مینگور ہ،مرکزی جماعت اہلسنت کے صوبائی امیر ڈاکٹرمولانامحمدشفیق نے کہا ہے کہ تحصیل بریکوٹ کے علاقہ شموزئی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے ہماری جماعت سے تعلق رکھنے والے امام کو بے دخل کرکے اورمیلاد شریف کا مذاق اڑاکر ظلم کی انتہا کردی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،حکومت اوردیگر اعلیٰ حکام مذکورہ ایس ایچ او کو فوری طورپرمعطل کرکے تحقیقات کریں،ان خیالات کااظہارانہوں نے گذشتہ روز سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،
انہوں نے کہاکہ شموزئی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ اوبشیر احمد نے ہماری جماعت کے امام کو بلا جواز بے دخل کردیاجبکہ ساتھ ساتھ میلادشریف کا بھی مذاق اڑایا ہے ،مذکورہ ایس ایچ او مذہبی منافرت اورفرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کررہا ہے ،انہوں نے کہاکہ ہم اہل سنت والجماعت پرامن لو گ ہیں اور سوات میں قیام امن کی خاطر اگر پاک فوج اورپولیس نے قربانیاں دی تو ہمارے علماء اورکارکنوں نے بھی قربانیاں دی ہیں،انہوں نے کہاکہ پاکستان کے بننے سے لے کر اب تک ہماری کسی تنظیم ،جماعت اوریہاں تک کہ کسی فرد پر بھی دہشتگردی اورانتہاپسندی کا داغ نہیں ہے لیکن ا س کے باوجود بھی پورے ملک اورخصوصاََ صوبہ خیبرپختونخوا میں اہلسنت کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہمارے مساجد ومدارس پر آج بھی انتہا پسند حملے کررہے ہیں مگر انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر انتظامیہ اہلسنت کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کررہی ہے،انہوں نے کہاکہ ہم پوچھتے ہیں کہ علاقہ شموزئی میں مسجد کے پیش امام کو کس بنیادپر بے دخل کیا گیا ہے؟ ایس ایچ او نے نہ صرف زیادتی بلکہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی بھی کی ہے،انہوں نے کہاکہ حکومت اوراعلیٰ حکام مذکورہ ایس ایچ او کو فوری طورپرمعطل کرکے اس کے خلاف تحقیقات کریں اگر 48گھنٹوں میں ہمارامطالبہ پوارنہ کیا گیا تو ملک گیراحتجاج کریں گے،اس موقع پر مولانا پیرسیدقادری،مولاناصلاح الدین ،مولانا رضاخان اور مرکزی جماعت اہل سنت کے دیگرعہدیداروں اورکارکنوں کی کثیر تعدادبھی موجود تھی۔
488 total views, no views today


