سوات کے حسین اور دل فریب نظارے قدرت کی طرف سے یہاں کے بسنے والوں کے لیے ایک اَن مول تحفہ تھے۔ ان کی بہ دولت ریاست سوات باقی ماندہ دنیا میں اپنا ایک الگ مقام رکھتی تھی۔ برف کی سفید چادر اوڑھے پہاڑ، گھنے جنگل اور قدرتی چشموں سمیت دیگر حسین نظارے انسان کو پر سکون رکھنے کے لیے کافی تھے۔ دورِ جدید میں جہاں ایک طرف انسان کی زندگی تھکاوٹ سے بھرپور ہے، تو دوسری طرف قدرت نے اسے پُرسکون رکھنے کے لیے محولہ بالا نظاروں سے نوازا ہے۔ ان حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے لاکھوں مقامی و غیر مقامی سیاح ’’ماضئی قریب‘‘ میں اس جنت نظیر وادی کا رخ کیا کرتے تھے۔
قارئین کرام! عام طور پر سوات کو ’’مشرق کا سویٹزر لینڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ قدرت نے حسین نظاروں اور خوب صورتی میں سوات اور سویٹززلینڈ کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا تھا مگر یہ حقیقت ہے کہ سوٹیزرلینڈ کے مقابلہ میں آج کا سوات ’’آثار قدیمہ کے کھنڈرات‘‘ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہاں کے ’’خاص انسانوں‘‘ نے قدرت کے عطا کردہ نعمتوں کی بالکل قدر نہیں کی۔
اس جدید دور میں جہاں انسان زمین سے چاند تک پہنچ چکا ہے، نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں، انسان کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے طرح طرح کے تجربات ہو رہے ہیں، ہر نئی ایجاد اور تجربہ کے پیچھے یہی اصلیت کارفرما ہوتی ہے کہ اس سے انسان کو کیا فواید حاصل ہوں گے مگر ہمارے پیارے پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں کے ہر خاص و عام کو گندی سیاست کی ڈگڈگی بجا کر گویا بندر کی طرح نچایا جا رہا ہے۔ اور سیاست بھی ایسی کہ جس میں ترقی کی بہ جائے ’’مٹھی بھر‘‘ لوگوں کے مفاد پورا ہوتے ہیں۔ یہاں بسنے والے عام انسانوں کی زندگی آسان بنانے کی خاطر نہیں بلکہ اپنی جیبیں گرمانے کی خاطر سیاست کی جاتی ہے۔
قارئین کرام! مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہو رہی کہ ریاستی دور گزرنے کے بعد ایک طرح سے سوات کی بدقسمتی کا آغاز ہوچکا ہے، جو تاحال پورے زور و شور سے جاری ہے۔ ریاستی دور میں ہر خاص و عام ’’سیاست‘‘ کی لعنت سے دور پاک و صاف زندگی گزارتا تھا۔ سب کو یکساں سہولیات حاصل تھیں۔ قانون سب کے لیے برابر تھا۔ غرض ریاستی دور میں سوات کی اپنی ایک جداگانہ حیثیت تھی مگر ادغام کے بعد وادئ سوات ’’سیاست‘‘ کی نذر ہوگئی اور آج ہم زندگی کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جس میں ہمارا نہ تو کوئی مسئلہ حل ہو رہا ہے اور نہ عام لوگوں کو بنیادی ضروریات ہی مہیا ہیں۔
دیگر بڑے مسایل کی طرح سوات کی سڑکیں بھی ایک نہ حل ہونے والے عقدہ کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ پوری دنیا میں اپنے قدرتی اور حسین نظاروں کی وجہ سے مشہور وادئ سوا ت کی سڑکیں ریاستی دور میں بنائی گئیں جنھیں تاحال استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اب بھی سوات کے حسین نظاروں کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے لوگ آنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے کہ مخدوش حالات کے بعد ان میں ’’خاطر خواہ‘‘ کمی آچکی ہے مگر پھر بھی باہر کے ملکوں سے نہ سہی اپنے ہی ملک کے دیگر حصوں سے سیاح گاہے بہ گاہے سوات کا رخ کرتے رہتے ہیں۔
اس طرح اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سوات کی معیشت میں ’’سیاحت‘‘ ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ اس شعبہ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، مگر یہ شعبہ حکومتی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ سڑکوں کی خراب حالت اور دیگر مسایل کی وجہ سے سیاحت کے شعبہ سے وابستہ ہزاروں لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ واحد ’’ہوائی اڈہ‘‘ (سیدو شریف ائیر پورٹ) جو سوات کی تباہ حال معیشت کو بہ حال کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، بھی گزشتہ دس سالوں سے بند پڑا ہے۔ تمام سیاحتی علاقوں کی سڑکیں کھنڈرات کی شکل اختیار کرچکی ہیں جس کا بہ راہ راست اثر سیاحت پر پڑ رہا ہے۔ ان کھنڈرنما سڑکوں کی تعمیر کے وعدے ہم کئی برسوں سے سنتے چلے آرہے ہیں جس میں کئی حکومتیں بھی تبدل ہوگئیں مگر تاحال ان سڑکوں کی حالت نہیں بدلی۔ ان خراب سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد شاید ہی کوئی پاگل دوبارہ آنے کی زحمت گوارا کرے۔
سیدو شریف ائیرپورٹ جو سوات میں سیاحت کی بہ حالی میں اہم کردار کا حامل ہے، گزشتہ دس سالوں سے بند پڑا ہے۔ اس کو کھولنے کے لیے اقدامات کرنے کی توفیق تاحال کسی سیاست دان کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس طرح سڑکوں کی تعمیر پر بھی سیاست جاری ہے۔ اگر کوئی حکومتی نمایندہ کسی سیاحتی علاقہ کی سڑک کی تعمیر کا اعلان کرتا ہے، تو شانگلہ سے تعلق رکھنے والاوزیر اعظم کا مشیر انجینئر امیرمقام دوسرے دن اس سڑک کی تعمیر کافیتہ کاٹ دیتا ہے جس کے بعد سڑک کی تعمیر’’ اعلان‘‘ اور ’’فیتہ‘‘ کاٹنے کے عمل میں کہیں کھو کر رہ جاتی ہے۔
سوات میں سیاحت کی بہ حالی کے لیے صوبائی حکومت کی طرف سے کچھ اقدامات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے صوبائی حکومت نے بیرون ملک کی ایک مشہور کمپنی سے ملم جبہ ہوٹل کی تعمیر، اسکینگ ریزارٹ اور چیئر لفٹ کی تنصیب کے حوالہ سے معاہدہ کیا تھا۔ اس کو مقامی لوگ سیاست سے بالاتر قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اگر یہ معاہدہ پایۂ تکمیل تک پہنچا، تو اس سے سوات میں سیاحت کچھ حد تک بہ حال ہوجائے گی۔ اگرصوبائی حکومت اس کے ساتھ دیگر سیاحتی علاقوں کی سڑکوں کی تعمیر اور ان علاقوں کو اعلیٰ سہولیات دینے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچے، تو قدرت کے ان حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے پوری دنیا سے لوگ سوات دیکھنے ایک بار پھر امنڈ آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ دس سال سے بند سیدو شریف ائیرپورٹ کو بھی اگر کھولاگیا، تو یہ ’’نور علی نور‘‘ والی بات ہوجائے گی۔
اگر صوبائی حکومت ایسا کرنے میں کام یاب ہوئی، تو پھر یہاں کی تباہ حال معیشت اور سیاحت بھی بہ حال ہوجائے گی اور حکومت کی ساکھ بھی۔
699 total views, no views today


