کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں میں بہت برداشت ہے جو الطاف حسین کی لمبی تقریریں سن لیتے ہیں۔ کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی پوری تقریر سنی، کراچی کے شہریوں میں بہت برداشت ہے
کہ وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی لمبی لمبی تقریریں سن لیتے ہیں، انہیں تو گزشتہ روز تقریر سن کر بھوک لگ گئی۔ انہوں نے کہا کہ این اے 246 میں ضمنی انتخاب کے موقع پر پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر رینجرز کی موجودگی سے بہت فرق پڑے گا، میچ کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کون جیتا اور کس کے ہاتھ شکست آئی، الطاف حسین کو پولنگ سے پہلے ہی کیسے نتیجے کا علم ہو گیا ایسا تو میچ فکسنگ میں ہوتا ہے۔
تحریک انصاف کے چیرمین نے کہا کہ 2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو این اے 246 سے زیادہ ووٹ ملے جب کہ جماعت اسلامی نے صرف 10 ہزار ووٹ لئے تھے، اس لیے خواہش تھی کہ جماعت اسلامی ہمارے امیدوار کی حمایت کرے لیکن جماعت اسلامی یہاں کی پرانی جماعت ہے، ہمارا اپنا فیصلہ تھا اور ہماری حمایت نہ کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا۔ این اے 246 کا ضمنی انتخاب کراچی کا مستقبل طے کرے گا اور کراچی کامستقبل پاکستان کے مستقبل کی راہ متعین کرے گا۔ تحریک انصاف کا جلسہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے لوگوں کوحوصلہ ملتا ہے، ہم ان کے لیے آئے ہیں جو چاہتے ہیں کہ کراچی عظیم شہر بنے، انہوں نے کہا کہ پاکستان بدل گیا ہے، لوگ اسٹیٹس کو سے تنگ آچکے ہیں، جماعت اسلامی کو سوچنا چاہیے وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، مسلم لیگ (ن) نے جماعت اسلامی کی حمایت کرکے اس کو نقصان پہنچایا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں شفاف الیکشن ہوں اور حقیقی عوامی نمائندے اسمبلیوں میں آئیں، 2013 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی جس کے خلاف تحریک انصاف اکیلی سڑکوں پر آئی لیکن جوڈیشل کمیشن کے سامنے 21 سیاسی جماعتوں نے دھاندلی سے متعلق شواہد پیش کئے۔
367 total views, no views today


