قارئین کرام! پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد صوبہ کے دیگر علاقوں کی طرح وادئ سوات میں سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں کی سیکورٹی کے لیے حکومت نے انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’’فل پروف سیکورٹی‘‘ دینے کا کہا گیا لیکن پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے اپنی ذمہ داری اب قوم کے معماروں پر ڈالنے کی کوشش میں جتھے نظر آرہے ہیں۔ معلومات کے مطابق گزشتہ چارمہینوں میں ضلع سوات کے ’’جواں مرد‘‘ پولیس اہل کاروں نے قوم کے سنتالیس معماروں پر سیکورٹی کے خاص انتظامات نہ کرنے کا الزام لگا کر اُن کے خلاف رپورٹیں درج کرائی ہیں اور انھیں گرفتار کرکے، ہتھکڑیاں لگا کر مختلف عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔
قارئین کرام! اس میں دو رائے نہیں کہ پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے اپنا بوجھ اساتذہ کے کاندھوں پر ڈالنے کی کوشش میں ہیں۔ کیا مہذب قوموں میں ’’سیکورٹی‘‘ کے نام پر اساتذہ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کی کوئی خبر ریکارڈ پر ہے، ان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے؟ اگر کسی کو پتا ہو، تو راقم کو بتا دیا جائے، کیوں کہ اب تک ایسا کوئی واقعہ میرے ناقص علم میں نہیں ہے۔ کیا یہ سلسلہ تعلیم عام کرنے کے حق میں ہے؟ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت، پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے صوبہ میں بالعموم اور سوات میں بالخصوص تعلیم کو ختم کرنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
قارئین کرام! مجھے بتایا جائے کہ کیا ایک اُستاد بچوں کو پڑھائے گا یا وہ ہاتھوں میں بندوق لے کر سیکورٹی گارڈ کی ڈیو ٹی سرانجام دے گا؟ سوات کے ’’جواں مرد‘‘ پولیس اہل کار اپنے اعلیٰ افسران کو کارکردگی دکھانے کے لیے قوم کے معماروں کی تذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں، لیکن ان سطور کے ذریعے میں افسران بالا پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آپ روز اول سے اسی طرح افسر بن کے نہیں آئے تھے بلکہ آپ کی کامیابی کے پیچھے بھی ایک استاد ہی کا ہاتھ ہے، جسے اب آپ کے اہل کار ہتھکڑیاں لگا کر ذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب تو آپ صاحبان اختیارات کے نشہ میں مست ہیں لیکن آنے والی نسلیں اگر اس عمل سے جاہلیت کی طرف گئیں، تو وہ آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ کیوں کہ جو قوم اپنے اُستاد کی عزت نہیں کرتی، وہ زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہوکر رہ جاتی ہے۔
قارئین کرام! اگر سوات کے پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے، ’’سیکورٹی‘‘ کے نام پر اساتذہ پر اپنی ’’جواں مردی‘‘ کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں، تو اس دن کو یاد کیا جائے، جب اخبارات میں ندیدہ قوتوں کے ہاتھوں موت کے ڈر سے نوکریاں چھوڑنے کے اشتہارات چھاپی جاتی تھیں۔ہمارا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ سوات کے پولیس یا دیگر سیکورٹی اداروں جنھوں نے امن کی خاطر قربانی بھی دی ہے، ان کی تحقیر کی جائے، لیکن جس طرح اساتذہ کے خلاف رپورٹ درج کرنے میں ’’جواں مردی‘‘ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اسی طرح اگر سوات میں کشیدہ حالت میں کیا جاتا، تو سواتی قوم کو اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔
قارئین کرام! اب جب سوات میں امن آیا ہے، تو یہ ’’جواں مرد‘‘ سیکورٹی کے نام پر معماران قوم پر ٹوٹ پڑے ہیں اور دھڑا دھڑان کے خلاف رپورٹیں درج کر رہے ہیں۔ اس میں پولیس اہل کاروں کی کوتاہی کے ساتھ ساتھ اصل ذمہ دار ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع سوات کے اعلیٰ پولیس افسران بہ شمول انتظامیہ ہے۔ کیا پولیس اہل کاروں سے یہ تک نہیں کہا جاسکتا کہ معماران قوم کے ساتھ آپ کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس حوالہ سے ہم نے مذکورہ افسران صاحبان کا کوئی بیان دیکھا ہے اور نہ کوئی تحریری احکامات۔ تبدیلی کی دعویدار حکومت کے وہ دعوے کہا ں گئے جس میں وہ تعلیم کو عام کرنے کے حوالہ سے بلند بانگ دعوے کرتی رہتی تھی؟ سیکورٹی اداروں کے اقدام سے تو یہ لگتا ہے کہ تعلیم کو عام کرنے کی بہ جائے اسے ختم کرنے کی راہ ہم وار کی جا رہی ہے۔ کیا یہ تبدیلی ہے کہ اب پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کا کام معماران قوم نمٹائیں گے؟
قارئین کرام! یہ سطور لکھتے وقت سوات پولیس کی ’’جواں مردی‘‘ کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ سوات کے اسکولوں کی سیکورٹی کے لیے اسکولوں کو پندرہ دن کی ڈیڈلاین دی گئی تھی لیکن مینگورہ پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او امیر بہادر نے افسران کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے اتنی جلدی کی کہ ڈیڈ لاین میں ٹایم ہونے کے باوجود گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر چار ملابابا کے ہیڈ ماسٹراسرار الدین کے خلاف ٹایم ختم ہونے سے پہلے رپورٹ درج کرائی اور دیگر اساتذہ سمیت اُن کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا، جہاں پر گرفتار ہیڈ ماسٹر صاحب نے جج صاحب کو نشان دہی کی کہ ٹایم ختم ہونے سے پہلے موصوف نے میرے خلاف رپورٹ درج کی ہے۔ عدالت نے اس عمل پر برہمی کا اظہار کرکے پولیس اہل کار کو اپنا ریکارڈ ٹھیک کرانے کا کہا، تو موصوف نے تاریخ مٹا کر دوسری تاریخ رقم کر دی جس کے بعد مذکورہ ہیڈ ماسٹرنے اہل کار کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ عدالت میں داخل کرادیا۔ اب سننے میں یہ آرہا ہے کہ سوات پولیس کے اعلیٰ افسران نہتے ہیڈ ماسٹر صاحب پر کیس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ شاباش ہیڈ ماسٹر صاحب، آپ ہی جیسے لوگوں کے لیے قتیلؔ شفائی کہہ گئے ہیں کہ
دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
قارئین کرام! کچھ دن قبل میں تحصیل چار باغ کے ایک گرلز مڈل اسکول میں کسی کام کی غرض سے گیا تھا۔ جب میں اسکول میں داخل ہوا، تو گیٹ پر ایک خاتون ٹیچر کھڑی نظر آئی۔ میں نے ہیڈ مسٹرس سے پو چھا کہ یہ اُستانی گیٹ پر کیا کر رہی ہے، یہ بچوں کو پڑھاکیوں نہیں رہی؟ تو انھوں نے عجیب جوا ب دیا کہ ’’ہمارے پاس سیکورٹی گارڈ نہیں ہے، اس لیے یہ اُستانی سیکورٹی گارڈ کی ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہے۔ اگر ہم اس طرح نہیں کریں گے، تو پھر ہمارے خلاف رپورٹ کی جائے گی۔ اس لیے ہم نے استانی صاحبہ کو بچوں کی تلاشی پر لگا دیا ہے۔‘‘ مجھے اپنے آپ سے گھن آنے لگی کہ بہ حیثیت قوم اب ہم اتنے بے حس ہوگئے کہ اب استانیاں سیکورٹی اداروں کا بوجھ اٹھائے پھریں گی؟
واقعی تبدیلی آنہیں رہی بلکہ تبدیلی آچکی ہے۔ اگر یہی تبدیلی ہے، اور یہی ’’نیا پاکستان‘‘ ہے، تو اس سے وہ پرانا پاکستان ہزار درجہ بہتر ہے۔ اس موقعہ پر مجھے اپنے ایک قابل احترام دوست اور معروف لکھاری امجد علی سحابؔ کی ایک بے باک تحریر یاد آئی جس میں وہ رقم طراز ہیں کہ ’’ہم بلڈی سویلین ہیں۔‘‘ ان کی بات سولہ آنے ٹھیک ہے۔
قارئین کرام! حاصل نشست یہی ہے کہ ایک معمارِ قوم کا کام نونہالان وطن کی تعلیم و تربیت ہے اور پولیس سمیت تمام سیکورٹی اداروں کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا۔ اب اگر معماران قوم کے ہاتھ میں بندوق تھمائی جا رہی ہے، تو سیکورٹی پر مامور اہل کار قلم اٹھا کر نونہالان وطن کی تربیت کا بیڑا اٹھائیں۔ ’’اخون لہ خو پئی دی۔‘‘
738 total views, no views today


