازمین نے مزید 2 ریجنل بلڈ سنٹرز (ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان) کے سٹاف کو ٹریننگ دی۔
اب تک ریجنل بلڈ سنٹر سوات سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے ساتھ ملحقہ ڈپلومہ کالجز اور انسٹیٹیوٹ کے 200 سے زاید طلبا کو جدید بلڈ بینکنگ کی ٹریننگ دے چکا ہے۔
پچھلے ایک سال میں ریجنل بلڈ سنٹر سوات کے ملازمین نے کورونا وائرس کی وبا میں ڈبل ڈیوٹیاں سرانجام دی۔ ملازمین نے کوئی عام تعطیل نہیں لی۔ رمضان میں رات کے وقت بھی کام کیا۔ عید کی چھٹیاں ختم کی۔ ڈینگی کی وبا میں بھی ایسے ہی کام کرتے رہے۔
اسی سنٹر کے زیر قیادت ملاکنڈ کے 5 اضلاع کے دسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں جدید طرز کے بلڈ بینک بنے جس سے ان علاقوں کے مریض مستفید ہوتے ہیں۔
دن رات محنت و لگن سے کام کرکے جن ملازمین نے ایک ادارے کو خیبر پختونخواہ کا ایک مثالی ادارہ بنایا اسکے ملازمین کو رخصت کرکے نئی بھرتیاں کرانا ان ملازمین کی حوصلہ شکنی، حق تلفی اور ظلم کے علاو اورہ کچھ نہیں۔
حکومت وقت سے التماس ہے کہ ان ملازمین کی حوصلہ شکنی کی بجائے انہیں داد دے اور انکے سروسز اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے انکے ملازمت کو ریگولر کرانے کے احکامات جاری کرکے ان کو عزت سے نوازے۔
1,299 total views, no views today



