لاریب، وادئ سوات اپنے دل کش نظاروں، برف پوش چوٹیوں اور فرحت بخش آب شاروں کی وجہ سے نہ صرف ملک بھر میں مشہور ہے بلکہ بیرونِ ملک بھی اس کے ملکوتی حسن کے چرچے ہیں۔ یہاں سیاح سال کے بارہ مہینے آتے رہتے ہیں۔اس طرح یہاں کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، لیکن جب بھی کوئی شخص سارا سال محنت مزدوری کرنے کے بعد کسی جگہ کو سیر کے لیے چنتا ہے، تو سب سے پہلے وہاں کی سڑکوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرتا ہے۔ کیوں کہ ہر سیاحتی یا غیر سیاحتی علاقہ کا انحصار وہاں کی سڑکوں پر ہوتا ہے۔ اگر سڑکیں ٹھیک ہوں، تو لوگ خوشی خوشی وہاں کا رخ کرتے ہیں، بہ صورت دیگر کوئی اور جگہ ڈھونڈی جاتی ہے۔
قارئین کرام! ضلعی انتظامیہ نے گراسی گراؤنڈ مینگور ہ میں ’’تین روزہ سپرلے‘‘ کے نام سے ایک میلہ کا اہتمام کیا ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے کئی سال بعد پہلی بار اپنی طرف سے کسی میلہ کا انعقاد کیا ہے۔ کیوں کہ پہلی بار ہمیں یہاں کی لوکل انتظامیہ کے بااختیار ہونے کا احساس ہوا ہے۔ ماضی میں تو یہ میلے منعقد کرنا ’’اوروں‘‘ کی ذمہ داری تھی اور وہ ماشاء اللہ اپنے مخصوص لوگوں کے لیے ایسے میلوں کا انعقاد کیا کرتے تھے جس میں عام شخص کا داخلہ انتہائی مشکل ہوتا تھا۔ اب کی بار اس میلہ کا اہتمام لوکل انتظامیہ کر رہی ہے جو ایک اچھا اور قابل تحسین اقدام ہے۔
قارئین کرام! اب جو بھی لوگ اس میلے کو دیکھنے آ رہے ہیں، وہ کون سا روٹ استعمال کر رہے ہیں؟ کیوں کہ لنڈاکی سے لے کر مینگورہ، ملم جبہ اور کالام تک تو سڑک کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ کیا سوات میں سڑک نام کی کوئی چیز باقی ہے؟ (دریا پار والی سڑک کا ذکر نہ کیا جائے کہ بقول شخصے وہ خاص مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا روٹ ہے۔) کیا یہ وہی سوات ہے کہ جس کی حدود شروع ہوتے ہی لوگ سکون کی سانس لے لیتے تھے؟ نیز سیاحوں کو پتا چل جاتا تھا کہ ہم وادئ سوات کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں۔ اب بھی لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ سوات کی حدود شروع ہوگئی ہیں، مگر اب کی بار نوعیت مختلف ہے۔ جب گاڑی ہچکولے کھانا شروع کردیتی ہے، تو سوات کی حدود شروع ہوجاتی ہیں۔
قارئین کرام! ہم سب اس بات سے بہ خوبی آگاہ ہیں کہ اسی طرح کے درجنوں میلوں پر اب تک کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مذکورہ ’’ضایع شدہ‘‘ رقم سڑکوں پر خرچ ہوتی۔ اس قسم کے میلوں کے انعقاد سے چند منظور نظر افراد کو فایدہ پہنچتا ہے جب کہ سڑک ٹھیک کرنے سے لاکھوں عوام کا فایدہ ہے۔ میرا تو نہیں خیال کہ اس میلے سے بھی دیگر ’’میلوں‘‘ کی طرح سوات کے عام عوام کو کوئی خاص فایدہ ہونے والا ہے۔ کیوں کہ کوئی پاگل ہی ان کھنڈر نما سڑکوں پر اپنی گاڑی دوڑا کر اس کا کباڑا کرے گا۔
قارئین کرام! ہمیں ماننا ہوگا کہ ہماری فکر کسی کو نہیں ہے۔ ماضی میں بھی جو ’’میلے‘‘ منعقد کیے گئے ہیں، وہ صرف ’’دکھاوا‘‘ ہی تھے۔اب سول انتظامیہ نے بھی ’’وڑومبی غوایان خاتہ او ورستی ورتہ کاتہ‘‘ کے مصداق ایک بے معنی میلے کا انعقاد کیاہے۔ اگر واقعی کوئی سوات اور اس کے عوام کا بھلا چاہتا ہے، تو وہ سب سے پہلے یہاں کی سڑکوں کو بہ حال کرے۔ ہاں یہ ہے کہ اس میلے سے تبھی بھرپور انداز سے لطف اندوز ہوا جاسکتا تھا کہ کوئی ہیلی سروس کا اہتمام کیا جاتا اور سیاحوں کو ان کھنڈر نما سڑکوں پر آنے کی زحمت ہی نہ دی جاتی۔
قارئین کرام! ہم نے انھی صفحات میں بار بار سڑکوں کی خستہ حالی کی نشان دہی کی ہے، لیکن ممبران اسمبلی اور میلے ٹھیلے منعقد کرنے والی انتظامیہ اور ’’دیگر‘‘ ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنی عیاشیوں کے لیے بہ دستور سواتی قوم کے پیسوں کو ضایع کرنے کے مشن پر مامور رہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں کے افسران اور ممبران اسمبلی ان سڑکوں پر سفر ہی نہیں کرتے اور اگر ان کا گذر بھی ان سڑکوں سے ہو، تو وہ ایسی گاڑیوں میں بیٹھے ہوتے ہیں جس میں پانی سے بھر اگلاس بھی منزل مقصود تک بھرا ہی رہتا ہے اور اس ایک قطرہ پانی بھی نہیں چھلکتا۔ خراب سڑک کا حال تو اس غریب سے پو چھیے جب اس کا کوئی عزیز بیمار ہو اور مسیحا تک پہنچنے سے پہلے وہ اللہ میاں کے پاس پہنچتا ہے۔
قارئین کرام! آپ کو پتا ہوگا کہ انتظامیہ اور باقی اداروں کے اعلیٰ افسران جو اپنے اختیار ت کے نشہ میں مست ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں تو مکمل ناکام نظر آرہے ہیں۔ وہ ہر قت فنڈز نہ ہو نے کا رونا روتے ہیں لیکن جب بات میلے کی ہو، تو پھر ان افسران کے پاس بے پناہ فنڈز بھی ہو تے ہیں اور وسایل بھی۔ مجھے جواب دیا جائے کہ کیا ہمیں واقعی ایسے میلوں کی ضرورت ہے؟ اگر سواتی قوم کو سڑکوں سمیت باقی ماندہ ضروریات زندگی کا کوئی مسئلہ نہیں، تو بے شک لوگوں اس میلوں میں مصروف رکھا جائے۔ اور اگر اہل سوات کو اس قسم کی سرگرمیوں کا کوئی فایدہ نہیں، تو اے اہلِ سوات! پھر اپنی آواز بلند کریں اور اپنے حق کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔
قارئین کرام! آپ لوگوں نے کبھی دیکھا یا سنا ہے کہ انتظامیہ یا ممبران اسمبلی نے کسی سڑک پر کام کے دوران میں ناقص میڑیل استعمال کرنے پر ایکشن لیا ہو؟ سوات کی حدود لنڈاکے سے مینگور ہ تک سڑک کے ایک حصہ پر کام بھی جاری ہے جب کہ ناقص میڑیل استعمال کرنے پر دوسرا حصہ دوبارہ کھنڈرات میں بھی تبدیل ہوچکا ہے، اگر یہ ظلم بھی ان لوگوں کو نظر نہیں آتا، تو پھر ہم لوگ کیا کر سکتے ہیں؟ تبدیلی کے دعو یدار شاید ان سڑکوں پر سفر ہی نہیں کرتے اور یا اُن کو کم دکھائی دیتا ہے۔ ورنہ وہ کوئی ایکشن ضرور لیتے۔ان سارے مسایل میں ہم بھی بہ حیثیت قوم اپنی ذمہ دار پوری نہیں کرتے جس کے لیے یہاں پر میں انتہائی افسوس کے ساتھ ایک واقعہ ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانہ میں ایک ملک کے بادشاہ نے اپنے وزیروں کا اجلاس طلب کیا اور وزیروں سے بادشاہ سلامت نے کہا کہ میرے ملک میں مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، روزگار نہیں ہے لیکن اس ملک کے عوام نہ تو احتجاج کرتے ہیں اور نہ کوئی مطالبہ، تو اس قوم کے ساتھ کیا کیا جائے کہ یہ لوگ اپنے حق کے لیے کم از کم آواز تو اُٹھائیں۔ وزیروں نے مشورہ دیا کہ جب یہ لوگ اپنے کام کے لیے جاتے ہیں، تو ان کو دریا پر ایک پل عبور کرنا ہوتا ہے۔ ہم اس پل پر ایک سیکورٹی گارڈ لگا دیں گے اور اس کو کہا جائے گا کہ ہر گزرتے شخص کو صبح ایک ایک ڈنڈا مار دیا کرے۔ یوں لوگ تنگ ہوکر اپنے حق کے لیے احتجاج شروع کردیں گے۔ جب لوگوں کو اس عمل سے گزارا گیا، تو دوسرے روز لوگوں نے احتجاج شروع کردیا۔ باد شاہ سلامت انتہائی خوش ہوا کہ چلو، اب میرے عوام اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل تو ہوئے۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں سے کہا کہ سب کو اندر لے کے آجاؤ۔ جب لوگ بادشاہ سلامت کے سامنے پیش ہوئے، تو کہا گیا کہ پل پر صرف ایک ڈنڈا بردار کھڑا ہے۔ ہمیں اس پر ڈنڈا کھاتے وقت انتظار کے سخت مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس لیے براہ کرم ڈنڈا برداروں میں اضافہ کیا جائے۔بادشاہ یہ سنتے ہی اپنا سامنھ لے کر رہ گیا۔
قارئین کرام! ہم اہل سوات بالکل مذکورہ کہانی میں بیان شدہ عوام کی طرح نہیں ہیں۔ اگر کوئی اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہے، تو یہ اس کی غلطی ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
860 total views, no views today


