ایک اخباری اطلاع کے مطابق نواز شریف صاحب منگلور میں قایم نئے کڈنی اسپتال کے افتتاح کے لیے رواں مہینہ تشریف لارہے ہیں۔ ساتھ ہی کئی اور ترقیاتی منصوبوں کا بھی اعلان کریں گے۔ ہم وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو سوات تشریف لانے اور خاص کر منگلور کی سرزمین پر قدم رکھنے کو ایک خوش آیند اقدام سمجھتے ہیں اور انھیں خوش آمدید بھی کہتے ہیں۔ ہم تو بار بار یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ پنجاب میں ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کافی ہیں۔ وہ پنجاب نہیں بلکہ وزیر اعظم پاکستان بن کر تمام پاکستان کو ترقی کے حوالہ سے یکساں مواقع فراہم کریں۔ سوات میں ان کی آمد کو عام طور پر اور منگلور میں خاص طور پر نیک شگون سمجھا جائے گا۔ ہم اس کالم کے ذریعے ان کے دورہ کے حوالہ سے مسلم لیگ کی مقامی قیادت خاص کر محترم امیر مقام کی خدمت میں چند ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گزارشات منگلور کے غریب عوام کے دیرینہ مطالبات بھی ہیں اور خواہشات بھی، اُمید ہے کہ اس نادر اور نایاب موقع پر اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
1:۔ سب سے پہلے اہم اورضروری بات یہ ہے کہ یہ اسپتال منگلور عوام کے ’’دوتر‘‘ یعنی جائیداد پر بنایا گیا ہے۔ یہاں والئی سوات کے زمانہ سے ایک تاریخی اور اہم سول اسپتال پوری آن بان اور ایک الگ شان سے قایم تھا جو کہ ایک تاریخی ورثہ بھی تھا۔ اسے ہرگز ڈھانا نہیں چاہیے تھا لیکن وقت کے جبر اور اس وقت کی ناعاقبت اندیش قیادت کے غلط فیصلوں نے اس تاریخی ورثہ کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک قسم کی عظیم قربانی تھی جو منگلور کے عوام نے دی ہے۔ لہٰذا موجودہ ’’نواز شریف کڈنی اسپتال‘‘ کو موضع منگلور سے منسوب کیا جائے۔ اس کے بورڈ اور تختہ پر نواز شریف کے نام کے ساتھ لفظ ’’منگلور‘‘کا اضافہ کیا جائے اور اسی نام سے اسے لکھا اور پڑھا جائے۔ اسپتال کی تمام تاریخی دستاویزات، متعلقہ کاغذات، خط و کتابت وغیرہ اس (’’نواز شریف کڈنی اسپتال، منگلور‘‘) کے ذریعے کی جائے۔ واضح رہے کہ منگلور کے عوام کوئی دوسرا نام تسلیم کریں گے، نہ مانیں گے۔ ہم ’’نواز شریف‘‘نام کی نفی نہیں کرتے، اگر ان کی کوششوں سے یہ اسپتال بنا ہے، تو ان کا یہ حق بنتا ہے کہ اسے نواز شریف کے نام سے یاد کیا جائے لیکن منگلور کے عوام اپنے گاؤں، اپنی جائیداد، اپنی حدود اور اپنے نام سے کسی بھی حالت میں دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔
2:۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ کڈنی اسپتال کی تعمیر کو علاقہ کے عوام تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ پورے سوات بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے لیے صحت کے حوالہ سے ایک مرکز بن جائے گا۔ منگلور کے غیور عوام وزیراعظم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ کڈنی اسپتال کے ساتھ ہی ایک عظیم الشان ’’سول اسپتال‘‘ کا اعلان فرمائیں گے۔ علاقہ کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ اور خواہش اس صورت میں پوری ہو جائے گی کہ والئی سوات کے زمانہ کے تاریخی سول اسپتال کی کمی پورا ہوجائے گی اور ساتھ ہی سیدو شریف میں اسپتالوں پرلوڈ کم ہوجائے گا۔ وہاں کا بے انتہا رش کم ہوجائے گا اور یوں منگلور کا علاقہ صحت کے حوالہ سے سوات کا دوسرا بڑا مرکز گردانا جائے گا۔
3:۔ نواز شریف کڈنی اسپتال منگلور کے حوالہ سے علاقہ کے عوام کا تیسرا اور اہم مطالبہ یہ ہے کہ چوں کہ یہ اسپتال منگلور عوام کی زمین اور جائیداد پرتعمیر ہوا ہے۔ لہٰذا اس میں تمام پوسٹوں پر سب سے پہلے اس علاقہ کے عوام کا حق ہے۔ ان کے لیے درکار نرسوں، میل نرسوں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور کلاس فور ملازمین کو یہاں سے لیا جائے۔ ڈرائیور، چوکی دار، چپڑاسی، سیکورٹی اسٹاف یہاں تک کہ ٹی بوائے کی نشست پر بھی یہاں کے غریب عوام کا حق ہے۔ متعلقہ ڈاکٹروں کی تلاش بھی پہلے یہاں کی جائے، اگر کوئی موزوں ڈاکٹر نہ ملے، تو پھر انھیں باہر سے لیاجائے۔ یہاں کے عوام سے میری مراد یہ ہے کہ لیا جانے والا شخص یہاں کا باشندہ ہو، لیکن میرٹ پر پورا اترتا ہو۔ ہم میرٹ کی دھجیاں نہیں اڑانا چاہتے، لیکن ساتھ ساتھ یہاں کے عوام وہ بے انصافی بھی برداشت نہیں کریں گے کہ کسی پوسٹ کے لیے ایک اہل باشندہ موجود ہو اور کسی وزیر، مشیر کی سفارش پر یا با رسوخ ذرایع سے باہر سے کسی نااہل بندے کو بھرتی کرکے اسے پیراشوٹ کے ذریعے اتارا جائے۔عوام اب باشعور ہوچکے ہیں اور وہ کسی بھی حال میں اپنے حقوق غصب نہیں ہونے دیں گے۔ ایسی کسی صورت حال میں عوام کسی بھی سیاسی پارٹی کا لحاظ نہیں کریں گے اور کسی بھی قیمت پر اپنے حقوق پر سودا بازی نہیں کریں گے۔
4:۔ چوتھی اور آخری بات یہ ہے کہ مقامی لیگی قیادت محترم وزیراعظم صاحب کو منگلور کڈنی اسپتال تک بائی روڈ لے کر آئے، تاکہ وزیراعظم صاحب کو یہاں کی سڑکوں کی صورت حال سے آگاہی حاصل ہوجائے۔ کوئی بھی ترقی ہو، وہ نقل و حمل کے بغیر بے کار ہے۔ کسی بھی جگہ تک رسائی سڑکوں کے بغیر ممکن نہیں۔ سوات جیسے خوب صورت اور صحت افزاء مقام کے ساتھ ایک عرصہ سے ذرایع نقل و حمل کے نام پر ایک بے ہودہ مذاق ہو رہا ہے۔ سڑکیں بن رہی ہیں مگر ایک دو مہینے کے بعد پھر وہ کھنڈروں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ یہاں راستوں اور سڑکوں کے حوالہ سے دیرپا، مضبوط اور بین الاقوامی معیار پر اہم پراجیکٹوں کے اعلان کی ضرورت ہے۔ تاکہ یہاں کی ایک اہم صنعت ’’سیاحت‘‘ کو فروغ حاصل ہوجائے۔
سوات میں ہر حوالہ سے ترقی کی ضرورت ہے۔ یہ خطہ جتنا آگے تھا، اتنا پیچھے رہ گیا ہے۔ یہاں تعلیمی درس گاہوں کو بنانے کی ضرورت ہے۔ سوات میں خواتین کے لیے ایک علاحدہ یونی ورسٹی کے قیام کی اکثر ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اسپتالوں کی کمی ہے۔ بے روزگاری دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ صحت مند اور صاف پانی دست یاب نہیں ہے، جو عوام کی صحت اور تن درستی کے لیے ضروری ہے۔ سوات کے نالے، دریا اور خوڑ اب پانی کے خوب صورت ذرایع کی بہ جائے گندگی کے ڈھیر بن چکے ہیں۔ سوات کی خوب صورت وادی کے لیے ان نالوں، دریاؤں اور خوڑوں کی صفائی اب ناگزیر ہوچکی ہے۔
اس طرح یہاں کے دانش وروں، ادیبوں اور شاعروں نے سوات کے تاریک، دردناک خطرناک اور ہیبت ناک دور میں علم، اُمید اور حقیقت کے دیئے اپنے لہو سے روشن کیے ہیں اور بلاشبہ سوات کا امن ان دانش وروں اور ادیبوں کے دم قدم سے ہے۔ لہٰذا حکومتی فرایض میں یہ شامل ہے کہ وہ ان کی مختلف حوالوں اور ذرایع سے حوصلہ افزائی کرے۔
588 total views, no views today


