طوفان اب تھم گیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ طوفان برپا کرنے والے دو ایسے سیاسی لیڈران اور رہبران ہیں جو ملک کے تعلیم یافتہ، نوجوان اور درمیانے طبقہ کی اکثریت کے دعوے دار ہیں۔ اور ان لیڈران کے ماننے والے صرف ان کے ماننے والے نہیں بلکہ ایمان لانے والے ہیں۔ قاید تحریک الطاف حسین بھائی اور رہبر تحریک انصاف جناب عمران خان کی زبان سے ہر نکلنے والی بات پتھر کی لکیر کی حیثیت رکھتی ہے اور خاص کر ان کے کارکنان کے لیے حدیث شریف کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان دو حضرات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی کو انکار کی جرأت ہی ہے۔ ایک حضرت کے نزدیک اختلاف اور انکار کرنے والا واجب القتل ہے اور دوسرے حضرت کے نزدیک باغی، گناہ کبیرہ کا مرتکب اور ناقابل معافی مجرم ہے۔
پچھلے دنوں دور بیٹھے لندن سے الطاف حسین بھائی نے تو پہلے تحریک سے استعفا دینے کا وہ ڈرامہ رچایا جس کا ڈراپ سین ہر ایک کو معلوم ہے۔ ہر دوسرے تیسرے مہینے یہ ڈرامہ رچا کر لوگوں کو بور کیا جاتا ہے۔ اپنی پارٹی کے کچھ لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ پھر رونا رویا جاتا ہے اور پھر آخر میں تحریک کو خیرباد کہنے اور نکلنے کی دھمکی آمیز آہ و زاری کی جاتی ہے۔ پھر کچھ گھنٹوں کے بعد جیسے کہ معمول بنا ہوا ہے، پارٹی اراکین ناین زیرو پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آہ و بکا کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ قاید تحریک سے التجا اور منتیں کی جاتی ہیں۔ رو رو کر دہائی دی جاتی ہے کہ قاید عوام اپنے بے لوث، مخلص کارکنان پر رحم فرما کر استعفا واپس لیں۔ چناں چہ مکارانہ لیت و لعل کے بعد قاید تحریک استعفا واپس لے لیتے ہیں۔ یہ ایک عجیب سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ ہر تین مہینے کے بعد یہ پریکٹس دھرایا جاتا ہے۔ عوام کو بلا وجہ، نا حق اور بے گناہ تنگ اور بور کیا جاتا ہے۔ مجال ہے کہ ٹی وی کا کوئی چینل یہ سارا ڈرامہ پورا نشر نہ کرے۔ کسی میں جرأت ہے کہ الطاف بھائی کے پورے خطاب (ٹیلی فونک)کو کوریج نہ دے۔ پھر ان ٹی وی والوں کی خیر نہیں۔ ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ خدا کے لیے یہ ڈرامہ بازی بند کی جائے۔ عوام کو اس سہ ماہی بور پروگرام سے نجات دلوائی جائے۔ اس ملک میں
اور بھی غم ہیں زمانے میں ’’غم الطاف‘‘ کے سوا
جو لیڈر ہوتا ہے، جو رہبر ہوتا ہے اور جو اصل قاید ہوتا ہے، اُسے یہ علم ہوتا ہے کہ اُسے کب سیاست اور پارٹی قیادت سے مستعفی ہونا ہے۔ اللہ بخشے خان عبدالولی خان کو۔ ایک بار الیکشن میں مرحوم مولوی حسن جان سے ہار گئے۔ اگلے دن اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کیا اور مرتے دم تک سیاست کا نام زبان پر نہ لائے۔
یہ کیا ڈرامہ بازی ہے؟ صبح سیاست اور قیادت سے استعفا، دوپہر کو استعفا واپس لے لینا۔ ایک دن حکومت سے نکلنا، دوسرے دن حکومت میں واپس آنا۔ یہ متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان ہیں یا لاشیں ہیں کہ یہ پوچھ بھی نہیں سکتے کہ یہ کیا مذاق ہورہا ہے؟ اگر دو گھنٹے کے بعد استعفا واپس لینا ہے، تو اسے دینے پر مجبور کس نے کیا تھا؟
قارئین کرام! آج کل بیان دینا اور واپس لینا ایک رواج بن چکا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ایک پارٹی لیڈر ایسی غلیظ زبان بھی استعمال کرسکتا ہے جو عمران خان کے بارے میں اور اُس کے دھرنے کے بارے میں استعمال کی گئی۔ کم از کم میری زبان پر تو وہ الفاظ نہیں آسکتے۔ آخر کیوں؟
آپ کو عمران خان سے اختلاف ہے، ٹھیک ہے رکھیں۔ سیاسی اختلاف ہر سیاسی لیڈر کا حق ہے، لیکن گالی گلوچ دینا کون سا سیاسی کلچر ہے؟ جسے وسعت دی جا رہی ہے۔ پھر اُس کے بعد چمچوں کی جو بیان بازی شروع ہوگئی جو کچھ حیدر عباس رضوی اور بیرسٹر سیف نے کہا، اُسے بازاری لوگ بھی نہیں کہہ سکتے۔ عمران خان کے خاندان، ذاتیات، باپ، بہنوں، بیوی اور بچوں کو ایسے آڑے ہاتھوں لیا گیا کہ الامان و الحفیظ۔ جو کچھ منھ میں آیا کہا گیا۔ اور تو اور عورت ذات شیرین مزاری کو گالیوں سے نوازا گیا۔ کراچی نہ آنے کی دھمکی دی گئی۔ ترکی بہ ترکی کے مصداق عمران خان نے بھی وہ طوفان بد تمیزی کھڑا کیا اور اس کے بھی جو منھ میں آیا کہتا گیا۔ قارئین،یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں، بات حیرانی والی یہ ہوئی کہ ٹھیک آدھا گھنٹہ کے بعد الطاف بھائی نے ایسا یوٹرن لیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ اپنے تمام الفاظ اور بیان واپس لے لیے۔باقاعدہ معافی مانگی۔ ’’آئی ایم ساری‘‘ کئی بار کہا گیا۔ شیرین مزاری سے معذرت کی گئی۔ جن چمچوں نے برا بلا کہا تھا، وہ اپنا سا منھ لے کر رہ گئے۔ وہ ایک پشتون (غیرت سے نا آشنا) بیرسٹر سیف کو ’’قاید تحریک‘‘ سے یہ پوچھنے کی جسارت تک نہ ہوئی کہ آخر یہ گالی گلوچ کیوں؟ اور پھر فوراً یہ اُلٹنا اور یوٹرن لینا چہ معنی دارد؟ آپ لیڈر ہیں یا گرگٹ ہیں جو لمحہ بھر میں رنگ بدل دیتے ہیں؟
لیکن یہ پوچھے گا کون؟ کیوں کہ یہ لوگ تو کارکنان نہیں بلکہ غلام ہیں۔ اور غلام آقا کے خلاف کیسے بول سکتا ہے؟ سیاست کے اصول، قاعدے، منشور، دستور، جمہور اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جمہوری رویے نہیں ہیں، بس آقا اور غلام کا رشتہ ہے۔ بس کارکن کا یہ فرض ہے کہ ہر وقت دست بستہ کھڑا رہے اور لبوں پر صرف یہ کلام ہو کہ ’’کیا حکم ہے میرے آقا‘‘ اور پھر بلاچو و چراں وہ حکم بہ جا لائے۔
سیاست کے یہ انداز اور آقا اور غلامی کا یہ دستور جب تک بدلے گا نہیں، پاکستان کے سیاسی کلچر میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔ سب سے بڑی ستم ظریفی اور تاریخی جبر یہ ہے کہ جو سیاسی قوت جس سماجی برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کا دعوہ دار بنتی ہے، وہ اُسی سماجی برائی میں سر سے پیر تک آلودہ ہو جاتی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ جاگیرداری کے خلاف بات کرتی ہے لیکن خود اُس کا سیاسی ڈھانچہ ایک ’’انسان‘‘ کے مرہون منت ہے اور وہ ایک ظالم جاگیردار کا رول پلے کررہا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اُس کے سامنے سر اُٹھا سکے یا حق بات کرسکے۔ اُس کا سر تن پہ رہے گا اور نہ منھ میں زبان۔
عمران خان تبدیلی کی بات کرتا ہے۔ اسٹیٹس کو کے خلاف بات کرتا ہے۔ وہ خود اسمبلی اور سینیٹ کے خلاف ہے۔ اسمبلی کو ’’کرپٹ اسمبلی‘‘ اور حکومت کو ’’کرپٹ حکومت‘‘ کے نام سے پکارتا ہے لیکن اُسی آلودہ نظام میں خود آلودہ ہوکر سیاست بھی کر رہا ہے۔ حکومت سے جوڈیشل کمیشن اور ججوں سے انصاف کی اُمید لگائے بیٹھا ہے۔ موجودہ کیچڑ میں لت پت ہوکر اپنے آپ کو صاف شفاف قرار دے رہا ہے۔ وہ کتنی بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ موجودہ سماج سے تبدیلی کی اُمید لگائے بیٹھا ہے۔ وہ سماج جو صدیوں سے استحصال اور لوٹ کھسوٹ کی مضبوط بنیادوں اور ریاستی ظلم و ستم، تفریق وامتیاز کے ستونوں پر استوار ہے۔ اس نظام میں تبدیلی صرف اور صرف طبقاتی انقلاب لاسکتا ہے اور انقلاب ایک انقلابی پارٹی اور انقلابی قیادت ہی لاسکتی ہے۔ یہ کم از کم الطاف حسین بھائی اور عمران خان جیسے لوگ نہیں لاسکتے۔
730 total views, no views today


