مینگورہ،علاقہ ودانہ گورتئی منگلورسے تعلق رکھنے والی خاتون رحم پاس بی بی نے کہاہے کہ تین سال پہلے ان کے بے گناہ شوہر کوقتل کیاگیا،انصاف کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھارہی ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی ،سوات پریس کلب میں اپنے بچوں اوردیگررشتہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ راستے کے تنازعہ پر رحمن اللہ ولد عبدالمولا نے میرے شوہر کو بے رحمی سے قتل کرکے میرے بچوں کویتیم کردیا ، رحمان اللہ ولد عبدالمولا نے ہمارے راستے پر دعویٰ کر کے ہم پر کیس شروع کردیا ، کچھ عرصہ کیس جاری تھا سول جج کی عدالت نے فیصلہ ہمارے حق میں سنایا جس کے بعد رحمان اللہ نے سیشن جج کی عدالت میں اپیل کی سیشن جج کی عدالت نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ سنا دیا تاہم رحمان اللہ نے پشاور ہائی کورٹ میں اپیل کردی جہاں پر ان کی اپیل مسترد ہوئی ،انہوں نے کہاکہ یہ سارے مرحلے ختم ہوگئے تو ہم نے اس راستے میں کام شروع کردیا ، ہم اپنے گھر کے سامنے اس راستے میں کام کر رہے تھے کہ اچانک رحمان اللہ نے اپنے بھائیوں سمیت آکر ہمارے خاندان کے افرادپر چھریوں سے وار شروع کردئے جس سے میرا شوہر جاں بحق جبکہ ہمارے خاندان کے سات افراد زخمی ہوگئے ، ہم نے تھانہ مینگورہ میں رپورٹ درج کردی جس پرپولیس نے رحمان اللہ اور ان کے بھائیوں کو پکڑ کر جیل بھیج دیا اور سول جج سہیل شیرازی کی عدالت میں کیس چل رہاتھا جب فیصلہ سنایا گیا تو رحمان اللہ اور ان کے والد کو عمر قیدکی سزا ہوئی جبکہ ان کے بھائی خلیل اللہ پر پانچ سال اور دسرے بھائیوں ضیاء اللہ ، عرفان اللہ جبکہ رحمان اللہ کے بیٹے عطاء اللہ کو تین تین سال قید کی سزا ہوئی ،انہوں نے کہاکہ ہمارے خاندان کے سات افراد کوبھی تین تین سال قید سزاہوئی ، جس کے بعد خاندان کے افراد کو ضمانت پر رہاکردیاگیا دوسری جانب مخالف فریق میں رحمان اللہ کے باپ عبدالمولیٰ اور ان کے بھائی ضیاء اللہ ، عرفان اللہ اور ان کے بیٹے عطاء اللہ کو بھی ضمانت مل گئی جبکہ رحمن اللہ اور ان کے بھائی خلیل اللہ کوبر ی کردیاگیا ، انہوں نے صوبائی حکومت ، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ، ڈی سی سوات ، ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن ، ڈی پی او سوات پرزور اپیل کی ہے کہ ہمارے ساتھ کئے گئے ظلم کی تحقیقات کرکے ہمیں انصاف دیاجائے بصورت دیگر بچوں سمیت خود سوزی پر مجبور کروں گی ۔
762 total views, no views today


