سوات انتظامیہ اور بلدیہ مینگورہ کے اشتراک سے مینگورہ میں ناجایز تجاوزات اور ہتھ ریڑھیوں کے خلاف مؤثر آپریشن عمل میں لایا گیا جس کے نتیجہ میں مینگورہ شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہوتا نظر آرہا ہے اور اس سے اہل شہر کو سکون کا سانس لینا بھی نصیب ہوا ہے۔ اس طرح شہر کے اندر کئی غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کا بھی خاتمہ کردیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات نہایت اطمینان بخش ہیں اور اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر سوات اور بلدیہ مینگورہ کے متعلقہ اہل کاروں کی کارکردگی قابل ستایش ہے۔ تاہم کئی مسایل ایسے اب بھی موجود ہیں جن کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
مینگورہ ایک چھوٹا سا لیکن نہایت گنجان آباد اور مسلسل پھیلتا ہوا شہر ہے۔ یہاں مقامی لوگوں کے مقابلہ میں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس تعداد میں روز افزوں اضافہ بھی ہو رہاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوات ایک بہت پُر امن علاقہ رہا ہے۔ اس کا معتدل موسم اور خوب صورت قدرتی مناظر باہر کے لوگوں کے لیے باعث کشش ہیں۔ مقامی لوگ بھی بہت سادہ، خلیق اور انسان دوست ہیں۔ کیوں کہ سوات کے لوگ ریاستی دور سے ایک خاص ضابطۂ اخلاق کے اندر زندگی گزارنے کے عادی رہے ہیں۔ سابق والئی سوات نے یہاں قانون کی عمل داری سختی سے ممکن بنائی تھی جس کے اثرات آج بھی سوات کے مقامی لوگوں میں موجود ہیں۔ حالیہ طالبانایزیشن اور اس کے نتیجہ میں برپا ہونے والی بداَمنی نادیدہ قوتوں کی کارفرمائیاں تھیں، اس لیے اہل سوات کو اس بداَمنی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ البتہ غیرمقامی لوگوں کی بہتات کی وجہ سے سوات کی روایتی اقدار میں تیزی سے مثبت و منفی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جس پر کسی دوسرے موقعہ پر تفصیلی اظہارِ خیال کروں گا لیکن یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ مینگورہ جیسے محدود اراضی کے حامل شہر میں جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں قرب و جوار کے کھیت کھلیان جس بے ڈھنگے انداز میں رہایشی اور تجارتی عمارتوں میں تبدیل ہو رہے ہیں، ان کی وجہ سے شہر کے مسایل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کہ سڑکیں وہی ہیں جو ریاستی دور میں بنائی گئی تھیں۔ ان میں صرف بائی پاس روڈ کا اضافہ ہوا ہے لیکن اس اضافہ کے باوجود ضرورت اس اَمر کی ہے کہ مزید سڑکیں بنائی جائیں جو مینگورہ خوڑ کے سنگ سیدو شریف سے مینگورہ اور مینگورہ سے اوڈی گرام وغیرہ کے علاقوں تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اس طرح دریائے سوات پر مختلف مقامات پر پل تعمیر کیے جائیں، تو دریائے سوات کے پار کے علاقوں کے مکینوں کو نہ صرف مینگورہ آمد و رفت میں سہولت میسر آسکتی ہے بلکہ اس سے کانجو پل پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ بلدیہ مینگورہ اور مقامی انتظامیہ کو شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر شہر کے نت نئے پیدا ہونے والے مسایل پر ہمہ وقت نظر رکھنی چاہیے اور ان کے حل کے لیے بروقت عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
مینگورہ کے دو بہت اہم مسایل جن کا میں اس کالم میں بہ طورِ خاص تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا مسئلہ مینگورہ شہر سے جنرل بس اسٹینڈ اور سبزی منڈی کی منتقلی ہے۔ جس کے لیے متعلقہ سرکاری اہل کاروں کی طرف سے بار بار یقین دہانی کرائی جاچکی ہے لیکن عملاً یہ مسئلہ نہ صرف جوں کا توں چلا آ رہا ہے بلکہ اس کی سنگینی میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ سبزی منڈی مینگورہ کے عین قلب میں واقع ہے جس کے چاروں طرف رہایشی آبادیاں ہیں۔ سبزی منڈی کے گلے سڑے پھل اور سبزیاں نہ صرف مقامی آبادی کی صحت کے لیے خطرات کا سبب بن رہی ہیں بلکہ منڈی کے اندر آنے جانے والی چھوٹی بڑی گاڑیوں کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ بھی بنتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ سبزی منڈی کی گلی سڑی سبزیاں اور پھل عموماً باہر روڈ کے کناروں پر پھینکے جاتے ہیں جس کے باعث پیپلز چوک سے لے کر شاہدرہ تک بدبو پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان گلی سڑی سبزیوں اور پھلوں کو کھانے کے لیے کوئی ستم ظریف اپنا مال مویشی بھی لے جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام کے ساتھ ساتھ سڑک پر حادثوں کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ عموماً یہ مال مویشی پورا دن سڑکوں پر اطمینان سے مٹرگشت کرتی نظر آتی ہے لیکن مقامی انتظامیہ کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ یہ پورا روڈ نہایت مصروف ہے اور اس میں ہمہ وقت غیر معمولی ٹریفک رواں دوں رہتی ہے۔ اس لیے مقامی انتظامیہ کو نہ صرف سبزی منڈی کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے لیے فوری پلاننگ کرنی چاہیے بلکہ مال مویشی کی سڑکوں پر مٹرگشت پر بھی سختی سے پابندی عاید کرنی چاہیے۔
دوسرا مسئلہ جو پہلے مسئلہ سے بھی بڑھ کر اہم ہے، وہ شہر میں غیرقانونی رکشوں کی بہتات کا ہے۔ مینگورہ میں ایک اندازہ کے مطابق دس ہزار سے زاید ٹو اسٹروک رکشے محوِ گردش ہیں۔ ان میں بہت سے رکشے یا تو دوسرے اضلاع میں رجسٹرڈ شدہ ہیں اور یا ان کے کاغذات ہی نہیں ہیں، یوں ان کے مالکان بھی نان کسٹم پیڈ والے قانون سے مستفید ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹو اسٹروک رکشوں پر پورے ملک میں پابندی عاید کردی ہے لیکن سوات میں شاید اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، اس لیے ان غیرقانونی اور مضرِ صحت رکشوں کے خلاف جب بھی کوئی مہم شروع کی جاتی ہے، تو اسے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاتا۔ اب اخبارات کے ذریعے معلوم ہواہے کہ ان رکشوں کے خلاف شروع کیا جانے والا حالیہ آپریشن سیاسی دباؤ کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ اگر واقعتا ایسا ہی ہے، تو یہ نہایت افسوس ناک بات ہے۔ مقامی ایم پی اے فضل حکیم صاحب کو دس ہزار لوگوں کے روزگار کی فکر تو ہے لیکن لاکھوں لوگوں کی صحت و سلامتی سے کوئی غرض نہیں۔ یہ رکشے ایک تو مینگورہ میں ٹریفک جام اور حادثوں کا سبب ہیں۔ دوسرا ان کے شور کی وجہ سے انسانی اعصاب اور ذہن پر نہایت مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان رکشوں کے سائیلنسروں سے جو آلودگی خارج ہوتی ہے، اس نے شہر بھر کی فضا میں زہر پھیلا دیاہے۔ مقامی انتظامیہ کو کسی بھی سیاسی مداخلت کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے اور ان ٹو اسٹروک رکشوں کے خلاف مؤثر اور حتمی آپریشن کرنا چاہیے کہ یہ قانون کا بھی تقاضا ہے اور اہل شہر کی صحت و سلامتی کا مسئلہ بھی ہے۔ ان ٹو اسٹروک رکشوں کی بہ جائے اگر فور سٹروک رکشوں کو رواج دیا جائے، تو بے روزگاری کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوگا اور شہر کو شور اور آلودگی سے بھی نجات مل جائے گی۔
مقامی انتظامیہ اور بلدیہ مینگورہ جہاں شہر کو ہتھ ریڑھیوں اور ناجایز تجاوزات سے نجات دلا رہے ہیں، وہاں انھیں اہل شہر کو غیرقانونی رکشوں، اندرون شہر سبزی منڈی اور جنرل بس اسٹینڈ سے بھی نجات دلانی چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی شہری کی مشکلات اور صحت و سلامتی کے حوالہ سے غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور ایسے معاملوں میں سیاسی مداخلت کو ذرا بھی اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ چند ہزار لوگوں کے روزگار کے لیے لاکھوں شہریوں کی صحت و سلامتی کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔
656 total views, no views today


