سیاحوں کی جنت ’’سوات‘‘ کے ماتھے کا جھومر ’’وادئ کالام‘‘ حکم رانوں کی عدم توجہی سے آج کل مسایلستان ہے۔ صحت، تعلیم اور زراعت کی بہتری کے دعوے حکومتی کاغذات تک محدود ہیں جب کہ سیاحت کے فروغ کے دعوے اور وعدے اعلانات تک۔
دہشت گردی، فوجی آپریشن اور 2010ء کے سیلاب نے علاقہ کی سیاحت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ وادی کی اہم شاہ راہ بحرین تا کالام روڈ موہن جوداڑو (آثار قدیمہ) کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ عالمی امدادی اداروں، ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، دیگر عالمی اداروں میں یو ایس ایڈ اور یو اے ای نے سیلاب اور دہشت گردی سے متاثرہ انفرا اسٹرکچر کی بہ حالی کے لیے اربوں ڈالرز دیئے ہیں، لیکن اس کے باوجود سوات کالام کی سڑکیں تعمیر نہ ہوسکیں۔
باہر سے آنے والے اربوں ڈالرز کہاں گئے؟ اس اہم سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
بحرین سے کالام تک چھتیس کلومیٹر سڑک 2010ء کے سیلاب میں مکمل طور پر دریا برد ہوچکی ہے۔ سابقہ صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کالام کا دورہ کرکے پاک فوج کو مذکورہ روڈ کی بہ حالی کے لیے دو کروڑ روپے ریلیز کیے تھے۔ پاک فوج کے تعاون سے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک مہینہ کے اندر فو بائی فور ٹریفک کے لیے اس سڑک کو بہ حال کیا۔ بعد میں پاک فوج کے ایف ڈبلیو او محکمہ نے بحرین تا کالام روڈ کی توسیع کرکے اسے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بہ حال کیا، لیکن 2010ء سے لے کر تا حال پانچ سال گزرنے کے باوجود کالام روڈ تعمیر نہ ہوسکی۔ بحرین تا کالام (چھتیس کلومیٹر) تیس منٹ کی مسافت تین گھنٹوں میں طے کرنا پڑتی ہے۔
سترہ اگست 2010ء کو سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی، وفاقی و صوبائی وزراء کے ہم راہ کالام کا دورہ کیا۔ انھوں نے مقامی مشران اور معززین سے اپنے خطاب میں کالام روڈ، بجلی، ٹیلی فون سمیت دیگر مسایل کو ایک مہینہ کے اندر حل کرنے کا وعدہ کیا، آج تک دو حکومتیں تبدیل ہوگئیں لیکن وعدے تا حال وعدے ہی ہیں۔
جون 2013ء میں ایس آر ایس پی پراجیکٹ کے دو پن بجلی گھروں کے تعمیری کام کے افتتاح کے لیے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک، جہانگیر ترین اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے کالام میں افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
اس موقع پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وادئ کالام، پاکستان کا ایک خوب صورت ترین سیاحتی علاقہ ہے۔ صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے اس علاقہ میں خصوصی دل چسپی لے گی۔ انھوں نے کالام روڈ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کالام کے شاہی گراؤنڈ میں بین الاقوامی میچز کے لیے کرکٹ گراؤنڈ بنانے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس موقعہ پر کالام اسپتال کے لیے ایک مہینہ کے اندر ڈاکٹر، ادویہ اور دیگر اسٹاف کی فراہمی اور کالام روڈ کو بین الاقوامی طرز کی شاہ راہ بنانے اور سیاحت کے فروغ کے لیے مزید اقدام کرنے سمیت سیلاب سے متاثرہ ہوٹل انڈسٹری کو گراؤنڈ دینے کے مختلف اعلانات کیے، لیکن تبدیلی کے دعویداروں نے آج تک اپنے ایک اعلان کو بھی عملی جامہ نہیں پہنایا۔
وادئ کالام سوات کے بالائی علاقے سطح سمندر سے سات ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع روئے زمین پر جنت کے ٹکڑے ہیں۔ ریاستی دور میں والئی سوات نے اس علاقہ میں روڈ، اسکول، سول ڈسپنسری، پولیس اسٹیشن اور تحصیل دار دفاتر بنائے تھے۔ اس کے علاوہ والئی سوات نے وادئ کالام کے بالائی علاقوں مہوڈنڈ جھیل تک روڈ، دوسرے سائیڈ گبرال تک روڈ اور ٹیلی فون کی سہولت بہم پہنچائی تھی۔ ریاست کے ادغام کے بعد آج تک وادئ کالام میں والئی سوات دور کے بنائے ہوئے اسکول،بی ایچ یو، ٹیلی فون ایکسچینج، تحصیل دار دفاتر، پولیس اسٹیشن اہل کالام کی بھرپور خدمت کرنے کے بعد اب اپنی خستہ حالی کا رونا رو رہے ہیں۔ کئی اسکولوں کی دیواریں خستہ حال ہونے کے باعث کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔ یوں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ لاحق ہے۔
وادئ کالام میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک مختلف ادوار کی حکومتوں کی اعلیٰ شخصیات نے کالام کے دورے کرکے علاقہ کی تعمیر و ترقی اور سیاحت کے فروغ کے لیے اعلانات کیے ہیں۔ ان میں سابقہ وزیراعظم پاکستان چیئرمین پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران میں کالام کا دورہ کیا تھا۔ اُس وقت ان کے ہم راہ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو بھی موجود تھیں۔ اُس وقت ان کی عمر تقریباً دس سال تھی۔ انھوں نے سابق صدر مملکت فاروق احمد خان لغاری، موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف، انجینئر شوکت اللہ، آفتاب احمد خان شیر پاؤ، موجودہ گورنر سردار مہتاب عباسی، چیئرمین سینٹ وسیم سجاد، مولانا طاہر القادری سمیت اعلیٰ حکومتی، سیاسی و عسکری شخصیات نے اس اہم وادی کے دورے کیے ہیں اور واپس بھی گئے ہیں۔ لیکن بعد میں کسی کو اس طرف نظر کرم کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی۔
2010ء کے سوات میں قیام امن کے بعد پاک فوج نے کالام میں ’’امن فیسٹیول‘‘ ہر سال منعقد کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ اس بہانے علاقہ کی سیاحت کی بہ حالی اور مقامی لوگوں کی معیشت بھی بہ حال ہوجائے گی، لیکن 2010ء سے 2014ء تک ہر سال فیسٹیول کا انعقاد ہورہا ہے جس پر کروڑوں روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے اور فیسٹیول کے دوران میں اعلیٰ حکومتی اور عسکری شخصیات آکر سیاحت کے فروغ اور کالام روڈ کی تعمیر کے ’’اعلانات‘‘ کرکے واپس چلے جاتے ہیں، جو اعلانات ہی رہتے ہیں، ان پر آگے عملی کام دوربین سے بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
قارئین، اگر کروڑوں روپے ’’فیسٹیول‘‘ کی بہ جائے کالام روڈ کی تعمیر پر خرچ کیے جائیں، تو کالام کی سیاحت خود بہ خود بہ حال ہوجائے گی۔ کالام کی بدنصیبی کا حال دیکھیے کہ ڈیڑھ لاکھ آبادی کے لیے قایم واحد اسپتال گزشتہ پانچ سالوں سے انچارج ڈاکٹر کے بغیر چل رہا ہے۔ مذکورہ اسپتال صرف ایک عام ڈسپنسر کے رحم کرم پر چل رہا ہے۔ اس ساینسی دور میں بھی مذکورہ اسپتال میں ادویہ کا نام و نشان تک نہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں ادویہ باہر دکانوں سے لینا پڑتی ہیں۔ ایسے میں ’’صحت کا انصاف‘‘، ’’صحت کا اتحاد‘‘ جیسے نعرے اور دعوے حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
اس کے علاوہ کالام کے اسکولوں میں عرصۂ دراز سے اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی اسکول بھوت بنگلوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ جب کہ ہائی، ہائیر سیکنڈری اسکول گزشتہ دس سالوں سے بغیر پرنسپل کے چل رہا ہے۔ ساینس سمیت کئی اہم مضامین کے اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔
یہ ہی نہیں، کالام کے ڈیجیٹل ٹیلی فون ایکسچینج بھی کئی سالوں سے بند پڑے ہیں۔ کروڑوں مالیت کی جدید مشینریاں زنگ آلود ہوکر تباہ ہورہی ہیں۔ ٹیلی فون ایکسچینج کی بندش سے یہاں کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
قارئین، حرف آخر کے طور پر یہی کہنا چاہوں گا کہ حکومت اس اہم سیاحتی زون کو روڈ و دیگر سہولیات فراہم کرے۔ اس سے نہ صرف معیشت کی ترقی ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور حکومت کو اربوں روپے کا فایدہ بھی ہوگا۔
ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
646 total views, no views today


