قواعد:۔ قواعد زبان کی ساخت کے سمجھنے کا ذریعہ ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ زبان میں الفاظ کس طرح بنتے ہیں اور کس طرح عمل میں لائے جاتے ہیں۔ لفظ اور جملہ ادا کرنے کا صحیح وقت کون سا ہے۔ مثلاً اگر منھ سے لفظ نکالا، تو جانے کیا کیا ہو جائے گا۔ قواعد کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔مثلاً کھیل کے قواعد، اسکول کے قواعد، رشوت کے قواعد، قانون کے قواعداور محبت کے قواعد۔ قواعد کا اصل مطلب بہ طریق احسن بولنا، لکھنا اور سوچنا ہے تا کہ بہترین معاشرہ تشکیل پا سکے ، جیسا کہ بن رہا ہے ۔
چند قواعد درج ذیل ہیں۔
اسم:۔ اسم وہ کلمہ ہے جو کسی اور کلمے کی مدد کے بغیر اپنا مطلب منوا سکتا ہو ۔ مثلاً انسان، حیوان، شیطان وغیرہ۔
اسم معرفہ:۔ کسی خاص چیز، شخص یا جگہ کے نام کو اسم معرفہ کہتے ہیں ۔ مثلاً رشوت، دہشت گرد اور کرسی وغیرہ۔
اسم نکرہ:۔ وہ اسم جس میں کسی عام چیز، شخص یا جگہ کا نام لیا جائے، اسم نکرہ کہلاتا ہے۔ مثلاً پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، آٹے کی قلّت، مسجد سے چوری، نوجوان جوڑا رنگ رلیاں کرتے ہوئے گرفتار وغیرہ۔
اسم ضمیر:۔ وہ اسم جس میں ضمیر انسان کو ملامت کرتا ہے، اسم ضمیر کہلاتا ہے۔ مثلاً اتنا لے کر کیا کروگے؟ مال مفت دل بے رحم، رشوت کا انجام وغیرہ۔
اسم اشارہ:۔ اس سے مراد وہ اسم ہے جس میں کسی کو اشارہ کیا جائے۔ چاہے اشارہ کرنے والا مذکر ہو یا مؤنث، یا اشارہ مذکر کی جانب کیا جائے یا مؤنث کی طرف (سبھی اشارے جایز ہیں)۔ اس اشارہ کی مزید دو اقسام ہیں۔
اشارۂ قریب:۔ اس کے ذریعے اشارہ قریب سے کیا جاتا ہے۔ ہاتھوں کا بھی ، آنکھوں کا بھی۔
اشارۂ بعید:۔ اس میں اشارہ دُور سے کیا جاتا ہے۔ اس میں اشارہ صرف ہاتھوں سے کیا جاتا ہے۔
فعل:۔ وہ کلمہ جس میں کسی کام کا کرنا یا ہو نا زمانہ کے مطابق ظاہر کیا جائے، فعل کہلاتا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر نے مریض کا کام تمام کر دیا، مارشل لاء لگایا گیاوغیرہ۔
فعل حال:۔ وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہو نا موجودہ زمانہ میں ظاہر کیا جائے، فعل حال کہلاتا ہے۔ مثلاً لا دینی بڑھتی ہے، ہم نماز کے بغیر روزے رکھتے ہیں، وہ رشوت لینے میں تھوڑی سی شرم محسوس کرتے ہیں، وغیرہ۔
فعل ماضی:۔ فعل ماضی گزرے ہوئے زمانہ کو کہتے ہیں۔ مثلاً ڈاکو نے گاڑی چھینی، اندھے نے کتاب پڑھی، ملزم جیل سے فرار ہو ئے، پولیس نے لاٹھی چارج کی وغیرہ۔ اس کے علاوہ ماضی شکیہ بھی کسی سے کم نہیں، جس میں عام طور پر انسان شک میں پڑ جاتا ہے کہ نماز تراویح آٹھ آٹھ رکعت ہے یا یا بیس؟ لوگ ماضی کی یادوں کو بھلا تے ہیں مگر بھلا نہیں پاتے۔ بعض ماضی کو یاد کرکے روتے ہیں جب کہ بعض روتے روتے ہنس پڑتے ہیں۔ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ماضی کی حسین یادوں کے سہارے گزشتہ زمانہ کی تمنا کرتے ہیں ، حتٰی کہ موت اس کی تکمیل کا باعث بنتی ہے ۔
فعل مستقبل:۔ وہ فعل جس میں مستقبل کے سہانے خواب دیکھے جاتے ہیں، فعل مستقبل کہلا تا ہے۔ مثلاً دس کروڑ روپے سے نئے اسکول قایم کیے جائیں گے۔ غریب کو روٹی، کپڑا اور مکان میسّر ہوگا۔ نیز بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ڈاکو لُوٹا ہوا مال واپس کردیں گے وغیرہ ۔
فعل لازم:۔ وہ فعل جو لازماً کرنا پڑتا ہے، فعل لازم کہلاتا ہے۔ مثلاً رشوت لینا، کوٹھی بنوانا، کار خریدنا اور ملاوٹ کرناوغیرہ ۔
حرف:۔ وہ لفظ (یا لوگ) جو اپنے کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ دوسروں کے سہارے با معنی بن جاتا ہے، حرف کہلاتا ہے ۔مثلاً فرمان سے فرمان بردار ، چوک سے چوکی دار ، جان سے جان دار ، تھانہ سے تھا نے دار ، دکان سے دکان دار وغیرہ۔
حروف تشبیہہ :۔ وہ حروف جن کے ذریعے مشابہت دی جائے، حروف تشبیہہ کہلاتے ہیں۔ مثلاً مینار جیسی ناک ، سنگ مر مر جیسا بدن وغیرہ ۔
حروف تاکید:۔ وہ حروف جن میں کسی کام کی تاکید کی جائے ، حروف تاکید کہلاتے ہیں۔ مثلاً نقل عام کرو، سفارِش نہ کرو، مجرم مت بنو، میک اپ نہ کرو وغیرہ ۔
تذکیر و تانیث:۔ یہ دونوں نر اور مادہ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں مگر آج کل ان دونوں میں فرق کر نا مشکل ہو گیا ہے۔ مثلاً گھوڑا گھوڑی، لڑکا لڑکی ، بکرا بکری وغیرہ۔
اسم آلہ:۔ وہ اسم جس کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنا یا جائے ۔ مثلاً دن دہاڑے نقدی چھین لینا، ہلاک کیا جانا، یرغمال بنا لینا اور دھمکا نا وغیرہ۔اس اسم کے ضروری اجزاء مندرجہ ذیل ہیں۔ کلاشنکوف، بندوق ، پستول ، خنجر وغیرہ ۔
اسم صفت:۔ وہ اسم جس میں کسی کی صفت بیان کی جائے، اسم صفت کہلاتا ہے۔ مثلاً مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، ہمارے ملک کی سڑکیں بے مثال ہیں، ڈاکٹر کبھی فیس نہیں لیتا، اشیائے خورو نوش سستی ہیں وغیرہ ۔
*۔۔۔*۔۔۔*
764 total views, no views today


